Wednesday, 28 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Fatima Faiz
  4. Lamha e Fikria

Lamha e Fikria

لمحۂ فکریہ

​ذرا رکیے! تھوڑی دیر کے لیے اپنی سانسوں کی ترتیب پر غور کیجیے اور سوچیے کہ ہم سب کس طرف اندھا دھند بھاگے جا رہے ہیں؟ صبح سے شام تک کی یہ لامتناہی دوڑ، یہ بے سکون مصروفیت اور مادی کامیابیوں کا جنون، کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اس تیز رفتاری میں ہم دراصل اپنی منزلِ مقصود یعنی 'موت' کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں؟

​ہماری مثال اس مسافر جیسی ہے جو ٹرین کی کھڑکی سے باہر بدلتے مناظر میں اتنا کھو گیا ہے کہ اسے یہ احساس ہی نہیں رہا کہ ہر گزرتا لمحہ اسے آخری اسٹیشن کے قریب کر رہا ہے۔ ہم نے خود کو اس خوش فہمی میں مبتلا کر رکھا ہے کہ دن میں چند منٹ نکال کر عبادت کی چند رسمیں ادا کر لینا ہی کافی ہے اور شاید یہی وہ ڈھال ہے جو ہمیں روزِ قیامت کے کڑے سوالات سے بچا لے گی۔

​لیکن یاد رکھیے، حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے کہ قیامت کے دن کسی انسان کو اس وقت تک اپنے سامنے سے ہلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جب تک وہ ان پانچ بنیادی سوالات کا جواب نہ دے دے جن کا تعلق صرف چند لمحوں کی عبادت سے نہیں، بلکہ ہماری پوری زندگی کے ایک ایک پل سے ہے۔ وہ سوالات جو ہماری جوانی، ہمارے مال کے ذرائع اور ہمارے علم کے عملی نفاذ کا حساب مانگیں گے۔

​عمر کہاں گزاری؟ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تمہیں جو زندگی دی گئی تھی، اسے کن کاموں میں صرف کیا؟ کیا وہ اللہ کی اطاعت میں گزری یا نافرمانی میں؟ ​جوانی کیسے بسر کی؟ جوانی انسان کی توانائی کا عروج ہوتی ہے۔ اس قیمتی وقت کو نیکی اور عبادت میں لگایا یا غفلت اور عیاشی میں؟

​مال کہاں سے کمایا؟ رزق کے ذرائع کیا تھے؟ کیا وہ حلال تھے یا حرام؟ ​مال کہاں خرچ کیا؟ جو دولت عطا کی گئی تھی، اسے کن راستوں پر لٹایا؟ کیا اس میں غریبوں کا حق (زکوٰۃ و صدقات) شامل تھا؟ ​علم پر کتنا عمل کیا؟ جتنا دین کا علم حاصل کیا، اس پر خود کتنا عمل کیا؟

یہ پانچ سوالات دراصل ہماری زندگی کا وہ امتحان ہیں جس سے کسی کو مفر نہیں۔ ہم دنیا کی آسائشوں میں اتنے مگن ہو چکے ہیں کہ اس سفر کے اختتام کو بھول بیٹھے ہیں۔ ذرا سوچیے، جب اللہ کے سامنے پیشی ہوگی تو کیا ہمارے پاس اپنی جوانی، اپنی کمائی اور اپنے وقت کا کوئی معتبر جواب ہوگا؟

​موت کا وقت مقرر ہے، لیکن توبہ اور اصلاح کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس اندھی دوڑ سے نکل کر اپنی زندگی کا رخ درست کریں۔ آج ہی اپنی ترجیحات بدلیں، رزقِ حلال کی فکر کریں اور اپنے علم کو عمل کے سانچے میں ڈھالیں۔ یاد رکھیے، اصل کامیابی دنیا سمیٹنے میں نہیں بلکہ اللہ کو راضی کرنے میں ہے، تاکہ جب ہم اپنے خالق کے سامنے کھڑے ہوں تو سرخرو ہو سکیں۔

Check Also

Dr. Aafia Siddiqui Ki Rehai: Mumkinat, Rukawaten Aur Riyasti Sanjeedgi

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi