Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Anila Zulfiqar
  4. Lahore Aur Fan e Kitab Sazi: Tareekh, Riwayat Aur Tajdeed

Lahore Aur Fan e Kitab Sazi: Tareekh, Riwayat Aur Tajdeed

لاہور اور فنِ کتاب سازی: تاریخ، روایت اور تجدید

کتاب انسانی علم، تہذیب اور فکری روایت کی ایک اہم علامت ہے۔ ابتدا میں علم کی منتقلی زبانی روایت کے ذریعے ہوتی تھی، مگر وقت کے ساتھ تحریر، قلمی مخطوطات، کاتبوں کی محنت اور جلد بندی کے فن نے کتاب کو نہ صرف محفوظ کیا بلکہ اسے ایک باوقار علمی و ثقافتی فن کے طور پرمتعارف کروایا۔

کتاب سازی کی شروعات جنوبی ایشیا میں زمانہ قدیم سے ہوئی۔ پانچویں قبل مسیح صدی میں لوگ علم اور معلومات کو محفوظ کرنے کے لیے قدرتی مواد استعمال کرتے تھے، جیسے تال پاترا (کھجور کے پتے) اور بھوج پتر (برچ کی چھال)۔ ان صفحات کو آج کی طرح کتاب کی صورت نہیں دی جاتی تھی، بلکہ انہیں ایک ترتیب میں رکھ کر دھاگوں سے باندھ دیا جاتا اور لکڑی کے تختوں کے درمیان محفوظ کیا جاتا۔ اس کا مقصد نہ صرف اہم تحریروں کی حفاظت کرنا تھا بلکہ انہیں آسانی سے کہیں بھی لے جانے اور نقل کرنے کے قابل بنانا بھی تھا۔ یوں ابتدائی کتاب سازی علم کے تحفظ اور اس کی رسائی کے لیے ایک ضروری فن بن گئی۔ برصغیر میں سماجی اور مذہبی رسومات ہمیشہ نفاست اور جمالیاتی ذوق کے ساتھ ادا کی گئیں اور انہیں فن کا حصہ سمجھا گیا۔ کتاب سازی اور جلد بندی روایتی فن کی نمایاں مثالیں ہیں۔

کتاب انسانی تہذیب کی ایک بنیادی علمی ایجاد ہے ہر دور میں کتاب کی ساخت، مواد اور تیاری کے طریقے اس عہد کی فکری، سماجی اور ثقافتی ضروریات کی عکاسی کرتے ہیں۔ کاغذ کی ایجاد اور اس کے فروغ نے کتاب بندی کے فن کو ایک نیا رخ دیا۔ کاغذ سازی کی تکنیک چین سے وسطی ایشیا، ایران اور پھر جنوبی ایشیا پہنچی۔ اسلامی دور میں، خصوصاً دہلی سلطنت اور مغلیہ عہد میں کتاب بندی ایک نفیس فن کے طور پرمنظرعام پر آئی۔ مغلیہ دور میں کتاب بندی کا فن اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ اس دور میں کتابوں کی جلدیں عموماً چمڑے سے تیار کی جاتی تھیں، جن پر نقش و نگار، سونے کا کام، دباؤ کی نقش کاری اور سرورق پر تہ دار تختیاں بنائی جاتی تھیں۔ کتاب بندی کا عمل خوش نویسی اور مصوری کے ساتھ مربوط تھا، جس سے مخطوطہ ایک مکمل فنی اور علمی شے بن جاتا تھا۔

برصغیر میں کتاب کی جلد سازی کا فن اہم علمی اور ثقافتی مراکز سے وابستہ رہا ہے۔ لاہور، دہلی، ملتان، کشمیر اور دکن ایسے نمایاں شہر تھے جہاں قلمی نسخوں کی کتابت اور جلد بندی کو فروغ حاصل ہوا۔ مغلیہ دور میں لاہور شاہی اور نجی کتب خانوں کی وجہ سے جلد سازی کا ایک اہم مرکز تھا، جہاں کاتب، مصور اور صحاف مل کر کام کرتے تھے۔ دہلی علمی اور انتظامی مرکز ہونے کے باعث دینی، ادبی اور تعلیمی کتب کی جلد سازی کے لیے مشہور رہا۔ ملتان اور کشمیر میں مذہبی مراکز کی موجودگی نے قلمی نسخوں کی تیاری اور جلد بندی کو تقویت دی، جبکہ دکن کی ریاستوں میں فارسی اثرات کے تحت آرائشی اور نفیس جلد سازی کی روایت پروان چڑھی۔

محققین کے مطابق لاہور میں کتاب سازی کی فنی روایت گیارہویں اور بارہویں صدی سے بغداد کی علمی تہذیب سے جڑی ہوئی ہے۔ مغلیہ دور میں یہاں شاہی کتب خانے قائم تھے جہاں کاتب، مصور اور صحاف مل کر کام کرتے تھے۔ مغلیہ سلطنت کے عروج میں اندرونِ لاہور ثقافت و تعلیم کا گہوارہ تھا۔ اہلِ علم و فن نے قلعہ اور مسجدوں کے گرد محلے آباد کیے۔ محلہ صحافاں میں نسخ نویسوں کی بڑی تعداد تھی اور یہاں طبع و کتابت کا کام کیا جاتا تھا۔ اس محلے کے نام سے واضح ہے کہ یہ علاقے صَحاف یعنی نسخہ نویس و کتاب فروشوں سے وابستہ تھے۔ تاریخی متون سے معلوم ہوتا ہے کہ میاں محمد بخش صحاف کے کارخانے میں 25 سے زائد کاتب ملازم تھے اور ان کی کتابیں پوری پنجاب کے ساتھ ساتھ ایران و خراسان تک برآمد ہوتی تھیں۔

مغلیہ دور میں خاص کر دہلی گیٹ کے قریب وزیر خان مسجد کے آس پاس شاہی مخطوطوں کی تزئین و آرائش، خطاطی اور چرمی جلد بندی کے کاریگر کام کرتے تھے۔ یہاں تیار ہونےوالی "لاہوری جلد بند" کتابیں بہترین تصور کی جاتی تھیں۔ اس قدیم روایت کو لاہوری کاریگروں نے کئی صدیوں زندہ کیے رکھا، جو دھاگوں اور ہاتھ کے سلاخوں سے کتابیں جلد کرتے۔

لاہور کے قدیم اندرون شہر میں بھاٹی گیٹ کے اندر واقع ایک چھوٹی سی گلی کوچہ کاغذان کے نام سے مشہور ہے۔ روایتی طور پر لاہور میں پہلے کاغذ سازی کا کام نہیں ہوتا تھا بلکہ کاغذ کشمیر اور سیالکوٹ سے منگوایا جاتا تھا۔ 1870ء کی دہائی میں حضرت سید غلام محی الدّین بخاری (فقیر خاندان) نے اس گلی میں اپنا مدرسہ و مطب قائم کیا اور کشمیر و سیالکوٹ سے کاغذ سازی کے ہنرمند کاریگروں کو بلا کر آباد کیا۔ اسی سبب سے پہلی بار یہاں باقاعدہ کاغذ سازی، طباعت اور کتاب آرائش کا کام شروع ہوا۔ اس تاریخ ساز قدم کے بعد یہ گلی "کوچہ کاغذان" کہلائی۔ بھاٹی گیٹ اور کوچہ کاغذان نے لاہور کی ادبی و علمی دنیا میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بہت سے نامور شعرا و ادیب اسی دروازے کے اندرون میں رہتے اور کام کرتے رہے ہیں۔ غلام محی الدّین نے پنجاب کے مسلمانوں کے لیے سبق آموز اور دینی کتب چھاپنے کا بیڑا اٹھایا اور پہلا "پبلشنگ ہاؤس" قائم کیا۔ انہوں نے پرانے مسودات اور مشہور کتب کی دوبارہ تحریر کروائی اور ان کی کتابت کروا کر بچوں اور بڑوں میں مفت تقسیم کی۔ اس سے نہ صرف کتب بینی فروغ پائی بلکہ لکھائی و کتابت کے فن کو بھی فروغ ملا۔

انگریزوں کے دور میں لاہور نے جدید طباعت و جلد بندی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انیسویں صدی کے آخر تک نصابی کتب کی اشاعت کے لیے بڑی تعداد میں پرنٹنگ پریس قائم ہوئے۔ مہارت یافتہ کاریگر کتابوں کو مشینی اور ہاتھ کی مدد سے اعلیٰ معیار سے تیار کرتے تھے، یوں کتاب بندی اب صرف روایت نہیں بلکہ صنعتی فن بن گئی تھی۔

موجودہ دور میں کتاب بندی کے فن کی اہمیت اور اس خطے کے روایتی و ثقافتی ورثے کو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فنونِ لطیفہ، کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کی اسسٹنٹ پروفیسر آمنہ چیمہ نے اپنی فنی کوششوں سے اجاگر کیا۔ انہوں نے کتاب بندی کی روایتی تکنیکوں میں مہارت حاصل کی اور اس فن کو نمایاں کرنے کے لیے تعلیمی ورکشاپس اور نمائشیں منعقد کیں۔

برصغیر کی تاریخ میں مختلف سماجی اور سیاسی سرگرمیاں فنی جمالیاتی اظہار اور احساسات سے وابستہ رہی ہیں۔ ان فنون نے ثقافتی تنوع کو فروغ دیا اور اسے نمایاں کیا، مگر جدید دور میں معاشرتی بے توجہی اور استادانہ سرپرستی کے فقدان کے باعث بہت سے روایتی فنون زوال پذیر ہو رہے ہیں۔ عصرِ حاضر میں ضروری ہے کہ برصغیر کے ان فنون کو جدید فنی اظہار کے ساتھ ہم آہنگ کرکے ازسرِنو تشکیل دیا جائے۔

ولیم مورس، جو کرافٹ موومنٹ کے بانی تصور کیے جاتے ہیں، برصغیر اور جنوبی ایشیا کے علاقائی و روایتی فنی اظہار سے متاثر تھے، لیکن بدقسمتی سے ہماری نئی نسل ان تہذیبی وراثتوں سے ناواقف ہے۔ آرٹ کے اداروں کو چاہیے کہ برصغیر کے ان فنون کو نمایاں کریں، کیونکہ فن ہمیشہ اپنی جڑوں سے وابستہ رہتا ہے۔ کتاب بندی کے فن کو نمایاں کرنے کے حوالے سے آمنہ چیمہ کی کاوشیں نہایت قابلِ تحسین ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فنونِ لطیفہ کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن نے کتاب بندی کی روایت کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ آمنہ سرفراز چیمہ اپنی تحقیق و تخلیقی کام میں کتاب کے روایتی اور جدید دونوں پہلوؤں کا امتزاج کرتی ہیں۔ آمنہ چیمہ نے نیشنل کالج آف آرٹس، پاکستان اسکول آف فیشن ڈیزائن اور لاہور کے عجائب گھرمیں کتاب بندی، کے موضوع پر ورکشاپس کروایئں جس میں شرکاء کو کتاب بندی کے تاریخی اور فنی نکات سکھائے گئے۔

اس طرح پنجاب یونیورسٹی نے نصابی کام کے علاوہ عملی سطح پر بھی کتاب بندی کی تخلیقی ترویج کی راہیں ہموار کیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قدیم اور نئے فن کے اسلوب کی ہم ا ہنگی کے ساتھ روایتی فنی اقدار کو نہ صرف محفوظ کریں بلکہ آنے والی نسل کو اپنے شاندار روایتی فن سے آگاہ کریں اور اسے ترقی دینے کا موقع فراہم کریں۔ اس طرح روایتی علاقائی فن نہ صرف زندہ رہے گا بلکہ نئی نسل کو تخلیقی سوچ اور ثقافتی شعور سے آگاہ کرے گا۔

About Dr. Anila Zulfiqar

Dr. Anila Zulfiqar is a painter, fiction writer, and art teacher. She is an assistant professor in the Department of Fine Arts, University of the Punjab, Lahore. Her creative work is based on the cultural heritage of Lahore, women's experiences, and visual language. She has participated in art exhibitions at national and international levels. Fiction writing and critical essays on art are also important means of expression for her.

Check Also

Syed Kashif Raza

By Mubashir Ali Zaidi