Saturday, 21 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Hafiz Safwan
  4. Guldasta e Ashraf

Guldasta e Ashraf

گلدستۂ اشرف

تبلیغ کا کام قرنِ اول کا ہیرا ہے۔ 1857ء کے غدر میں ہندی مسلمانوں کے ہاتھ سے عزت و شرف کے مظاہر نکل جانے اور عامۃ الناس کے بے یار و مددگار ہوجانے کے بعد جب مصلحینِ امت نے کچھ کرنے کا حوصلہ پکڑا تو اُنھوں نے ادارے بناکر تعلیم و ہنر دینے کا سوچا۔ ایمان وہ مایا ہے جس نے دنیا بھر میں بکھری امتِ مسلمہ کو ایک قوم بنا رکھا ہے۔ قعرِ مُذلت میں گرتے جاتے اِن ہندی مسلمانوں کے جب ایمان پہ آ پڑی اور مشنریوں کی کوششوں سے مسلمان مسیحیت قبول کرنے لگے تو خالص حفاظتِ ایمان کی تحریکیں بھی شروع ہوئیں۔

خدا نے حضرت جی مولانا محمد الیاس کاندھلوی علیہ الرحمہ سے ایسا کام لیا جسے قبولِ عام نصیب ہوا۔ جون جون سے لوگ اِس تحریک کے ساتھ جڑتے چلے گئے، خدا نے دستگیری فرمائی اور اُن کی زندگیاں بدلیں۔ اِن زندگیوں کے بدلنے نے دنیا بھر میں ایک مثبت حرکت پیدا کر دی۔ تحریکِ ایمان کی اِس عالمگیر حرکت نے مایوسی اور یاس کو آس میں بدل دیا۔ جن نیک نہاد لوگوں نے اِس عالی نبوی کام کے لیے اپنی زندگیوں کو کھپا دیا وہ عزیمت کے راستے کے روشن پتھر ہیں۔ خدا اُن کی کاوشوں کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔

دعوت و تبلیغ کے اِن بڑے لوگوں کا مختصر سوانحی تذکرہ میں نے 2001ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب Words & Reflections of Molana Muhammad Ilyas کے آخر میں Personalities کے عنوان کے تحت کیا ہے۔ اِس سے پہلے انگریزی میں اِس تسلسل کے ساتھ اِس انداز میں تبلیغی اکابر کی سوانح کسی نے مرتَّب نہیں کی تھی چنانچہ مجھے یہ کام بغیر کوئی مثال سامنے ہوئے کرنا ٹھہرا۔ عام معلوم ہے کہ تبلیغ والوں میں لکھا پڑھی اور ریکارڈ رکھنے کو ایک طرح سے تقویٰ و للہیت کے خلاف سمجھا جاتا ہے اِس لیے مجھے بہت مشکلات پیش آئیں۔ اُن دنوں سوشل میڈیا سافٹ ویئر نہ تھے اور انٹرنیٹ بھی ای میل کی حد تک موجود تھا۔

گوگل ابھی آیا ہی نہ تھا اور براؤزنگ کے لیے انٹرنیٹ ایکسپلورر اور نیٹ سکیپ ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ کئی لوگوں سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے میں نے دنیا بھر میں ڈاک سے خطوط بھیجے اور ٹیلیفون اور فیکس استعمال کیا۔ بھائی افضل صاحب سلطان فونڈری والے، ڈاکٹر محمد نواز، قاضی عبدالمجید، مفتی زین العابدین، مولانا محمد احمد انصاری اور مولانا سعید احمد خاں مہاجر مکی رحمہمااللہ وغیرہ سے، نیز بھائی یوسف قریشی صاحب سے اور انڈیا میں مولانا نورالحسن راشد کاندھلوی سے، بھی بہت سی معلومات ملیں۔ کچھ اکابر کی بعض ضروری سوانحی معلومات مولانا علی میاں علیہ الرحمہ نے مجھے عندالملاقات لاہور میں عنایت فرمائیں۔

یہ کتاب مولانا محمد منظور نعمانی کی تالیف "ملفوظات" کا انگریزی ترجمہ ہے۔ اپنے ابا جان مرحوم پروفیسر عابد صدیق کے حکم پر میں نے جنابِ مولف کو اوائل 1997ء میں ترجمہ کرنے کی اجازت کے لیے خط لکھا تو اُنھوں نے شدید بیمار ہونے کے باوجود یہ اجازت عطا فرمائی۔ اُن کی وفات کے بعد اُن کے بیٹے مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی مقیم برطانیہ سے اِس ضمن میں ٹیلیفون اور خطوط کے ذریعے بہت رابطہ رہا۔ کتاب کی اشاعت کے بعد بھی اُنھوں نے اِس کی بہت تحسین فرمائی۔

آمدم برسرِ مطلب۔ چند سال پہلے سابق صوبائی وزیر برادرم ڈاکٹر عامر عبداللہ نے فیڈرل سیکرٹری پورٹس اینڈ شپنگ جناب حبیب اللہ خان خٹک سے سوشل میڈیا پر متعارف کرایا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اُنھوں نے مجھ ناکارہ کی سیکڑوں سوشل میڈیا پوسٹوں کے پرنٹ لے کر رکھے ہیں اور اُن کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ یہ ربط بڑھا اور میں اِسے خدا کا خاص انعام جانتا ہوں کہ اُن کے متعلقین میں میرا بھی شمار ہوتا ہے۔ من آنم کہ من دانم۔ یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے۔ اُنھوں نے اپنی مرتَّب کردہ کتابیں "آشفتہ بیانی" اور "زرتراشے" عنایت فرمائی تھیں۔ لیکن یہ بات اب پرانی ہوئی۔ آج اُنھوں نے "گلدستۂ اشرف" بھجوائی ہے۔ اِس کتاب میں اُنھوں نے مولانا محمد اشرف خان سلیمانی مرحوم جو پشاور یونیورسٹی میں ڈین تھے اور ازاں بعد 25 برس تک تبلیغی جماعت پشاور کے امیر رہے، کے نام آئے ہوئے مختلف مشاہیر کے خطوط کو مرتَّب کرکے شائع کیا ہے۔

اپنے ابتدائیے "تعارفِ کتاب" میں خٹک صاحب نے اِن خطوط کی کتابی صورت میں پیشکش کی بنیاد گزاری میں ہونے والی طویل اور پیچ در پیچ علمی محنت کا ذکر کیا ہے۔ ناخوانا الفاظ کی تفہیم کے لیے مختلف کتابوں رسالوں کا پڑھنا، اُن مقامات کی تفہیم جو دو افراد میں خط کتابت کے دوران میں صرف فریقین ہی کو ہوتی ہے، کسی جاری واقعہ کی موجودہ صورتِ حال پر ہونے والی گفتگو کا سیاق و سباق جاننا، فریقین میں متواتر خط کتابت ہونے کی صورت میں اپنی سہولت کے لیے بنا لی جانے والی اصطلاحات و مخففات کی تفہیم، مختلف لوگوں کے لیے استعمال کیے جانے والے honorifics جیسے بھائی جان، حکیم صاحب، وغیرہ، کے پیچھے موجود اصل لوگوں کے نام، مکاتیب میں جو عربی فارسی مصرعے اور اشعار ہیں اُن کے شاعروں کے ناموں کی تلاش اور اُن کے مطالب اردو میں لکھنا، وغیرہ، ایک لمبی فہرست ہے۔ اردو ادب میں خطوط کی تدوین کے سلسلے میں کئی اچھے کام سامنے آچکے ہیں۔ خٹک صاحب کا یہ کام علمی اعتبار سے اعلیٰ درجے کا ہے اور اِس فہرست میں ایک اچھا اضافہ ہے۔

خٹک صاحب نے تحدیث بالنعمۃ کے طور پر لکھا ہے کہ مولانا محمد اشرف خان سلیمانی کے نام مشاہیر کے اِن خطوط کی کتابی صورت میں پیشکش کا یہ کام اُن سے بہتر شاید کوئی نہ کرسکتا۔ مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ اِس حدیثِ نعمت میں محض اظہارِ احوالِ واقعی ہے جس میں تعلّی کا شائبہ بھی نہیں ہے۔ ایں کار از تو آید۔

مولانا محمد اشرف خان سلیمانی کا نام میرے لیے بہت محترم ہے۔ اُن کا نام میں نے اپنے والد مرحوم سے بھی کئی بار سنا۔ یہ تذکرہ میں اُن پر لکھے اپنے طویل مضمون "پروفیسر عابد صدیق: ایک ہیرا تراش کردار" میں کر چکا ہوں۔ جب میں نے متذکرۂ بالا کتاب "ملفوظات" کا ترجمہ کرنے کا ڈول ڈالا تو حوالہ جات کے لیے دعوت و تبلیغ سے متعلق کئی اہم کتابیں اور جریدوں کے خصوصی نمبر اکٹھے کیے تھے۔ اِن کتابوں اور جرائد کے خصوصی نمبروں میں مجھے مولانا محمد اشرف خان سلیمانی کے بعض مضامین ملے جن سے بے پایاں خوشی ہوئی۔

یہ تحریریں پڑھ کر مجھے اُن کے اسلوب کا اندازہ ہوا کہ اُن کا قلم صرف جذباتی اور مابعدالطبیعیاتی موضوعات پہ رواں نہ تھا بلکہ وہ نہایت قیمتی معلومات اور جزیات کو بھی تحقیقی چھلنی سے گزار کر علمی وقار کے ساتھ معرضِ تحریر میں لاتے ہیں۔ علی الخصوص حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی کی وفات پر لکھا اُن کا مضمون نہایت اعلیٰ درجے کی معلومات کا جامع ہے۔ مجھے آج ربع صدی بعد بھی خوب یاد ہے کہ مولانا محمد یوسف کے بارے میں کئی معلومات کا واحد ماخذ یہی مضمون تھا۔ اِس مضمون سے کچھ ایسی معلومات ملیں جو انڈیا کے علما کے لکھے مضامین میں بھی نہ تھیں۔ اُن کے مقالات کا مجموعہ "مقالاتِ اشرف" چار جلدوں میں شائع ہوچکا ہے۔

"گلدستۂ اشرف" میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مولانا عبدالباری ندوی اور مولانا محمد منظور نعمانی علیہماالرحمہ کے خطوط کے ساتھ ساتھ کئی اور اہم تحریریں بھی جمع ہیں۔ اِن کے یہاں تذکرے کے بجائے اِن کا کتاب ہی سے پڑھنا خیر و برکت اور معلومات کا سبب ہوگا۔ اِن خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا ممدوح کس قدر توجہ سے اپنے وقت اہم لوگوں سے ملاقات اور سرحد کے دونوں طرف شائع ہونے والے اہم جریدوں میں لکھنا جاری رکھتے تھے۔ اُن کی تحریروں میں تبلیغی اسفار کی یادداشتیں اور دیگر موضوعات شامل ہیں۔ بھارت کے اہم ترین قدیمی مذہبی جرائد میں اُن کی تحریروں کا تسلسل سے شائع ہونا اور وقت کے بڑے اکابر اہلِ دین سے رابطے میں رہنا اہم ہے۔ زیادہ اہم اور غیر معمولی بات یہ ہے کہ اہلِ تبلیغ، جن کے بارے میں یہ بات عام معلوم ہے کہ وہ لکھنے پڑھنے سے کچھ خاص علاقہ نہیں رکھتے، یہ کتاب اِس دیرینہ تاثر کی سختی سے نفی کر رہی ہے۔ تبلیغی جماعت کے ایک امیرِ شہر کا قلم کا دھنی ہونا بہرحال ایک غیر معمولی بات ہے۔

البتہ جو چیز مجھے بار بارآبدیدہ کر رہی ہے وہ اِس کتاب میں شامل ایک باب "تشریحات" ہے۔ یہ بالکل وہی چیز ہے جو میری متذکرۂ بالا کتاب Words & Reflections of Molana Muhammad Ilyas میں Personalities والا باب ہے۔ اِس میں اُن اکابر اہلِ دین کی سوانحی معلومات ہیں جن کا ذکر اِس کتاب میں آیا ہے۔ اِن میں مولانا محمد اشرف سلیمانی کے شیخ مولانا عبدالعزیز دعاجُو علیہ الرحمہ کے بارے میں بھی تفصیلی مضمون ہے۔ اُن کا انگریزی میں مختصر سا سوانحی خاکہ میں نے اپنی کتاب میں شامل کیا تھا۔ یہ خاکہ میرے والد مرحوم نے لکھوایا تھا۔ یاد پڑتا ہے کہ یہ خاکہ لکھتے وقت اُن کے بارے میں ایک مختصر سا کتابچہ رائے ونڈ کے کسی کتب فروش ہی سے ہمدست ہوا تھا۔ خٹک صاحب کی یہ کتاب پڑھ کر مولانا عبدالعزیز دعاجُو علیہ الرحمہ کے لیے بھی دعائیں نکل رہی ہیں۔

بڑی مدت کے بعد ایک ایسی کتاب پڑھی جس میں روایتی عالمانہ اسلوب میں ایسے پاکان کا ذکرِ خیر ہے جن کا بدل زمانے نے پیدا نہیں کیا۔ جناب حبیب اللہ خان خٹک نے یہ تذکرہ منصۂ شہود پر لاکر اپنے لیے بقائے دوام کے دربار میں نشست پا لی ہے۔ خوشا نصیب۔

رکیں گے تجھ سے ملنے تک یہیں ہم
سمجھتے ہیں کہ دنیا ہے سرائے

Check Also

Eid Ki Khushiyan Aur Mohabbat Ka Paigham

By Nouman Ali Bhatti