Friday, 09 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Azmi
  4. Yaad To Aata Hoga School Ke Zamane Ka Chaye Paratha

Yaad To Aata Hoga School Ke Zamane Ka Chaye Paratha

یاد تو آتا ہو گا اسکول کے زمانے کا چائے پراٹھا

یہ اب جو گلی گلی ہوٹلوں میں چائے پراٹھا اور انڈا پراٹھا دستیاب ہوتا ہے۔ ہمارے زمانے میں صبح چائے پراٹھا گھر کا من و سلویٰ تھا۔ اس کی روداد سنیں گے تو وہی مزا آئے گا۔ زبان پر پراٹھے جیسی گھی والی لذت اور زبان پر چائے کی مٹھاس محسوس ہوگی۔

صبح اماں نے آواز لگائی، ہم نے دوڑ لگائی، جلدی جلدی یونیفارم اور پھر باورچی خانے میں توے سے اترا گرم پراٹھا۔ والدہ دیر سے اٹھنے پر جو آخری انتباہی آواز لگاتیں: شہزادے آٹھ جائیں یا پھر میں آوں؟

اس شہزادے کا مطلب اس وقت سمجھ میں آتا جب پٹرے پر بیٹھتے ہی والدہ پیالے (کپ تو بعد میں آئے ہیں) میں گرم گرم چائے انڈیلتیں اور گھی میں تر بتر پراٹھا ہمارے سامنے رکھ دیتیں۔ دیر ہونے کے خیال سے چوکور پراٹھے چار ٹکڑے کر دیتیں تاکہ ہم جلدی جلدی کھا کر عازم اسکول ہوں۔ پراٹھے اور چائے کی خوشبو دار گرمی آنکھیں کھول دیتی۔ کبھی زیادہ گھی پڑ جانے پر پراٹھے کی خوشبو اتنی تیز ہوتی جیسے ناک کے نتھنے بھی قبول نہ کر پاتے اور کچھ لمحے سانس رکتی محسوس ہوتی۔

اول تو پراٹھے سے نوالہ لینا ہی مسئلہ ہوتا۔ نوالہ ہاتھ میں آتا تو تیز بھاپ کے باعث دونوں ہاتھوں سے پنگ پونگ کھیل کر اس کی گرمی کم کرتے مگر وقت کم ہوتا اس لیے منہ میں رکھ لیتے۔ منہ کے تو ہوش اڑ جاتے۔ لگتا جیسے آٹے کا انگارا رکھ لیا ہو۔ نوالے کو باولے کی طرح کبھی اس گال تو اس گال گھوماتے۔ زبان کہتی نہ بابا نہ بابا۔ نوالہ تر ہونے کے باوجود ایسا نہ ہوتا کہ بغیر چائے حلق سے اتر جاتا۔ اب جو گرم چائے کا گھونٹ لیتے تو پراٹھا تو نرم پڑتا مگر چائے اتنی گرم ہوتی کہ منہ کے کسی حصے کی جھلی جیسی کھال اپنی جگہ چھوڑ دیتی۔ اب پورے ناشتے کے دوران اس کا بھی خیال رہتا۔ جیسے تیسے چائے پراٹھا ختم ہوتا مگر اس کا ذائقہ ایسا ہوتا کہ آج بھی زبان کو محسوس ہوتا ہے۔ یہ جھلی نما کھال آدھی لٹکی اور آدھی چپکی ہوتی جسے ہم اسکول جانے کے دروان زبان پھیر پھیر کر الگ کر ہی لیتے۔

اسکول کے زمانے تک تو چائے روز صبح چائے پراٹھے کی یہ کہانی چلتی۔ اس زمانے میں انڈا پراٹھا اس وقت ملتا کہ جب کوئی دور دراز سے آیا عزیز رات ہمارے گھر قیام کے بعد صبح ناشتہ کرتا۔ کوئی بہت ہی وی پی آئی ہوتا تو حلوہ پوری بھی آ جاتا۔ انڈے پراٹھے کے ساتھ ہمارا مسئلہ یہ ہوتا کہ نوالے کے ساتھ کتنا انڈا لیا جائے کہ پراٹھے کے آخری نوالے تک ساتھ رہے۔ یہ ایک بہت بڑی سائنس تھی جو دو تین نوالوں کے بعد سمجھ میں آ جاتی اور ہم دونوں کا ایک ساتھ خاتمہ بالشکم کرتے۔

کالج پہنچے تو چائے پراٹھے سے دوستی تو رہی مگر اب انڈا پراٹھا بھی رینج میں آ گیا تھا۔ کبھی کبھی کالج سے جلدی آ جاتے اور کھانا نہ بنا ہوتا تو ہماری تو جیسے لاٹری نکل آتی۔ صبح کا پراٹھا رکھا ہوتا۔ اب ہم دو انڈے لاتے۔ فرائی پین میں تیل بھر کے فرائی کرتے اور پیٹ و نیت بھر کر کھاتے۔ اس کے بعد کھولتی چائے پی کر اپنی شاہی طعام کا اختتام کرتے۔

اب تو خیر چائے پراٹھا اور انڈا پراٹھا ہوٹل ہوٹل ملتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں صبح کے ناشتے میں اتنا عام نہ تھا بلکہ اس کے مقابلے میں حلوہ پوری فوقیت پر تھی۔ میرا خیال ہے کہ کراچی میں 80 کی دھائی سے ہوٹلوں پر چائے پراٹھے اور انڈا پراٹھے کا چلن عام ہوا۔ پراٹھوں میں بھی نئی نئی ورائٹیز آ گئی ہیں۔ مختلف علاقوں کے پراٹھے دستیاب ہیں۔ لیکن صاحب ہمیں تو اپنے گھر کا چائے پراٹھا اور انڈا پراٹھا ہی عزیز تھا۔ ہمارے لیے تو اس زمانے میں یہی من و سلوی تھا۔

About Azhar Hussain Azmi

Azhar Azmi is associated with advertising by profession. Azhar Azmi, who has a vast experience, has produced several popular TV campaigns. In the 90s, he used to write in newspapers on politics and other topics. Dramas for TV channels have also been written by him. For the last 7 years, he is very popular among readers for his humorous articles on social media. In this regard, Azhar Azmi's first book is being published soon.

Check Also

Sitam Zada Murree Ki Dastan (2)

By Muhammad Idrees Abbasi