Qissa Aik Shadi Mein Jaane Ka
قصہ ایک شادی میں جانے کا

بیگم عشرت جہاں اپنی نئی نویلی بہو ریحانہ کو ساس کے جملہ حقوق جنہیں وہ سسرال کا آئین اور بہو کی سسرالی شخصیت کا آئینہ قرار دیتی ہیں، سمجھا سمجھا کر تھک چکی ہیں ۔ کھانے پینے سے کپڑے پہننے تک اپنا حکم چلانا اور اس کے لیے چلانے سے بھی گریز نہیں کرتی ہیں ۔ بہو کسی طور ان کے تیور کو خاطر میں نہیں لاتی ہے۔ ان کا کیا ایک کان سے سنتی اور دوسرے سے اڑا دیتی ہے۔ بہو کا خیال ہے "برا مانو یا نہ مانو، ساس کو ایک عورت ہی جانو"۔
ایک دن سسرالی رشتےدار کے ہاں بارات میں جانے کا پروگرام بنا تھا تو ساس نے سوچا کہ بہو کے غرارہ سوٹ کی منہ دکھائی کرا دی جائے جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے۔ عشرت جہاں اور ریحانہ کی یہ گفتگو ہو "بہو" پیش خدمت ہے:
کنٹینر نما شادی کا غرارہ سوٹ!
عشرت جہاں: ہم تو کہتے ہیں کل اپنا شادی کا غرارہ سوٹ پہن جاؤ۔ بارات والے روز سب کہاں دیکھ پائے تھے۔ بارات میں ادھر ادھر ہو تو سب دیکھ لیں گے کہ عشرت جہاں کے دل میں بہو کی کتنی قدر و منزلت ہے۔
ریحانہ: یہ جو آپ نے اتنا بھاری بھرکم کنٹینر نما غرارہ سلوایا ہے۔ پہنو تو لگتا ہے کوئی گوٹا کناری لگی ٹرین جھن جھن کرتی جا رہی ہے۔ بس ایک بار ہی پہن لیا، کمر ٹوٹ کر رہ گئی بہت ہے۔ ضرورت کیا تھی؟
عشرت جہاں: ضرورت کیا تھی کا کیا مطلب شادی تھی ہمارے گھر کی پہلی اور تم نے بھاری خوب کہا کیا اس میں لوھے کے تار کی زر دوزی کرائی تھی۔
ریحانہ: ہاں تو آخری تو نہ تھی۔ بعد میں یہ شوق پورا کر لیتیں۔ ہم ہی ملے تھے اس ظلم کی گھٹری کو سنبھالنے کے لیے۔ ہم نے نیلی ساڑھی نکال لی ہے وہی پہنیں گے۔
نیلی ساڑھی جیسے پانی سے نکلی مچھلی!
عشرت جہاں: اس کا خیال دل سے نکال دو۔ اس نے نیلی ساڑھی میں تو تم ایسے لگو گی جیسے کوئی مچھلی پانی سے باہر آ نکلی ہے اور وہ کم بخت ماری ساڑھی کیا ٹشو پیپر کی طرح ہلکی ہے۔
ریحانہ: نہیں تو آپ کیا چاھتی ہیں جاھلوں کی طرح آپ کا من بھر کا غرارہ سوٹ پہن جائیں جسے اٹھاتے اٹھاتے ہی من بھر جائے۔ میرا تو من بھر آیا تھا۔ ایک بار میں امن بھرا نہیں ۔
عشرت جہاں: تو یہ تم جو نیلی ساڑھی پہن کر جاؤ گی تو لگے گا جیسے کالج کی فئیر ویل پارٹی میں آئی ہو۔ بتائے دے رہی ہوں جو دیکھے گا سمجھے گا عشرت جہاں ٹشو پیپر کا ڈبا لے آئی ہیں۔ (ہنستے ہوئے) کہیں کوئی کھانے کے بعد تم سے ہاتھ ہی نہ پونچھ لے۔
ریحانہ: پونچھ تو دور کی بات کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ ساڑھی اتنی نفیس ہے لوگ اسے دیکھ کر نظر اتاریں گے۔
عشرت جہاں: کوئی نظر بھر نہ دیکھے گا۔ دیکھو اگر تم یہ ساڑھی پہن کر گئیں تو میں صاف کہہ دوں گی کہ یہ تو ہماری کوئی دور کی بہو ہے۔
کمفرٹ ایبل اور ان برداشت ایبل!
ریحانہ: چلیں اچھا ہے۔ میں زیادہ کمفرٹ ایبل محسوس کروں گی۔
عشرت جہاں: بی بی اگر اتنا ہی کمفرٹ ایبل ہونا ہے تو یہ میرے لیے ان برداشت ایبل ہوگا۔ ایسی بے کہنے کی بہو تو میں نے آج تک نہیں دیکھی۔
ریحانہ: اصل میں آپ اولڈ فیشن ساس اور میں ماڈرن بہو ہوں۔ وہ دن گئے کہ جب بہو کو ساس " نمائشی گائے " بنا کر لے جایا کرتی تھیں۔
عشرت جہاں: اب تم اس شادی میں نہیں جاؤ گی۔
ریحانہ: تو میں کون سا مری جا رہی ہوں۔ نہ لے جائیں۔ لوگ آپ سے ہی پوچھیں گے بہو کو ساتھ نہیں لائیں۔

