Wednesday, 04 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Abrar Majid
  4. Maryam Ki Guddi Ab Bulandion Par Hai

Maryam Ki Guddi Ab Bulandion Par Hai

مریم کی گُڈی اب بلندیوں پر ہے

مریم نہ صرف ایک بہتریں ایڈمنسٹریٹر ثابت ہوئی ہیں بلکہ ان کے دل میں عوام کا درد ان کے چہرے پر چھلکتا ہوا دکھائی دیتا ہے جس کی دلیل ان کے اقتدار کے دو سالوں کا ایک ایک لمحہ بذات خود ہے۔ وہ خواہ شریف شہریوں کی عزت و مال کی حفاطت کا معاملہ ہو یا بنیادی ضروریات تک رسائی ہو کہیں بھی مریم کی کارکردگی پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔

حقیقیت تو یہ ہے کہ خود شہریوں کے وہم و گمان میں بھی وہ سہولیات، خواہشات یا مراعات نہیں تھیں جو مریم نے بلا مانگے عوام کو دے دی ہیں۔ یہ سب کہنا تو آسان ہے مگر کرنا بہت مشکل ہے جسکی پنجاب کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی اور نہ ہی مستقبل میں کوئی مریم کی ان مثالوں کا مقابلہ کر پائے گا۔ سب سے حیران کن بات تو یہ ہے کہ ان کی ترقی و امن کا ماڈل بیوروکریسی کے ہاتھوں کامیاب ہو رہا ہے۔

مریم کے الفاظ عوام کے دلوں میں سرایت کرتے ہوئے ایسے دکھائی دیتے ہیں گویا شیشے کے برتن میں پانی اتر رہا ہو۔ اس کی وجہ ان کے الفاظ کا وہ تاثر ہے جو وہ عوام کے دلوں پر چھوڑ رہے ہوتے ہیں۔ جب وہ نوجوان لڑکیوں کو کہہ رہ ہوتی ہیں کہ جو جی چاہے خواب دیکھو ان کو پورا کرنے کے لئے تمھاری ماں مریم ہے ناں تو پھر وہ صدیوں سے سہمی ہوئی صنف نازک کے دلوں کی گہرائی سے نکلنے والی دعائیں آسمانوں سے فیصلوں کے رخ کیوں نہ موڑ دیں۔

جب بے سہارا بیواؤں، یتیموں اور بیماروں کے دلوں سے مریم کی کامیابی کے لئے دعائیں نکلتی ہیں تو روائیتی سیاست کہاں ان کے سامنے ٹھہر سکتی ہے جس سے عوام کئی دہائیوں پہلے ہی تنگ آچکی تھی۔ عوام نے عمراں خان سے اپنی امیدیں وابسطہ تو کیں مگر وہ بھی کھوکھلے نعرے ہی ثابت ہوئے اور آخر ان امیدوں کو ڈھارس پہچانا مریم کا ہی مقدر ٹھہرا۔

نفسیات یہ تو کہتی ہے اور سب نے سنا بھی ہوگا کہ عورت مرد کی نسبت زیادہ بہتر ایڈمنسٹریٹر ثابت ہوتی ہے مگر یہ پہلی دفع لوگ سمجھیں گے کہ عورت انسانیت کے دلوں کے حال کو بھی مردوں کی نسبت زیادہ سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اب مریم جو کرنے جارہی وہ اگر کامیاب ہوگیا تو پنجاب کی تاریخ میں ایک عجوبہ ہی ہوگا۔

عوام کو ایک ایسی تفریح دینے جا رہی ہے جو پنجاب کی ثقافت میں اہمیت کی حامل تو ہے ہی مگر لاہوریوں کے تو دلوں کی دھڑکن ہے۔ بسنت کا منانا تو گویا خون کی ہولی کھیلنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے سیاستدان ہمیشہ اس سے خائف ہی رہے ہیں کیونکہ اس کی شیشہ چڑھی ڈوریں قیامت کا سماں ثابت ہوتی رہی ہیں مگر پہلی دفعہ صوبے کی چیف منسٹر اپنی نگرانی میں بسنت کو منانے جا رہی ہے اور وہ بھی 8 فروری سے ایک دن پہلے جس دن پی ٹی آئی کے ہمیشہ کے اقتدار کے خواب چکنا چور ہوئے تھے۔

بسنت کے دن اتنی خوشی گڈیاں اڑانے کی نہیں ہوا کرتی جتنی دوسروں کی کاٹنے کی ہوا کرتی ہے۔ میوزک کی ہلکی ہلکی سر تو بسنت کا اصل حسن ہے مگر ڈھول کی دلوں کو چیرتی ہوئی تھاپ اس وقت ہی گونجتی ہے جب مد مقابل کی گڈی کٹ جائے۔

7 فروی کو مریم کی گڈی جو پہلے ہی بلندیوں پر چڑھ چکی ہے وہ بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت کی گڈی کو بو کاٹا کرنے جا رہی ہے۔ 2018 کی جعلی حکومت جن خوش فہمیوں کا شکار ہو چکی تھی ان کے نتائج ان کو 8 فروری 2023 کو جب سنائی دیئے تو ان کے حواس اڑ گئے جس کے اثرات ابھی بھی ان کے دماغوں سے نہیں جا رہے جو یقیناً 7 فروری کو مریم کی گڈی اڑا کر رکھ دے گی۔

جس طرح مریم نے پی ٹی آئی کے اقتدار میں تن تنہا دلیری سے ان کی ظلم و بربریت کا مقابلہ کیا تھا وہ تو ان کو یاد ہی ہوگا مگر انکو آج کے بعد کوئی غلط فہمی نہیں رہنی چاہیے کہ جو پنجاب کے عوام کو اتنی خطرناک تفریح دے کر اپنے اقتدار سے بھی کھیل رہی ہو اس کا مقابلہ کرنا کھوکھلے نعرے لگانے والوں کے بس کی بات نہیں۔

عوامی مینڈیٹ ہی اصل طاقت ہے جس کے حصول کے لئے کارکردگی سے بہتر کوئی حکمت عملی نہیں اور کھوکلے نعروں سے عوام کو زیادہ دیر بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا کل خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ کو یونیورسٹی کے طالب علم نے آئینہ دکھا کر اصلیت بھی دکھائی ہے اور اب یہ پاکستان کے ہر شہری کی زبان پر ہوگا اور وہ ہے کارکردگی اور بس کارکردگی۔۔

Check Also

Doosron Ko Jeene Dein

By Komal Shahzadi