Thursday, 05 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Danish Rehman
  4. Nakami Se Kamyabi Ki Taraf Safar

Nakami Se Kamyabi Ki Taraf Safar

ناکامی سے کامیابی کی طرف سفر

زندگی ایک لمبا سفر ہے جس میں کامیابی اور ناکامی دونوں شامل ہیں۔ کوئی بھی شخص سیدھی راہ پر نہیں چلتا، راستے میں نشیب و فراز آتے ہیں، گرنا پڑتا ہے، ٹھوکر کھانی پڑتی ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ گرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا سیکھیں۔ ناکامی کوئی اختتام نہیں بلکہ کامیابی کی طرف پہلا قدم ہے۔ بہت سے لوگ ناکامی دیکھ کر ہمت ہار جاتے ہیں اور وہیں رک جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اسے سبق سمجھتے ہیں، اپنی غلطیوں کا جائزہ لیتے ہیں اور مزید مضبوط ہو کر آگے بڑھتے ہیں۔ یہی لوگ تاریخ رقم کرتے ہیں اور دنیا انہیں کامیاب کہتی ہے۔ یاد رکھیں، ناکامی موت نہیں بلکہ ایک استاد ہے جو ہمیں بہتر بنانے آتی ہے۔

دنیا کی عظیم شخصیات کی زندگیاں دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے سفر کا آغاز ناکامیوں سے ہوا تھا۔ تھامس ایڈیسن نے بلب ایجاد کرنے سے پہلے ایک ہزار سے زیادہ تجربات ناکام کیے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اتنی ناکامیاں کیسے برداشت کیں تو انہوں نے کہا: "میں ناکام نہیں ہوا، میں نے صرف ایک ہزار طریقے دریافت کیے جو کام نہیں کرتے"۔ یہ مثبت سوچ اور مستقل مزاجی نے انہیں دنیا کا عظیم موجد بنا دیا۔ اسی طرح بل گیٹس کی پہلی کمپنی "Traf-O-Data" مکمل ناکام ہوئی مگر اس ناکامی سے سبق لے کر انہوں نے مائیکروسافٹ کی بنیاد رکھی اور آج دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ ناکامی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ پل ہے۔

پاکستان میں بھی ایسی کئی مثالیں ہیں جو نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ارشد ندیم جیسے ایتھلیٹ نے غربت، وسائل کی کمی اور لا تعداد ناکامیوں کا سامنا کیا۔ ورلڈ کلاس جیولن تک نہیں تھا، امداد کی اپیل کرنی پڑی مگر ہمت نہیں ہاری۔ آج اولمپکس میں گولڈ میڈل جیت کر قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ محمد علی سدپارہ نے کوہ پیمائی میں ناکامیوں کے باوجود دنیا کی بلند ترین چوٹیاں سر کیں۔ یہ پاکستانی شخصیات بتاتی ہیں کہ اگر عزم ہو تو ناکامی کوئی چیز نہیں روک سکتی۔ ونسٹن چرچل نے کہا تھا: "کامیابی جوش میں کمی کے بغیر ناکامی سے ناکامی کی طرف چلنا ہے"۔ یعنی ناکامیوں کے باوجود حوصلہ برقرار رکھیں تو کامیابی ضرور ملے گی۔

ناکامی سے کامیابی کی طرف سفر کے لیے چند عملی اقدامات ضروری ہیں۔ سب سے پہلے ناکامی کو قبول کریں اور اسے ذاتی طور پر نہ لیں۔ پوچھیں "اس سے کیا سیکھا؟ غلطی کہاں ہوئی؟" پھر اس غلطی کو دہرانے سے بچیں۔ دوسرا، چھوٹے چھوٹے گول سیٹ کریں اور مسلسل محنت کریں۔ مستقل مزاجی کامیابی کی کنجی ہے۔ تیسرا، مثبت لوگوں کا ساتھ رکھیں جو حوصلہ بڑھائیں، منفی سوچ والوں سے فاصلہ رکھیں۔ چوتھا، اللہ پر توکل رکھیں۔ قرآن پاک میں ہے: "بے شک اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا"۔ دعا کریں، محنت کریں اور یقین رکھیں کہ اللہ راستے کھولے گا۔ ناکامی کے بعد مایوسی نہ کریں بلکہ اللہ کی حکمت پر یقین رکھیں۔

یاد رکھیں، ہر کامیاب شخص کی کہانی ناکامیوں سے شروع ہوتی ہے۔ ناکامی آپ کو کمزور نہیں کرتی بلکہ مضبوط بناتی ہے۔ اگر آپ گرے ہیں تو اٹھیں، اگر ناکام ہوئے ہیں تو سیکھیں اور دوبارہ کوشش کریں۔ زندگی میں ناکامی آئے گی مگر ہار ماننا آپ کا فیصلہ ہے۔ آج سے عزم کریں کہ ناکامی کو اپنی کامیابی کا زینہ بنائیں گے۔ اللہ نے آپ میں بے پناہ صلاحیتیں رکھی ہیں، انہیں ناکامیوں سے نکھاریں اور دنیا کو دکھائیں کہ آپ کامیاب ہو سکتے ہیں۔ سفر جاری رکھیں، منزل قریب ہے۔ ناکامی سے کامیابی کی طرف بڑھیں، کیونکہ حقیقی کامیابی وہی ہے جو ناکامیوں کے بعد ملتی ہے۔ آج سے شروع کریں، کل بہت دیر ہو جائے گی!

Check Also

Dam Torti Hamari Riwayati Sahafat

By Nusrat Javed