Zikr Kasauti Ke Obaidullah Baig Marhoom Se Aik Mulaqat Ka
ذکر کسوٹی کے عبید اللہ بیگ مرحوم سے ایک ملاقات کا

پہلے "ایک گھر، ایک ٹی وی" کا رواج تھا۔ پھر ٹی وی مینوفیکچرز نے اپنی سیلز بڑھانے کے لئے "ایک کمرہ، ایک ٹی وی" کے آئیڈیئے کو مارکیٹ کیا۔ ترقی نے پر پھیلائے تو چینلز کی وبا نے دن اور رات دونوں ایک کر دیئے اور کمرہ کمرہ ٹی وی لگنے لگا۔ ٹی وی کیبلز نے ملکی و غیر ملکی چینلز کی بھرمار کردی اور پاکستان کے ناظرین کی آنکھیں کھلی کی کھلی بلکہ پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ جب ایک کمرے میں ایک ٹی وی ہوا تو صورت حال "میرا چینل، میری مرضی" کی ہوگئی۔
ابھی چینلز کے سمندر میں ٹی وی کی حکمرانی تھی لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اسمارٹ فون نے ٹی وی کو معزول کردیا۔ ہر ہاتھ میں موبائل انٹرنیٹ کی سہولت کے ساتھ آیا تو اب سارے اختیارات بھی ناظرین کے ہاتھ میں آگئے۔ اب ناظر ہر پروگرام کو اپنے اوقات اور اپنی اوقات کے مطابق دیکھتا ہے۔ سمندر میں چھوٹی مچھلی بڑی مچھلی کو کھا جاتی ہے مگر یہاں ٹیکنالوجی سے لیس ہاتھ میں آجانے والا چھوٹا سا اسمارٹ فون دیواروں پر لگے ٹی وی کی بڑی LEDs کو کھا گیا۔ اب گھروں میں ٹی وی دیکھنے کا رواج دم توڑ رہا ہے اور یہ زیادہ تر دیوار کی سجاوٹ کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
میں" ایک گھر، ایک ٹی وی کے زمانے کا آدمی ہوں بلکہ سچ پوچھیں تو "ایک گلی، ایک ٹی وی" میرے بچپن کے ابتدائی سال ہیں۔ اس زمانے کی بات کر رہا ہوں جب ہوری فیملی بے کھٹکے ایک ساتھ ٹی وی دیکھتی۔ کوئی کھنکارتا نہ پہلو بدلتا۔ کوئی بھی پروگرام ہوتا آرام سے دیکھتے۔ دیکھتے دیکھتے اگر گھر کے بڑے سو بھی جاتے تو پی ٹی وی کا سنسر جاگ رہا ہوتا جس میں تہذیب، اخلاق، تمدن سب کی پاسداری کی جاتی۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
ایک زمانے میں جب ٹی وہی اسکرین پر پی ٹی وی کا شریفانہ راج و رواج تھا۔ پی ٹی وی پروگراموں میں آنے والا ہر فرد گھر کا سا فرد لگتا۔ جب ٹی وی کو وقت کی "کسوٹی" پر پرکھنے کی بات ہوگی تو ایسے میں پی ٹی وی کے پروگرام کسوٹی کو کون بھلا سکتا ہے۔ اس پروگرام کے آنے کے دن گنے جاتے۔ کون سا ایسا گھر تھا کہ جہاں بچے اور بڑوں نے کسوٹی نہ کھیلی ہو۔ یہ پاکستان میں معلومات عامہ کا پہلا باضابطہ پروگرام تھا کہ جس کی یادیں آج بھی ذہن میں تازہ ہیں۔ کسوٹی کی بات ہوگی تو عبید اللہ بیگ کا نام ضرور ذہن میں آئے گا۔
عوام الناس میں کسوٹی ہی عبید اللہ بیگ صاحب کا حوالہ ہے۔ کسوٹی ٹرائیکا ہر مشتمل پروگرام تھا۔ قریش پور میزبان ہوتے اور عبید اللہ بیگ و افتخار عارف کسوٹی میں مہمانوں سے 20 سوالات پوچھتے۔ اخلاقیات کا یہ عالم ہوتا کہ اگر سوال پوچھنے والے کو کسی سوال کا جواب معلوم نہ ہوتا تو سوال کو مزید آسان تر کرتے۔ اگر مہمان پھر بھی جواب نہ دے پاتا تو سوال کو ہی آگے بڑھا دیتے۔ عبید اللہ بیگ ناول نگار، کالمسٹ، ماہر شکاریات اور ڈاکیومینٹری میکر تھے۔ آپ کی چند ایک ڈاکیومینٹریز اب تاریخ کا حصہ ہیں۔
عبید اللہ بیگ کی تاریخ وفات 22 جون 2012 ہے۔ ذہن کی منڈیر پر ایک ملاقات کی یاد آبیٹھی ہے۔ سوچ رہا ہوں عبید اللہ بیگ کی شخصیت کا احاطہ کیسے کروں۔ معلومات کا خزانہ تھے۔ شخصیت کا ہر رخ شاندار تھا۔ محقق، مترجم، ادیب، مبصر، کالمسٹ جانے کیا کیا کچھ مگر ہمارا ان سے پہلا تعارف تو کسوٹی کی حوالے سے تھا۔ سوالات ہوں یا مہمان شخصیت کا تعارف گفتگو میں الفاظ کا برمحل اور خوبصورت انتخاب، لفظوں کی ادائیگی میں سادگی و شائستگی اور لہجے میں متانت و اپنائیت ہر انداز سے نمایاں تھی۔ بیگ صاحب کی شخصیت میں عجب انفرادیت و جاذبیت تھی۔ میرے دوست ڈراما ڈائریکٹر سعد الدین نے ایک مرتبہ بتایا کہ ان کی بیگ صاحب سے ملاقات رہتی ہے۔ ہم نے بھی ندیدوں کی طرح کہا: بھائی ہمیں بھی ملوا دو۔ بات آئی گئی ہوگی۔
سن 2000 کی بات ہے۔ میں ڈیفینس فیز 2 ایکسٹینشن میں ایک اشتہاری ایجنسی میں ملازمت کر رہا تھا۔ ایک دن دوپہر میں میرے دوست ڈراما ڈائریکٹر سعد الدین کی کال آگئی: مبارک ہو آپ کی امید پر آئی ہے۔ میں نے کہا: یہ کون سے امید بر آئی۔ بولے عبید اللہ بیگ صاحب سے جو ملنے کی تمنا تھی وہ آج پوری ہوا چاھتی ہے۔ میں نے کہا: کہاں ملاقات ہوگی۔ میں تو دفتر میں ہوں۔ کہنے لگے آپ کے دفتر کے پاس ہی ان کا دفتر ہے۔ پیدل کا دو تین منٹ کا راستہ ہوگا۔
سعد الدین آئے اور ہم ساتھ ہو لئے۔ کچھ دیر بعد ان کے دفتر میں تھے۔ اپنے ٹریڈ مارک سفاری سوٹ میں ملبوس عبید اللہ بیگ نے بہت گرم جوشی سے ہاتھ ملایا۔ سعد الدین نے ہمارا تعارف کرایا اور ہمارے متعلق ایک دو تعریفی جملے بھی کہہ دیئے اور ہم شرمندہ ہوتے چلے گئے۔ مہمان نوازی کے مراتب کا خیال کرتے ہوئے بیگ صاحب نے میری جانب ایسے دیکھا کہ میں گفتگو کا آغاز کروں گا (چہ پدی چہ پدی کا شوربہ) مگر یہاں یہ حال کہ بچپن سے کسوٹی کی ایک سحر انگیز شخصیت کے سامنے الفاظ ساتھ چھوڑ گئے اور ساری نام نہاد علمیت، قابلیت اور حاضر جوابی دھری کی دھری رہ گئی۔
میرے گونگے پن کو دیکھتے ہوئے، خود ہی میرے اجداد سے متعلق پوچھنے لگے۔ جتنا میرے علم میں نے بتا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے تاریخی کتابوں کے حوالے سے آل رسول ﷺ اور ان کی ہندوستان آمد کے بارے میں بتایا تو مجھے ایسے لگا کہ سب ان کی آنکھوں کے سامنے ہوا۔ تاریخ فرشتہ کا خاص طور پر زکر کیا اور کہا کہ آپ یہ کتاب ضرور پڑھیں۔ اسی طرح ہندوستان میں اپنے اجداد کی آمد اور دیگر تفصیلات سے آگاہ کیا۔ میں بیٹھا تو کرسی پر تھا لیکن ذہنی طور ان کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔
عبید اللہ بیگ صاحب یہ جان کر خوش ہوئے کہ میں ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے وابستہ ہوں۔ آپ بھی ایک زمانے میں کراچی کی مشہور ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے وابستہ رہے۔ مطالعہ، یاد داشت اور ذھانت کا مرقع تھے۔ بیگ صاحب کی پیدائش رام پور کی تھی۔ اخبار سے ریڈیو اور پھر ٹی وی کا سفر اور انتہائی اہم عہدوں پر کام کرکے شخصیت خوب سے خوب تر ہوتی گئی بلکہ یوں کہوں کہ جس عہدے پر کام کیا اسے مزید اعتبار بخشتے گئے۔
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی کے مصداق خواہش یہی تھی کہ گفتگو ختم ہی نہ ہو۔ بیگ صاحب معلومات کے دریا بہا رہے تھے۔ سوچ کے نئے نئے دریچے وا کر رہے تھے۔ گئے تو آدھے گھنٹے کے لئے تھے مگر کوئی دو گھنٹے وہاں بیٹھے۔ شاید مزید بیٹھتے مگر اس زمانے میں"امن" کے نام سے ایک ٹی وی چینل آنے کی خبریں تھیں۔ پتہ چلا کہ امن کے چوہدری احسن جو کہ میرے بھی شناسا تھے، عبید اللہ بیگ کے ناول "اور انسان زندہ ہے" کی ڈرامائی تشکیل کے سلسلے میں تشریف لا رہے ہیں۔ سو دفتر کی راہ لی۔ میں نے سعد الدین سے کہا کہ اب ملاقات رہنی ضروری ہے۔ بولے: آپ کے دفتر سے بہت قریب ہیں۔ کال کرکے چلے جایا کریں۔ ہماری کاہلی یا دفتر کی بے ہنگم مصروفیات نے پھر کبھی موقع ہی نہ دیا۔
سب کچھ ہی بدل گیا ہے۔ اب وہ پی ٹی وی کا سنہرا دور رہا نہ اس کے سنہرے لوگ، سادہ مزاجی کے اجالوں سے منور چہرے بچھڑ گئے ہیں، کہیں کھو گئے ہیں یا ہم بھول بیٹھے ہیں۔ موجودگاں میں وہ رفتگاں والی بات نہیں۔ تنہائی ہے ہر طرف۔ خود سے باتیں کیجئے یا پھر بقول افتخار عارف:
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاھتا ہے
ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاھتا ہے

