Tareekh Ka Aik Gumshuda Kirdar, Shams Uddin Jarrah
تاریخ کا ایک گمشدہ کردار، شمس الدین جراح

مجھے یاد ہے بچپن میں اگر کوئی بچہ جھولے یا کسی کے سینے پر سوار ہو کر پیشاب کی سیدھی دھار نہ مارتا تو گھر کی کوئی جہاں دیدہ بوڑھی عورت اس کا سارا الزام شمس الدین کے سر دھر دیا کرتیں: پتہ نہیں اتنے تجربے پر یہ حال ہے۔ کہاں کی دھار کہاں مار دی۔ لگے ہے شمس الدین کے ہاتھ میں رعشہ آ گیا ہے۔ موئے بچے کا کیا قصور!
بالعموم پورے کراچی خصوصا گولی مار، ناظم آباد، فردوس کالونی اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں میں سب سے زیادہ (سر) ٹیفائیڈ مسلمانیاں کرنے کا اعزاز شمس الدین جراح کو حاصل ہے۔ مسلمانی کو سنت بھی کہا جاتا ہے۔ شمس الدین جراح نہ تھے بلکہ اسلامی تعلیمات میں مسلمانی کے عملی شارح تھے۔ یہ بات تو ماننی پڑے گی کہ مبلغین نے اپنے کردار و عمل سے لوگوں کو مسلمان کیا لیکن تن تنہا روزانہ کہ بنیاد پر سب سے زیادہ مسلمانیاں آپ نے کیں۔
ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا مگر یہ بات اپنے غیر سب مانتے ہیں کہ مسلمانی استرے کے زور پر پھیلی۔ شمس الدین کا کمال فن چشم زدن کا آئینہ دار تھا۔ ادھر نظر جھپکتی بھی نہ کہ جراعت ہو جاتی۔ شمس الدین کی زبان قینچی کی طرح نہ چلتی لیکن استرا تو گویا ہاتھ میں آٹے ہی اذن گویائی مانگتا اور بچے کا بلک کر رونا اس کی گواہی دیتا۔
استرا بولتا ہے جراح کے ہاتھ میں
ہمارے زمانے میں نائی کو اس جراعت کے لیے زحمت نہ دی جاتی اور نہ ہی اسپتالوں نے اس معاملے میں "کھال" کھینچنا شروع کی تھی۔ اب بھی کچھ علاقوں میں یہ رسم باقاعدہ ایک تقریب کی صورت منعقد کی جاتی ہے۔ بارات، ولیمے کی طرح گھنٹہ بہ گھنٹہ تفصیل درج ہوتی ہے۔ نائی بلایا جاتا ہے۔ دعوت نامے پر ختنہ گر کا نام جلی حروف میں لکھا جاتا ہے۔
ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے خدا کا شکر ادا کریں کہ امت مسلکی مسلمانی سے دور ہے اور پوری امت اس کا جھنڈا ایک ہی ڈنڈے میں مضبوطی سے پکڑے کھڑی ہے۔ نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر ایک ہی دائرے میں ہے۔ اگر کوئی اختلاف سامنے آ جاتا تو پھر ختنہ گری فتنہ گری بن جاتی اور پھر مسلک کی تصدیق کا آخری طریقہ یہی رہ جاتا۔ ممکن ہے یہ حتمی و ختمی نشانی کے طور پر شناختی کارڈ میں ٹحریر ہوتا۔
ہمارے یہ دوست فرماتے ہیں کہ مسلمانی کو کبھی غیر اہم نہ جانیں۔ مسلمانی بنیادی طور پر ساری زندگی کا فلسفہ سمجھاتی ہے اور بتاتی ہے کہ زندگی دائرہ در دائرہ سفر کرتی ہے اور انسان تا دم آخر ان دائروں کے حلقہ بگوش رہتا ہے۔ کوئی پوچھے تو یہی کہو:
یہ کام نہیں آساں بس خود ہی سمجھ لیجیے
شہر کے کتنے نامی گرامی پھنے خان جو اب کان پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے، شمس الدین جراح کے دست جراعت کی زد میں آکر زار و قطار روئے ہیں۔ شمس الدین جراح اپنے کام میں یکتا، یگانہ و جراعانہ تھے۔ جراعت میں جارحیت اور فتنہ گری کے قائل نہ تھے۔ اس صفائی سے سونے کی چڑیا اڑانے کہ سب تالیاں بجانے اور جس پر گزرتی ہے وہ چریا جاتا اور زبان بے زبانی سے کہتا:
ہم نے تو چار دن بھی نہ دیکھے پھوار کے
نازک سی ٹانگوں کا ہل ہل کر احتجاج اور رونے کی معصوم آوازیں دروازے کی پیچھے کھڑی ماں کا دل پسیج کر رکھ دیتیں۔ جراحت کے بعد کپڑے کی جلی راکھ متاثرہ جگہ پر ڈال کر پٹی باندھ دی جاتی اور پھر اس پر لال رنگ کا کپڑا ڈال دیا جاتا کہ آگے خطرہ ہے۔ ایک ہفتے بعد شمس الدین آتے اور ایک پٹی اور کر جاتے اور کہانی ختم۔
شمس الدین جراح کی گولی مار (گلبہار) کے میں روڈ پر بڑی سی دکان تھی جس میں جا بجا ان کے کار ہائے نمایاں انجام دینے سے پہلے اور بعد کی تصاویر آویزاں تھیں۔ یہ تو مجھے نہیں پتہ ہے کہ وہ جراحت میں کہاں کہاں ہاتھ پاوں مارتے لیکن مسلمانی ان کی وجہ شہرت رہی اور جس پر یہ جراحت آزمائی اس نے بہت ہاتھ پیر مارے۔ آپ کو اپنے کام میں پر اتنا بھروسا تھا کہ جب شاہ ایران کے ہاں لڑکا ہوا تو آپ نے اس کی مسلمانی کے لیے شاہ ایران کو ایک سخن استرانہ خط لکھ بھیجا۔ شاہ نے بھی اسے سخن گسترانہ نہ جانا بلکہ وہاں سے جواب میں سخن تشکرانہ بھیج دیئے: سرکار آپ زحمت نہ کریں، ہمارے ہاں بھی ایک سے ایک ختنہ گر موجود ہیں جو دائرے کی پرکاری کو پرکار کی طرح کھینچنے ہیں کہ دیکھنے والا ششدر ہو جائے۔ قطر پر خطر میں سوت برابر فرق نہیں آنے دیتے۔ شمس الدین نے یہ سوچ کرکے استرا نہ چلا تو کیا ہوا۔ گواہی کی کیل تو دیوار میں ٹھونک دیں۔ سو انہوں نے وہ خط فریم کرکے دکان میں لٹکا دیا۔
مجھے اس موقع پر ممتاز مزاح نگار پطرس بخاری کا ایک قصہ یاد آ رہا ہے جس میں وہ خود لاجواب ہو گئے تھے۔ ایک مرتبہ ان کی گھڑی خراب ہوگئی۔ بازار میں ایک دکان پر گھڑیاں لٹکی دیکھیں تو وہاں پہنچ گئے۔ دکاندار نے کہا کہ ہم گھڑیاں ٹھیک نہیں کرتے۔ پطرس نے کہا تو پھر یہ کیوں لٹکا رکھی ہیں۔ دکاندار نے کہا ہم مسلمانی کرتے ہیں۔ آپ بتائیں کیا لٹکائیں۔
شمس الدین سارا کام سب کے سامنے بلیک اینڈ وائٹ میں کیا کرتے۔ یہ کام کا اثر تھا یا قدرت کا انعام کہ خود بھی دیکھنے میں بلیک اینڈ وائٹ لگتے۔ وجہ بھی بتا دیتا ہوں شمس الدین کا رنگ گندمی سے گہرا، قامت اور وزن مناسب سے زیادہ، ہاف آستین کی بھک سفید بو شرٹ پہنا کرتے تھے پینٹ سے متعلق یا نہیں کہ وہ کس رنگ کی ہوتی لیکن ہوتی ڈھیلی ڈھالی ہوتی۔ بو شرٹ پہنتے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کام میں کوئی آستین کا سانپ اپنا کام نہ دکھا جائے۔ وہ واقعی اپنے نام شمس الدین کا اسم بامسمی تھے۔ دیں کے لیے ان کی خدمات اظہر من الشمس ہیں۔ شمس الدین بہت کم گو تھے۔ مزاج میں نفاست اور متانت تھی۔ آپ بلاشبہ مسلمانی کے لیے گھر والوں کا پہلا اور نومولود کا آخری انتخاب ہوتے کیونکہ اس کے بعد کوئی گنجائش نہیں بچتی۔
مسلمانی کرنا بچوں کا کھیل نہیں لیکن شمس الدین نے ساری زندگی یہ کھیل بچوں پر انتہائی مہارت و احتیاط سے کھیلا۔ شمس الدین نے ایک معمولی سی جھلی کو جسم سے الگ کرنے میں کبھی جھلاہٹ سے کام نہ لیا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ آپریشن "ون ٹائم، لائف ٹائم" ہوتا ہے اور بہ وقت ضرورت کوئی دستاویزی ثبوت نہ ہونے پر یہ سب سے بڑی شمس دست گواہی ہے۔ آپ ایک درد مند دل ضرور رکھتے تھے مگر کیا کیجئے اس کام میں درد مندی کی ہمدردی کسی کام کی نہیں۔ آپ اس بات کے پوشیدہ مضمرات سے کما ختنہ واقف تھے اور جانتے تھے کہ ایک اس کام کے نہ ہونے سے زندگی میں کتنی رکاوٹیں در و ڈر پیش آ سکتی ہیں۔
شمس الدین ہمارے محلے میں عصر اور مغرب کے دوران ہی آتے۔ کیا آمد ہوتی۔ یہ لمبی چوڑی سے اسکوٹر اس کی پچھلی سیٹ کے دونوں طرف دو بڑے باکس جس میں ختنہ گری کا سامان ہوتا۔ آپ کی آمد کسی ہیرو سے کم نہ ہوتی۔ آمد سے قبل ہی واردات کے صحن میں بچے گول دائرے کی شکل میں کھڑے ہو جاتے۔ کچھ پڑوس کی چھت سے لٹکے پڑے ہوتے کہ لائیو منظر کا اوپر سے دیکھنا غضب ہے۔ گھر کی عورتیں دروازے کی اوٹ سے سب دیکھ رہی ہوتیں۔
جب ہم نے شمس الدین کو ہوش سنبھالنے کے بعد پہلی بار دیکھا تو وہ 50 سے اوپر کے ہوں گے۔ پہلی بار تو انہوں نے ہی ہم کو دیکھا۔ وہ خون آشام شام میں کیسے بھول سکتا ہو۔ جو کچھ انہوں نے کیا، اس پر اب اکبر الہ آبادی کا شعر یاد آتا ہے۔
بوقت ختنہ میں چیخا تو نائی نے کہا ہنس کر
مسلمانی میں طاقت خون بہنے سے ہی آتی ہے
لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر اب سب تاریخ کا حصہ ہے۔ بچہ جب اسپتال سے گھر آتا ہے تو کچھ دن بعد ڈاکٹر یہ کار نمایاں بہت سارے پیسوں میں کر دیتا ہے اور بات آئی گئی ہو جاتی ہے۔ ہمارے زمانے میں یہ ایک ایونٹ ہوتا۔ ترقی نے ہائیجین کے نام پر زندگی کی رونقیں لوٹ لی ہیں۔ پرانی چادر سے بچوں کے بننے والے نہالچے اب ڈائیپرز کے نام پر بکتے ہیں۔ انہیں بیچنے کے لیے طرح طرح کی گمکس استعمال کی جاتی ہیں۔ ایمانداری سے بتائیں کیا ہم سب یہ نہالچے پہن کر سوتے اور نہال ہو کر نہیں اٹھتے تھے کیا؟ مجھے تو خیال ہے نہال سے ہی نہالچہ ہونا چاہیئے۔
شمس الدین جراح کسی نہ کسی نام سے ہر علاقے میں ہوتے تھے جو تاریخ یا پھر لوگوں کے اذہان میں زندہ ہیں۔ مجھے یاد تھا اس لکھ دیا ورنہ کون ہے اب ان کرداروں کو یاد کرنے والا؟

