Pir Bazar Ki Pirnian
پیر بازار کی پیرنیاں

سنا ہے کہ ڈیفنس کراچی میں اتوار بازار معاف کیجئے گا سنڈے بازار لگتا ہے۔ جہاں اپر کلاس کے سارے لوئر، مڈل اور اپر کلاس کے لوگ آتے ہیں۔ ہم سے پرانا علاقہ تو چھوٹا مگر پیر بازار نہ چھوٹا۔ میں جب یہاں کی عورتوں کو سامان سے لدا پھندا دیکھتا ہوں تو مجھے عورتوں سے زیادہ سامان کی پیرنیاں لگتی ہیں۔ اللہ جانے ان میں اتنی طاقت کہاں سے آتی ہے کہ 50 کلو کی عورت 25 کلو کا سامان اٹھا لیتی ہے اور اس پر بھی خریداری سے دل نہیں بھرتا ہے جبکہ ہمارا دل بھر بھر آتا ہے۔ سامان اٹھا کر ان کی سانس پھولتی جبکہ ہماری اکھڑنے لگتی ہے۔ یہ پیرنیاں ایسے سامان لے کر آتی ہیں جیسے اکھاڑے سے مقابلہ جیت کر آ رہی ہوں۔ اس پر بھی کہنا یہی ہوتا ہے۔ سب کہاں لائی؟ پیسے ہی نہیں بچے۔ آپ دیتے ہی اتنے کم دیتے ہیں۔
ذرا Mall اور مال کا فرق تو دیکھئے
ہم مڈل کلاس لوگوں کے بچے بھی روانی اور فراوانی سے انگریزی بولنے لگے ہیں۔ ہماری بھانجی پیر بازار کو منڈے مال کہتی ہے۔ اردو اور انگریزی کے مال پیش اور زبر کا فرق ہے لیکن اردو میں ایک ہی طرح سے لکھا جاتا ہے۔ مال اردو میں رقم کو کہا جاتا ہے اور جہاں یہ مال لٹایا جاتا ہے۔ اسے انگریزی میں مال کہتے ہیں۔ میں نے اس سے کہا کہ واقعی یہ مال خرچ کرنے کی جگہ ہے۔ کہنے لگی انگریزی میں مالا مال ہونے کے لیے مال تو جانا پڑے گا۔
بچت بازار یا چپت بازار
گو کہ پیر بازار کو بچت بازار کہا جاتا ہے مگر بنیادی طور پر ہماری جیب خالی کرنے کا "تیر بہدف نقصہ" ہے۔ اس بچت کی چپت سیدھی ہماری گدی پر پڑتی ہے اور اس کی لالی ہمارے منہ پر نظر آتی ہے اور ہم جیسے نہ جانے کتنے لوگ بلبلا کر بلکہ کلبلا کر رہ جاتے ہیں۔ مجھ سے ہوچھیں تو ڈاکٹر اور میڈیکل اسٹور کے علاوہ دنیا جہان کی ہر چیز وہاں ملتی ہے۔ باعث درد دل کا ہر سامان یہاں موجود ہے۔ ہمارے دوست کے بقول دنیا کی سب سے زیادہ impulsive buying کریڈٹ کارڈ سے نہیں ہوتی بلکہ ان بچت بازاروں سے ہوتی ہے۔
جب بھی گھر میں کوئی سامان قریب الختم ہو کر طلبگار رقم وتا ہے تو ہم آنا کانی کرتے ہیں۔ ایسے میں اعلان ہوتا ہے کہ کوئی بات نہیں، پیر بازار سے آ جائے گا۔ میں کہتا ہوں کہ جب سب کچھ وہاں ملتا ہے تو پیسوں کی کوئی مشین بھی لگوا لو۔ جواب آتا ہے کہ پیسے سے سب ملتا ہے، بس پیسے نہیں ملتے۔ کوئی مانے نہ مانے یہ پیر بازار ہم سب کو وقت سے قبل پیرانہ سالی کا شکار کر رہے ہیں۔ اتوار کی شام سے پیر کا نوحہ پڑھ رہے ہوتے ہیں۔
اب ذرا خریداری کے بہانے تلاش کرتے ہیں۔ جب مجھے کوئی خریداری اضافی نظر آئے تو کہا جاتا ہے کہ سوچا جب آئیں تو سوچا لیتے چلیں۔ پھر پتہ نہیں کب آنا ہو۔ میں کہتا ہوں پیر بازار کی عبادت قضا ہوتے میں نے تو آج تک نہیں دیکھی۔ اب ذرا گفتگو بھی سن لیں۔
شوہر: پیاز سے بڑا۔ پیار ہوگیا۔ جتنی مہنگی اتنی زیادہ؟
بیوی: پیار وار کچھ نہیں ہوا۔ کھڑی جلتی ہوں مگر کیا کروں اس کے بغیر کچھ پکتا نہیں۔
شوہر: مطلب یہ اور میں برابر ہوئے۔۔ ایک کے بغیر کچھ پکتا نہیں دوسرے کے بغیر کچھ چلتا نہیں اور یہ سبزی اتنی کیوں اٹھا لائیں۔ کون کھائے گا؟
بیوی: گوشت اتنا مہنگا ہے کہ اللہ کی پناہ۔ اللہ اللہ کریں اور اسے ہی گوشت سمجھیں۔
شوہر: تو ایک کام کرو آج مولی کی ٹانگ پکا لو اور اس میں پودینے کی کلیجی بھی ڈال دینا۔ مزا تہہ و بالا ہو جائے گا۔
بیوی: طنز نہ کریں۔ ابھی اگر پورے ہفتے کا گوشت لے آتی تو آسمان سر پر اٹھا لیتے۔
شوہر: آسمان سر پر اٹھانے کی بات کرتی ہو۔ اس مہنگائی میں تو سر اٹھانے کی طاقت نہیں۔
جب تک پیر بازار یا اس نسل کے ہفتہ وار بازار لگتے رہیں گے، یہ گفتگو جاری رہے گی۔
ہم پیر بازار کے لیے رقم دیتے رہیں گے۔

