Tuesday, 07 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Anila Zulfiqar
  4. Tehzeebi Bazgasht: Veeda Ahmed Ka Fanni Safar

Tehzeebi Bazgasht: Veeda Ahmed Ka Fanni Safar

تہذیبی بازگشت: ویِدا احمد کا فنی سفر

فن کی بصری زبان ہمیشہ سوچ اور مشاہدہ کے ساتھ کسی نہ کسی نسبت، وابستگی اور تعلق سے جڑی ہوتی ہے۔ فن کار کبھی بهی اپنی سرزمین، تہذیب اور یادداشت سے الگ ہو کر تخلیق نہیں کرسکتا۔ سرزمین اور تہذیب اس کے لاشعور میں سانس لیتے ہیں اور اس کے رنگوں، ساختوں اور موضوعات میں ڈھل کر منظر عام پر آتے ہیں۔ یہی رشتہ فن کو مخصوص شناخت میں تبدیل کرتا ہے۔ مایہ ناز مصورہ ویدا احمد کا فن وابستگی اور شناخت کے اسی تسلسل کا مظہر ہے۔ انہوں نے مغربی دنیا میں رہ کر کام کیا اور عالمی آرٹ حلقوں میں اپنی پہچان بنائی۔

ویڈا احمد نے ابتدائی تعلیم کانوینٹ اسکول لاھور سے حاصل کی۔ آپ کو بچپن ہی سے ڈرائنگ اور رنگوں سے خاص دلچسپی تھی۔ کالج کے زمانے میں یہ شوق باقاعدہ شعور میں ڈھلنے لگا اور انہوں نے آرٹ کو بھرپور انداز میں سیکھنے کی لیے پنجاب یونیورسٹی کے فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ میں دا خلہ لیا اور ایم۔ ایف۔ اے کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کی، جہاں انہیں ڈرائنگ، کمپوزیشن اور آرٹ کی تاریخ کا گہرا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔

ویِدا کو فنِ اداکاری کا گہرا شوق تھا اور انہوں نے اپنی اداکاری کے ہنر کا بھی مظاہرہ کیا۔ انیس سو ستر کی دہائی میں پی ٹی وی کے پروگرام "ٹال مٹول" میں ویِدا صلاح الدین ایک نمایاں رکنِ کاسٹ تھیں۔

جب ویِدا نے فائن آرٹس کے شعبےمیں داخلہ لیا، تو "آل پاکستان طلبہ اداکاری مقابلے" میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اس مقابلے میں جج سلیمہ ہاشمی تھیں۔ شعیب ہاشمی اور سلیمہ ہاشمی نے آپ کو"ٹال مٹول" میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ یہ ستر کی دہائی کے ابتدائی سال تھے۔

تاہم، آپ کو ٹیلی ویژن پر کام کرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے اپنے والد کو بہت قائل کرنا پڑا۔ جب انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ وہ صرف شعیب ہاشمی کے ساتھ ہی اداکاری کریں گی، تب جا کر انہوں نے ویِدا کو پی ٹی وی پر کام کرنے کی اجازت دی۔ یہ ایک شاندار تجربہ تھا۔

ویِدا نے اسٹیج پر شعبہ انگریزی کے ساتھ ڈراموں میں بھی بطور مرکزی اداکارہ کام کیا۔ ٹیلی ویژن پر آپ نے صرف "ٹال مٹول" میں کام کیا اور اس کی تمام اقساط میں حصہ لیا۔۔ آپ اس وقت پی ٹی وی کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے اداکاروں کے گروپ میں شامل تھیں، جن میں نیشنل کالج برائے آرٹس اور گورنمنٹ کالج لاہور کے طلبہ شامل تھے۔ ویِدا فائن آرٹس کے شعبے کی واحد نمائندہ تھیں۔ یہ ایک نہایت مزاحیہ اور طنزیہ پروگرام تھا، جس میں مختصراسکیچز شامل ہوتے تھے۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ لندن منتقل ہوگئیں۔ لندن میں قیام کے دوران انہیں مغربی آرٹ کی روایت، گیلری کلچر اور بین الاقوامی نمائشوں کا وسیع تجربہ حاصل ہوا۔ یورپی مصوری، جدیدیت اور مابعد جدید رجحانات سے براہِ راست مکالمہ ان کے فنی شعور میں وسعت کا باعث بنا۔ جہاں انہوں نے اپنی فنّی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے Ruskin School of Art (یونیورسٹی آف آکسفورڈ) سے مزید آرٹ کی تعلیم حاصل کی۔۔ بعد ازاں انہوں نے 2013 میں برطانیہ سے پی ایچ ڈی مکمل کی، جس کا موضوع "روایت پر مبنی تخلیق: معاصر فن میں فارسی، مغل اور پہاڑی نقش و نگار کے عناصر کی پہچان اور اہمیت" تھا۔

ویِدا نے روایتی منی ایچر مصوری میں مہارت حاصل کی ہے اور اسے بڑی مہارت اور حساسیت کے ساتھ استعمال کرتی ہیں۔ ان کے کام کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اشیاء کو آرائشی انداز میں پیش کرتی ہیں اور انہیں سنہرے رنگ سے نکھرا جاتا ہے۔

ویِدا احمد کی فنی پہچان صرف ان کے فن پاروں تک محدود نہیں بلکہ وہ مختلف ممالک میں لیکچرز اور ورکشاپس کے ذریعے روایتی مصوری کی تکنیکوں کو فروغ دیتی ہیں۔ ان کا خاص زور اس بات پر ہے کہ نئی نسل ان قدیم طریقوں جیسے رنگ پیسنا اور کاغذ کے انتحاب کے بارے میں آ گاہ ہو۔ اپنی پی ایچ ڈی کی تحقیق کے دوران پرنسز اسکول آف ٹریڈیشنل آرٹس میں، وہ کہتیں ہیں کہ

"میں نے کئی پرانے نسخوں کی تکنیک پر تجربہ کیا، کیونکہ میں نے کئی سالوں تک اساتذہ اور روایتی فنکاروں کے زیرِ تربیت کام کیا۔ یہ تحقیق مجھے ترکی، ہندوستان۔ پاکستان اور مسلم دنیا کے دیگر حصوں تک لے گئی اور اساتذہ کی رہنمائی میں، میں مختلف ثقافتوں سے علم حاصل کر سکی، جو آج بھی پرانی روایات کو برقرار رکھتی ہیں۔

"اگرچہ میں بنیادی طور پر کاغذ پر کام کرتی ہوں، لیکن یہ بھی بہت اہم تھا کہ صحیح "سائز" اور قسم کا انتخاب کیا جائے تاکہ سطح ہموار ہو اور رنگ آسانی سے glide کر سکے۔ اس طرح ایران، ترکی اور ہندوستان۔ پاکستان کے مختلف طریقے آزما کر یہ طے کیا کہ کون سا طریقہ میرے کام کے لیے سب سے بہتر ہے۔

میں نے ان رنگوں کو اپنے نئے کاموں میں شامل کیا، خاص طور پر ہاتھ سے تیار کردہ رنگوں، جن میں سونے اور لاپیس لازولی کا ذکر اہم ہے تاکہ پرانے رنگوں کی ممکنہ صلاحیت اور علامتی اہمیت کو دوبارہ دریافت کیا جا سکے۔ قدرتی رنگوں کے ساتھ کام کرنا، جو زمین کی نباتات، حیوانات، معدنیات اور دھاتوں سے حاصل اور ہاتھ سے پیسے گئے تھے، ایک روشن تجربہ تھا، کیونکہ اس خاص تعلق نے مجھے ماخذ (Source) کے قریب تر کیا"۔

ان کے موضوعات، حسیت، مشرقی آرائشی عناصر اور علامتی انداز اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے مغرب میں رہتے ہوئے بھی اپنی فکری اساس کو مشرقی روایت سے منقطع نہیں ہونے دیا۔ انکافن روایتی منی ایچر مصوری اور مغربی فنِ تعلیم کے درمیان ایک منفرد ربط قائم کرتا ہے۔

ویِدا احمد نے پاکستان اور برطانیہ دونوں میں وسیع پیمانے پر نمائشیں کیں۔ پاکستان میں ان کے کام کو قومی شناخت اور ثقافتی ورثے کے تسلسل کے طور پر سراہا گیا، جبکہ برطانیہ میں انہیں ایک ثقافتی سفیر کے طور پر دیکھا گیا۔ جو اسلامی فنون کو عالمی سطح پر متعارف کروا رہی ہیں۔ ان کی نمایاں نمائشوں میں Barbican Centre میں 1994 کی سولو نمائش اور Princes School of Traditional Arts میں 2017 کی نمائش "Echoes of Contemplation" شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ Chelsea Art Society کی رکن بھی ہیں۔ انہیں فنی صلاحیتوں کے اعتراف پرکئی ایوارڈز اور انعامات ملے ہیں۔

مشرق اور مغرب کے درمیان یہ تخلیقی مکالمہ ہمیں دیگر فنکاروں کی یاد بھی دلاتا ہے۔ مثال کے طور پر امریتا شیر گل نے پیرس میں تعلیم حاصل کی، مغربی اسلوب سے استفادہ کیا، لیکن ان کی مصوری کا اصل موضوع ہندوستانی دیہی زندگی اور مقامی چہرے رہے۔ اسی طرح عبدالرحمن چغتائی نے مغل اور ایرانی مصوری کی روایت کو جدید انداز میں پیش کرکے اپنی قومی شناخت کو مضبوط کیا۔ عالمی سطح پر بھی ہمیں ایسی مثالیں ملتی ہیں۔ فریدا کاہلو نے یورپی اثرات کے باوجود میکسیکن ثقافت، لباس اور لوک علامات کو اپنی تصویروں کا مرکزی استعارہ بنایا۔ اسی طرح شازیہ سکندر نے امریکہ میں رہ کر مغل منی ایچر کی روایت کو معاصر تناظر میں پیش کیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جغرافیہ بدلنے سے شناخت مٹ نہیں جاتی بلکہ نئے تناظر میں اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔

فن کار کی وابستگی اس کی طاقت ہوتی ہے، کمزوری نہیں۔ عالمی سطح پر شناخت بنانے کے باوجود اپنی مٹی سے جڑا رہنا ہی اس کی انفرادیت کو محفوظ رکھتا ہے۔ ویڈا احمد کی فنی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک مصور چاہے کسی بھی ملک میں رہے، اس کی اصل تخلیقی توانائی اس کی سرزمین، اس کی یادداشت اور اس کی ثقافتی وراثت سے وابستہ رہتی ہے۔ وہ ایک ایسی فنکارہ ہیں جو نہ صرف ماضی کی روایات کو محفوظ رکھتی ہیں بلکہ انہیں نئے تناظر میں پیش بھی کرتی ہیں۔ ان کا فن ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ روایت جامد نہیں بلکہ ایک زندہ عمل ہے، جسے ہر دور میں نئے معنی دیے جا سکتے ہیں۔

About Dr. Anila Zulfiqar

Dr. Anila Zulfiqar is a painter, fiction writer, and art teacher. She is an assistant professor in the Department of Fine Arts, University of the Punjab, Lahore. Her creative work is based on the cultural heritage of Lahore, women's experiences, and visual language. She has participated in art exhibitions at national and international levels. Fiction writing and critical essays on art are also important means of expression for her.

Check Also

Makran Medical College Ka Naya Ehad

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi