Dada Jan Ki Naseehat Aur Nanhe Rozadar
دادا جان کی نصیحت اور ننھے روزے دار
شعبان کا چاند نظر آتے ہی فیض صاحب کے چہرے پر ایک عجیب سی رونق آگئی۔ وہ جانتے تھے کہ یہ مہینہ صرف گزرنے کے لیے نہیں، بلکہ آنے والے معزز مہمان "رمضان" کے استقبال کی تیاری کا نام ہے۔ فیض صاحب نے اپنے تینوں پوتوں، اویس، عبداللہ اور ابراہیم کو اپنے پاس بلایا۔
وہ صحن میں بچھی چارپائی پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور بچوں کو اپنے گرد بٹھاتے ہوئے شفقت سے بولے: "میرے پیارے بچو! رمضان کا مہینہ ایک ایسی سیل (Sale) کی طرح ہے جہاں اللہ پاک اپنی رحمتیں اور مغفرتیں مفت بانٹتا ہے۔ لیکن اس سیل سے فائدہ وہی اٹھاتا ہے جو پہلے سے تیاری کرکے رکھے۔ ہمیں اپنے جسم کے ساتھ ساتھ اپنی زبان کو جھوٹ سے اور دل کو کینے سے پاک کرنا ہوگا تاکہ جب رمضان آئے تو ہم اس کی برکتیں سمیٹنے کے لیے بالکل تیار ہوں"۔
دادا جان کی یہ باتیں سن کر بچوں کے دلوں میں ایک نیا جذبہ پیدا ہوا۔ سب سے بڑے پوتے اویس نے ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے فوراً ایک ڈائری نکالی اور "نیکیوں کا چارٹ" بنانا شروع کر دیا تاکہ سب بھائی دیکھ سکیں کہ انہوں نے کتنی نمازیں وقت پر ادا کیں۔
فیض صاحب نے عبداللہ کو ایک خوبصورت لکڑی کا باکس بنا کر دیا اور کہا، "بیٹا! اس رمضان ہم نے اپنے رزق میں دوسروں کو بھی شامل کرنا ہے۔ آپ اپنے جیب خرچ سے کچھ پیسے نکال کر روزانہ اس میں جمع کریں تاکہ رمضان میں اسے مستحقین پر صدقہ کیا جا سکے"۔ جب عبداللہ نے پوچھا کہ اس کا کیا فائدہ ہوگا، تو دادا جان نے صدقے کا اجر بتاتے ہوئے کہا، "بیٹا! صدقہ مصیبتوں کو ٹالتا ہے اور اللہ اس سے مال میں برکت ڈال دیتا ہے، جیسے ایک بیج سے پورا درخت اگتا ہے"۔ عبداللہ یہ سن کر بہت پرجوش ہوا اور اسی وقت اپنی جیب سے پہلا سکہ باکس میں ڈال دیا۔
پھر دادا جان نے ننھے ابراہیم کو اپنے پاس بٹھایا اور اسے رنگین کاغذات پر لکھی ہوئی چھوٹی چھوٹی دعائیں دیں۔ انہوں نے کہا، "ابراہیم بیٹا! یہ آپ کا کام ہے کہ آپ ان دعاؤں کو یاد کریں تاکہ رمضان میں آپ سحر و افطار کے وقت اللہ سے مانگ سکیں"۔ دادا جان نے اسے بتایا کہ رمضان میں دعا مانگنے کا اجر کتنا زیادہ ہے اور اللہ پاک روزے دار کی دعا کبھی رد نہیں کرتا۔ ننھا ابراہیم بڑی توجہ سے ان دعاؤں کو دیکھنے لگا اور ابھی سے انہیں دہرانا شروع کر دیا۔
جیسے ہی مسجد میں اعلان ہوا کہ "رمضان کا چاند نظر آگیا ہے"۔ یہ سنتے ہی فیض صاحب کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے، انہوں نے ہاتھ اٹھا کر سب کے لیے دعا کی اور پھر اپنے پوتوں کی طرف دیکھ کر بولے: "میرے پیارے بچو! یاد رکھو، اصل تیاری وہ نہیں تھی جو ہم نے اس پورے مہینے میں کی، بلکہ اصل کامیابی وہ ہے جو ہم اس رمضان کے ایک ایک لمحے کو نیکیوں میں گزار کر حاصل کریں گے۔ آپ کی یہ چھوٹی چھوٹی کوششیں اللہ کے ہاں بہت بڑی ہیں"۔
بچوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما اور اپنے دادا جان سے لپٹ گئے۔ اس رات جب وہ سونے کے لیے لیٹے، تو ان کے دلوں میں صرف جوش ہی نہیں بلکہ ایک ایسا اطمینان تھا جو صرف عبادت کی تیاری کرنے والوں کو ہی نصیب ہوتا ہے۔ گھر کی فضا میں تلاوت کی آواز گونج رہی تھی، گویا ہر دیوار پکار پکار کر کہہ رہی ہو: "خوش آمدید، اے رمضان!"

