Friday, 09 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Azmi
  4. Qissa Aik Raja Ke Dastarkhwan Ka

Qissa Aik Raja Ke Dastarkhwan Ka

قصہ ایک راجہ کے دسترخوان کا

ہندوستان کے راجے مہاراجے شوقین مزاج رہے ہیں۔ ان کا ایک شوق کھانوں کا بھی رہا۔ لکھنو، حیدر آباد اور رامپور کے باورچی خانے اور یہاں کے کھانوں کے بہت سے قصے مشہور ہیں۔ دلی تو مغلوں کی راجدھانی تھی اس لئے یہاں تو چٹورا پن اپنے عروج پر تھا۔ مغلوں نے ہی اصل میں ان سب چیزوں کی بنیاد ڈالی اور اس کے بعد قائم ہونے والی ریاستیں ان کے اتباع کو لازم سمجھنے لگیں بلکہ ان سے بھی دو قدم آگے جا نکلیں۔

کہتے ہیں ایک ریاست کے راجہ ایک دن کھانا تناول فرما رہے تھے۔ پیچھے دو خدام مور پنکھ جھل رہے تھے۔ راجہ ابھی کھانے کے مزے لوٹ رہے تھے کہ انہیں کسی کے ہلکے ہلکے رونے کی آواز آئی۔ راجہ نے دائیں بائیں سامنے دیکھا مگر انہیں کوئی روتا دکھائی نہ دیا۔ پھر کھانے کی طرف متوجہ ہوگئے۔ پھر وہی ہلکے ہلکے رونے کی آواز آئی۔ راجہ کو یہ آواز بہت گراں گزری۔ سر اٹھایا تو کیا دیکھا کہ دسترخوان پر موجود ایک مصاحب راجہ کے پیچھے ہاتھ کے اشارے سے کسی کو منع کر رہا ہے۔ راجہ نے مڑ کر دیکھا تو دو میں سے ایک مور پنکھ جھلنے والے خادم کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

راجہ نے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا: یہ بھی بھلا کوئی رونے کا وقت ہے دیکھ نہیں رہے ہم کھانا کھا رہے ہیں۔

خادم نے کہا: عالی جناب میں رونا نہیں چاھتا تھا مگر یہ سب بے اختیار ہوا ہے۔

راجہ نے اسے اپنے سامنے بلایا اور پوچھا: ایسا تجھ پر یہاں کیا ظلم ہوگیا کہ تو بے اختیار رونے لگا؟

خادم نے کہا: حضور گردش زمانہ ہے۔ کبھی میرے دسترخوان پر انواع و اقسام کے کھانے ہوا کرتے تھے۔

راجہ نے زندگی پہلی بار اس سے بات کی تھی۔ اسے خادم کی گفتگو سے لگا کہ اس کی بات میں کسی حد تک صداقت ہے مگر سوال یہ تھا کہ تصدیق کیسے ہو۔ راجہ نے کچھ لمحے توقف کے بعد اس سے پوچھا:

اچھا یہ بتاو کہ مرغ کا کون سا حصہ کھانے میں سب سے مزیدار ہوتا ہے؟ خادم نے بغیر کسی توقف کے جواب دیا کہ مرغ کی ہوست (مرغ کئی کھال جو پر ہٹانے کے بعد رہ جاتی ہے)۔ راجہ نے اسے اس جواب ہر اپنے ساتھ ہی کھانے کے لئے بٹھا لیا۔

یہ سب دوسرا مور پنکھ جھلنے والا خادم دیکھ رہا تھا۔ اس کے سینے پر تو سانپ لوٹ گئے اور لگ گیا موقع کی تاک میں کہ کب موقع ملے اور وہ بھی اسی طرح راجہ کے دسترخوان پر بیٹھ کر کھانے کھائے۔ ایک دن ایسا ہی ہوا۔ راجہ کھانا کھا رہے تھے کہ اس نے بھی سسکیاں بھرنی شروع کر دیں۔ راجہ نے وجہ پوچھی تو پہلے والے کی کہانی دھرا دی۔ راجہ نے اس سے سوال پوچھا: اچھا بتاو، بکرے کی سب سے لذیذ شے کیا ہوتی ہے؟

اس نے فوراََ کہا: حضور بکرے کی پوسٹ (کھال)

راجہ نے ایک نظر اس کو مسکرا کر دیکھا اور بس اتنا کہا: سب اپنے اپنے نصیبوں کا کھاتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی اپنے مصاحب سے کہا: یہ حاسد ہے اور حاسد کی نظریں پہاڑ کھا جاتی ہیں۔ بہتر ہے اسے کسی ایسی جگہ لگا دو کہ جہاں اس کی نظر ہم پر نہ پڑے۔

About Azhar Hussain Azmi

Azhar Azmi is associated with advertising by profession. Azhar Azmi, who has a vast experience, has produced several popular TV campaigns. In the 90s, he used to write in newspapers on politics and other topics. Dramas for TV channels have also been written by him. For the last 7 years, he is very popular among readers for his humorous articles on social media. In this regard, Azhar Azmi's first book is being published soon.

Check Also

Malik Yusuf Ke Dramay (2)

By Ashfaq Inayat Kahlon