Sabr Aur Shukr, Momin Ki Zindagi Ke 2 Bunyadi Satoon
صبر اور شکر، مومن کی زندگی کے دو بنیادی ستون
صبر اور شکر اسلامی اخلاقیات کے وہ بنیادی اوصاف ہیں جن پر مومن کی پوری روحانی زندگی قائم ہوتی ہے۔ قرآن و سنت میں ان دونوں کی بار بار تاکید آئی ہے اور اہلِ ایمان کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ ان کے بغیر نہ ایمان مکمل ہوتا ہے اور نہ ہی بندگی کا حق ادا ہوتا ہے۔ صبر آزمائش کے وقت انسان کو ثابت قدم رکھتا ہے، جبکہ شکر نعمت کے وقت دل کو اللہ کی طرف جھکا دیتا ہے۔
علماء کے درمیان اس بات پر قدیم زمانے سے بحث رہی ہے کہ صبر اور شکر میں سے کون افضل ہے۔ بعض اہلِ علم نے صبر کو ترجیح دی، بعض نے شکر کو، جبکہ ایک گروہ نے دونوں کو برابر قرار دیا۔ حضرت عمر فاروقؓ کا قول اس توازن کی بہترین تعبیر ہے:
"لو کان الصبر والشکر بعیرین ما بالیت أیہما رکبت"، "اگر صبر اور شکر دو سواریاں ہوتیں تو مجھے کوئی پروا نہ ہوتی کہ میں کس پر سوار ہوتا"۔
یہ جملہ دراصل اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اصل کمال کسی ایک کو دوسرے پر فوقیت دینے میں نہیں بلکہ دونوں کو اپنی جگہ قائم رکھنے میں ہے۔ صبر کا مقام قرآن مجید میں نہایت بلند رکھا گیا ہے۔ متعدد مقامات پر اہلِ صبر کی تعریف اور ان کے لیے عظیم اجر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"إنما یوفی الصابرون أجرہم بغیر حساب"، "بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا"۔ (الزمر: 10)
یہ آیت صبر کی وسعت اور اس کے اجر کی لامحدودیت کو ظاہر کرتی ہے، کہ جس کا بدلہ کسی پیمانے میں محدود نہیں کیا گیا۔
نبی کریم ﷺ کی سیرت صبر کا عملی نمونہ ہے۔ مکہ کی اذیتیں ہوں، طائف کی سختیاں ہوں یا شعبِ ابی طالب کا معاشی مقاطعہ، آپ ﷺ نے ہر آزمائش کو وقار اور استقامت کے ساتھ برداشت فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ صبر کو ایمان کی بنیادوں میں شمار کیا گیا ہے۔
حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "أنا عند المنکسرة قلوبہم من أجلی"، "میں ان لوگوں کے قریب ہوتا ہوں جن کے دل میری خاطر جھک جاتے ہیں"۔ (فیض القدیر)
یہ حدیث اس نکتے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آزمائشیں انسان کے دل کو نرم اور عاجز بناتی ہیں اور یہی عاجزی قربِ الٰہی کا ذریعہ بنتی ہے۔ دوسری طرف شکر کو قرآن نے ایمان کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا ہے۔ فرمایا گیا:
"لئن شکرتم لأزیدنکم"، "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید عطا کروں گا"۔ (ابراہیم: 7)
اور ایک مقام پر فرمایا: "إن تشکروا یرضہ لکم"، "اگر تم شکر کرو تو اللہ اسے تمہارے لیے پسند فرماتا ہے"۔ (الزمر: 7)
یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ شکر محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
حضرت نوحؑ کو قرآن نے "عبدًا شکورًا" یعنی بہت شکر گزار بندہ قرار دیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ شکر اللہ کے محبوب بندوں کی علامت ہے۔
نبی کریم ﷺ کی پوری حیاتِ مبارکہ بھی شکر کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ آپ ﷺ راتوں کو اتنی عبادت فرماتے کہ قدم مبارک متورم ہو جاتے اور جب صحابہؓ نے عرض کیا کہ آپ کے تو تمام گناہ معاف ہو چکے ہیں، پھر یہ مشقت کیوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"أفلا أکون عبداً شکوراً"
"کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟"
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر محض زبان کا نہیں بلکہ عملی عبادت کا نام ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صبر اور شکر ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ایک بندۂ مومن کی زندگی کبھی آزمائش کے بغیر نہیں ہوتی اور کبھی نعمتوں سے خالی نہیں رہتی۔ اسی حقیقت کو نبی کریم ﷺ نے یوں بیان فرمایا: "عجبًا لأمر المؤمن، إن أصابتہ سراء شکر فکان خیرًا لہ، وإن أصابتہ ضراء صبر فکان خیرًا لہ"، "مومن کا معاملہ عجیب ہے، اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے اور اگر تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اور دونوں اس کے لیے بہتر ہیں"۔ (مسلم)
یہ حدیث صبر اور شکرکے باہمی توازن کو واضح کرتی ہے کہ مومن کی کامیابی دونوں کے امتزاج میں ہے۔
اسلامی تعلیمات میں اصل مطلوب چیز عافیت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "سلوا اللہ العفو والعافیة"، "اللہ سے معافی اور عافیت مانگو"۔ (ترمذی)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو نہ آزمائش کی تمنا کرنی چاہیے اور نہ مصیبت کی طلب، بلکہ ہر حال میں اللہ سے خیر اور عافیت کی دعا کرنی چاہیے۔ لیکن جب آزمائش آ جائے تو پھر مومن کا اصل امتحان صبر ہے۔ صبر کا مطلب صرف خاموش رہنا نہیں بلکہ دل کو اللہ کی رضا پر راضی رکھنا اور شکایت سے بچنا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کر دیتی ہے اور اس کے درجات بلند کرتی ہے۔
آخر میں خلاصہ یہ ہے کہ صبر اور شکر دونوں ایمان کی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ ایک کے بغیر دوسرا مکمل نہیں ہوتا۔ نعمت ملے تو شکر اور آزمائش آئے تو صبر، یہی مومن کی اصل پہچان ہے اور یہی اللہ کی رضا تک پہنچنے کا راستہ ہے۔

