Wednesday, 04 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Fatima Faiz
  4. Tahajud Dilon Ka Sakoon

Tahajud Dilon Ka Sakoon

تہجد دلوں کا سکوں

تہجد کی نماز صرف ایک عبادت نہیں بلکہ روح کی غذا اور پریشان حال دلوں کے لیے سکون کا وہ خزانہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عطا کیا ہے۔ جب دنیا گہری نیند کے آغوش میں ہوتی ہے اور چاروں طرف خاموشی کا راج ہوتا ہے، اس وقت اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہونا انسان کو وہ قلبی اطمینان بخشتا ہے جو دنیا کی کسی اور آسائش میں ممکن نہیں۔

تہجد کا وقت قبولیت کا وقت ہے۔ اس وقت بندہ اور اس کا خالق ایک دوسرے کے نہایت قریب ہوتے ہیں۔ دن کے ہنگاموں سے دور، جب آپ مصلے پر بیٹھ کر اپنے آنسوؤں کے ذریعے اللہ سے باتیں کرتے ہیں، تو دل کا بوجھ ہلکا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ وہ لمحات ہیں جہاں دکھوں کا مداوا ہوتا ہے اور بکھرے ہوئے حوصلے پھر سے یکجا ہوتے ہیں۔

​ تہجد پڑھنے والا شخص خود کو اکیلا محسوس نہیں کرتا، اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ کوئی ہے جو اس کی سسکیاں سن رہا ہے۔ ​جب انسان مایوسی کے اندھیروں میں گھرا ہو، تو تہجد کا نور اسے نئی امید اور حوصلہ عطا کرتا ہے۔

یہ وقت اللہ سے مانگنے کا بہترین وقت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ​"ہمارا رب تبارک وتعالیٰ ہر رات آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے، جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، تو اللہ فرماتا ہے: کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں؟" (صحیح بخاری: 1145)

تہجد محض ایک نفل نماز نہیں بلکہ بندے اور خالق کے درمیان براہِ راست رابطے کا وہ پل ہے جہاں دلوں کو اطمینان، روح کو پاکیزگی اور دعاؤں کو قبولیت کی سند ملتی ہے۔ یہ رات کے سناٹے میں اللہ کی رحمت کو پکارنے اور اپنی پریشانیوں کا بوجھ اس کے سپرد کر دینے کا بہترین وقت ہے۔ جس نے تہجد کو تھام لیا، اسے نہ صرف دنیا کے اضطراب سے نجات مل جاتی ہے بلکہ اس کی زندگی اور چہرے پر وہ نور آجاتا ہے جو صرف قربِ الٰہی سے ہی ممکن ہے۔

Check Also

Moscow Se Makka (22)

By Mojahid Mirza