Qissa Aik Bike Rider Ka
قصہ ایک بائیک رائیڈر کا

زندگی تلخ ہے مگر کچھ سادہ مزاج اسے بڑی سادگی سے مزے لے کر گزارتے ہیں۔ وہ دلیل و تاویل کے فلسفے نہیں بھگارتے۔ جو سامنے ہوتا ہے اس پر حقیقت پسندانہ فیصلے کرتے ہیں۔ خوش و خرم رہتے ہیں۔ وہ نہ ہونے کا رونا نہیں روتے جو ہوتا ہے۔ اسی کو سب کچھ جان کر اپنی سی کوششوں میں لگے جاتے ہیں۔ کوششوں سے ہی کامیابی ملتی ہے۔ ویسے بھی کامیابی ایک تتلی کی مانند ہے جسے آپ کبھی پکڑ نہیں سکتے۔ آپ اپنے کام میں لگے رہیں، ایک دن وہ خود آپ کے کاندھے پر آکر بیٹھ جائے گی۔
میرا روز کا سفر موٹر سائیکل پر آفس آنے جانے کا ہے۔ کافی رائیڈرز جاننے لگے ہیں۔ آج دیر سے آفس سے نکلا۔ بائیک بک تو ہوگئی لیکن اس کے بعد موومنٹ نہیں آ رہی تھی۔ دو بار فون کیا، وہ آ گیا لیکن اس نے دبئی کے نمبر سے کال کی۔ میں نے خفگی کا اظہار کیا: ایک تو آپ کی ایپ پر آپ کی موومنٹ نہیں آ رہی، دوسرے نمبر بھی مقامی نہیں۔ وہ خوش مزاج تھا، بولا: بیٹھیں سر، ابھی چھوڑ دیتا یوں۔
وہ راستے بھر باتیں کرتا رہا۔ کہنے لگا: دو سال بعد دبئی سے کراچی آیا ہوں چاند رات کو۔ میں نے کہا: دو سال بعد آئے ہو اور بائیک چلا رہے ہو، گھر والوں کے ساتھ رہو۔ کہنے لگا: سر بہادر آباد دوست کے پاس آیا تھا۔ گھر جا رہا تھا۔ آپ کی رائیڈ آ گئی، سوچا کیا برا ہے۔ اب آپ کو چھوڑ کر دوست کے پاس گلشن جاؤں گا۔ رات دیر میں گھر پہنچوں گا۔ دن بھر گھر تو شام سے رات دوستوں کے ساتھ۔ ایک مہینے کے لیے آیا ہوں۔
اس کی زبان تالو سے نہیں لگ رہی تھی۔ میں نے سوچا چلو سفر جلدی اور اچھا کٹ جائے گا۔ بتانے لگا کہ وہ 24 سال کا ہے۔ 2018 میں پاسپورٹ بنا اور 2021 میں دبئی چلا گیا۔ میں نے کہا: تم ایک سال بعد کیوں نہیں آئے۔ بولا: ایک سال میں آو تو اپنے ٹکٹ پر، دو سال میں کمپنی کے ٹکٹ پر۔ اس کی باتیں بہت عام سی تھیں لیکن انداز بہت دلچسپ تھا۔
دبئی کی ہی باتیں کرتا رہا۔ کہنے لگا ہم 6 لوگ ایک بڑے کمرے میں رہتے ہیں۔ کمرے میں ٹی وی نہیں۔ وجہ یہ کہ سب ڈسٹرب ہو سکتے ہیں۔ ہمارا سب کچھ ہمارا موبائل ہے۔ کمرے میں آئے تو گھر والوں سے، دوستوں یاروں سے بات کی۔ صبح اٹھے۔ 3 درہم کا ناشتہ کیا۔ ایک ایک درہم کی پراٹھا، انڈا اور چائے۔ میں نے کہا: دوپہر اور رات کا کھانا؟ کہنے لگا کہ زبردست سیٹنگ ہے۔ آج کل یہی چل رہا ہے۔ 300 درہم دیتا ہوں ایک ہوٹل کو، وہ دیتا ہے دو وقت کا۔۔ مطلب 5 درہم ایک وقت کا۔ روٹیاں دونوں وقت دو ملتی ہیں۔ فائدہ یہ ہے 3 درہم میں مرغی، قیمہ، بریانی سب کھانے کو مل جاتا ہے۔ میں نے پوچھا کتنے درہم خرچ کر لیتے ہو مہینے کے۔ کہنے لگا: 375 درہم بھی بہت ہیں۔ باقی گھر پر۔ سر 80 روپے کا ہوگیا ہے ایک درہم۔ مجھے لگا۔ روپے کی قدر تو ہمارے لیے گری ہے۔ اس کی تو گھر میں عزت اور بڑھ گئی ہوگی۔
میں نے پوچھا: اوور ٹائم بھی کر لیتے ہو۔ بتانے لگا کہ 10 درہم فی گھنٹہ لیکن روز نہیں۔۔ ورنہ مزے نہ آ جائیں سر۔
میں نے پوچھا: عید تہوار پر گھر، دوست اور شہر یاد نہیں آتا۔ اداس سا ہوگیا: کس کو یاد نہیں آتا۔ بس موبائل پر بات کر لیتے ہیں۔ پھر کہنے لگا: اگر گھر والوں کی یاد سے بچنا ہے تو گھر والوں سے کم سے کم بات کریں ورنہ ان کی یاد بہت ستائے گی۔ میں نے پوچھا کہ تمہاری عمر کتنی ہے تو بولا: 24 سال کا ہوں۔ چار پانچ سال اور لگاؤں گا۔ سچ پوچھیں دل تو 6 مہینے میں ہی بھر گیا تھا مگر وہ کیا ہے کہ ہر مہینے سوا لاکھ تک گھر والوں کو جو مل جاتے ہیں۔
ترقی کے متعلق پوچھا تو کہنے لگا: ترقی کا زیادہ چانس نہیں۔ دو سال میں 500 درہم بڑھے ہیں۔ سپروائزر بھی بن گیا تو 3 یا ساڑھے 3 ہزار درہم سے اوپر نہیں جا پاوں گا۔ اسے شکایت تھی کہ انڈینز اور بنگلہ دیشی بہت کم تنخواہ پر آ جاتے ہیں۔ اس وجہ سے ارباب ہمیں ترجیح نہیں دیتے۔
اترتے اترتے میں نے پھر کہا: ایک مہینے کے لیے آئے ہو کیوں بائیک چلا رہے ہو؟ مسکرایا: کوئی اضافی محنت تھوڑی کر رہا ہوں۔ جب بھی گھر سے باہر نکلتا ہوں۔ ایپ آن کر لیتا ہوں۔ قریب کی سواری مل جاتی ہے تو پیٹرول کا خرچہ نکل آتا ہے۔ کہنے لگا: کراچی میں تھا تو بڑا لا ابالی تھا۔ باہر گیا ہوں تو عقل ٹھکانے آ گئی ہے۔ سمجھ میں آ گیا پیسے کمانے کی ایک خاص عمر ہوتی ہے۔ اسے ضائع نہیں کرنا چاہیئے۔
جاتے جاتے کہنے لگا: سر آپ کو پتہ ہے۔ ابھی جب دبئی جاؤں گا تو گھر بہت یاد آ گئے مگر گیا بھی تو انہی کے لیے ہوں۔ ہم پیسے تو بھیجتے ہیں مگر تنہائی سے اس کی قیمت اکیلے ادا کرتے ہیں۔۔ خاموشی سے! اس نے یہ کہا ضرور تھا مگر اس وقت بھی مسکرا رہا تھا۔ مجھے یقین ہے ایک دن تتلی اس کے کاندھے پر ضرور آ کر بیٹھے گی۔
میں بہت لوگوں سے ملتا ہوں مگر زندگی گزرنے کا جو سادہ و قابل عمل فلسفہ ان عام لوگوں کے پاس ہے، نام نہاد فلسفیوں کی گفتگو تو مجھے کھٹے میٹھے فالسے لگتی ہے۔

