Pehle Pairon Talay Zameen Nahi, Phir Pair Zameen Par Nahi
پہلے پیروں تلے زمین نہیں، پھر پیر زمین پر نہیں

میں پیدائشی شرمیلا ہوں لیکن اب ایک سازش کے تحت باتونی اور مجلسی ہوگیا ہوں۔ یہ 2007 کی بات ہے جب تک میں نے زندگی میں کبھی مائیک پکڑا بھی نہ تھا۔ شو کی کمپیئرنگ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ کوئی کہتا تو پسینے چھوٹ جاتے، سانس رکی کی رکی رہ جاتی لیکن یہی زندگی ہے وہ آپ کو مواقع فراہم کرتی ہے۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کیا کرتے ہیں۔
ہمدرد کے سو سال مکمل ہونے پر کراچی تا پشاور کاروان ہمدرد چلانے کا پروگرام ترتیب دیا گیا جس کے تحت ہمیں روزانہ مقرر کردہ شہر میں سے ایک شہر کے کسی پر ہجوم مقام جیسے کسی میدان یا چوک پر شو کا انعقاد کرنا تھا۔ کارون ہمدرد کی افتتاحی تقریب کراچی کے مشہور سینٹر میں ہوئی۔ میں نے کراچی کے علاوہ لاہور، راولپنڈی اور پشاور کے بڑے شوز کے لیے اس وقت کے ایک مشہور ٹی وی آرٹسٹ کو بطور کمپیئر طے کر لیا۔ افتتاحی تقریب میں ان کا انداز کمپیئرنگ ہمدرد کو پسند آیا کہ وہ ہمدرد کے مزاج سے میل نہ کھاتا تھا۔
افتتاحی تقریب کے بعد ہمدرد کے ایک اعلی عہدے دار نے مجھ سے کہا کہ یہ کمپیئر مناسب نہیں۔ آپ نے کسی اور کا انتخاب کر لیں۔ میں گھبرا گیا اور سوچ میں پڑ گیا کہ اس افتاد کا کیا کروں۔ کچھ دیر بعد وہ صاحب بولے: آپ خود کیوں نہیں کر لیتے۔ یہ اس سے بڑی افتاد محسوس ہوئی۔ لگا کہ یہ گھنٹی میں نہیں باندھ پاوں گا اور باندھ لی تو بجانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان صاحب کا اصرار حکم کے درجے تک جا پہنچا اور مجھے بہرحال کارواں چلانا تھا، راضی ہوگیا۔
کارواں سفر کرتے رہا، ہم گھبراتے رہے مگر تیاری بھی کرتے رہے۔ میں پروگرام سے ایک دن پہلے لاہور پہنچ گیا۔ جو حالت تھی وہ بیان سے باہر تھی۔ اس پر ایک مسئلہ یہ بھی ہوا کہ لاہور سے پہلے فیصل آباد میں شو تھا۔ ہمدرد نے اس بات پر خاصی برہمی (اب سرزنش زیادہ بہتر رہے گا) کا اظہار کیا کہ میں فیصل آباد کیوں نہیں گیا اور وہاں کمپیئرنگ کیوں نہ کی۔ اب دماغ پر یہ ٹینشن بھی سوار گو کہ فیصل آباد کے لیے میری کمپیئرنگ کی بات نہ ہوئی تھی۔ اس کے لیے دیگر شہروں کی طرح ایک کمپیئر کارواں کے ساتھ ہی چل رہا تھا۔
دوپہر کو ہمدرد کارواں کو فیروز پور روڈ پر پہنچنا تھا۔ تقریب بڑی ہوگی یہ تو پتہ تھا مگر اس پیمانے پر ہوگی یہ نہ سوچا تھا۔ ہمدرد مرکز کے باہر ایک جشن کا سماں تھا۔ جشن کی یہ کیفیت میری جان ہلکان کیے جا رہی تھی۔ کارواں پہنچا تو اس کا مشہور وکیل و سیاست داں ایس ایم ظفر نے استقبال کیا۔ بینڈ کو خصوصی طور پر بلایا گیا تھا۔ اسکول کے بچے بلوائے گئے تھے۔ کارواں کا شاندار استقبال کیا گیا۔ گل پاشی کی گئی۔ اس کے بعد ہمدرد مرکز کے آڈیٹوریم میں پروگرام کا آغاز ہونا تھا۔ ہال کچھا کچھ بھرا تھا اور میری سانس رکی جا رہی تھی۔
پروگرام کے آغاز سے قبل ہمدرد مرکز لاہور کے منتظم نے مجھ سے کہا کہ میں ہمدرد مرکز لاہور کے پروگرامز کی کمپیئرنگ کرتا ہوں۔ آپ کہیں تو یہ فریضہ میں انجام دے لوں۔ میری تو گویا من کی مراد بھر آئی۔ ابھی ہاں کہنے کا سوچ رہا تھا کہ ہمدرد کراچی کے اعلی عہدے دار کی یہ بات کہ کمپیئرنگ آپ نے ہی کرنی یاد آ گئی۔ میں ان صاحب کو بھی ناراض کرنا نہیں چاہتا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کراچی میں متعلقہ صاحب سے بات کر لیں تو مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ میری اس بات پر وہ صاحب خاموش ہو گئے۔
ہمدرد مرکز لاہور کا آڈیٹوریم مکمل بھر چکا ہے۔ مجھے روسٹرم پر آ کر پروگرام کا آغاز کرنا تھا۔ پہلی رو میں کون کون بیٹھا وہ بھی سن لیجئے۔ ایس ایم ظفر، ڈاکٹر مسکین علی حجازی، جنرل راحت لطیف، ہمدرد کے ڈسٹری بیوٹرز، شہر کے وہ پڑھے لکھے لوگ کے جن سے میں واقف نہیں تھا۔ میرا یہ حال کہ پسینے چھوٹے جا رہے ہیں۔ دل کی دھڑکن بے ترتیب، سانس اوپر نیچے۔ دل یہ کہے کہ بھاگ جاو مگر اب ایسی کوئی صورت نہ تھی۔ بس تھی تو میری صورت۔
اس صورت پر جو سورتیں یاد تھیں، پڑھیں اور اللہ کا نام لے کر روسٹرم پر آ گیا۔ زندگی میں پہلا موقع تھا کہ اتنے لوگ بیک وقت مجھے دیکھ رہے تھے۔ شاید شادی کے موقع پر بھی اتنے لوگوں نے اس طرح نہ دیکھا ہوگا۔ میں نے ہمدرد کی ابتدا اور اس کے سو سالہ سفر کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ حکیم محمد سعید کی حیات و کارناموں کا ذکر کیا۔ اس سے قبل ہمدرد کی صد سالہ ڈاکومینٹری لکھ چکا تھا۔ اس لیے بہت کچھ ازبر تھا۔ اس زمانے میں لوگوں کے بقول میں حافظِ ہمدرد تھا۔
چار پانچ منٹ تک تو آواز کو حلق سے نکلتے ہوئے خوف نے حلقہ کیے رکھا۔ تلاوت قرآن پاک اور نعت شریف تک میں کافی حد تک خود پر قابو پا چکا تھا۔ شرکاء کے چہروں پر سنجیدگی اور انہماک دیکھا تو ہمت بندھی۔ اب صورت حال میرے کنٹرول میں تھی۔ پروگرام کی نوعیت سنجیدہ تھی۔ میں پروگرام کو دلچسپی کے ساتھ چلانے کے لیے کہیں کہیں ہلکے پھلکے برجستہ جملے (جو کہ پہلے سے تیار تھے) نذر شرکاء کرتا رہا جس کا خلاف توقع بہت اچھا رسپانس آیا۔ مختلف مقررین کو مدعو کرتا رہا۔ اس دوران ہمدرد اور حکیم محمد سعید سے متعلق وہ بھی معلومات دیتا رہا کہ جس سے وہاں موجود اکثر لوگ واقف نہ تھے۔ یہ میری زندگی پہلی کمپیئرنگ تھی۔ مجھے احساس ہوا کہ لائم لائٹ میں آنا ابتدا میں کتنا مشکل اور گاڑی چل پڑے تو کتنے سرور انگیز ہے۔ گو کہ وہ مجمع دو ڈھائی سو افراد پر مشتمل تھا مگر مجھ جیسے غریب کے لیے تو یہ بھی اوقات سے بہت بڑھ کر تھا۔
پورا پروگرام میرے اندازوں سے بڑھ کر کامیاب ثابت ہوا۔ ایس ایم ظفر کو دعوت خطاب دی گئی تو انہوں نے اپنی تقریر میں چار پانچ مرتبہ کہا: جیسا کہ اظہر عزمی نے بتایا، جیسا کہ ابھی آپ نے ذکر کیا۔ یہ جملے میرا حوصلہ آسمان پر لے گئے۔ ادھر پروگرام ختم ہوا اور میں وہاں سے فیروز پور روڈ پر پان کی تلاش میں نکل پڑا۔ میرا خیال تھا کہ میں اپنا کام پورا کر چکا ہوں۔ اب میری کیا ضرورت؟ ابھی پان ملا بھی نہ تھا کہ کارواں کے منتظم ندیم نقوی کا فون آ گیا: آپ کہاں ہیں؟ یہاں لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ جلدی آئیں۔
اب جو میں آڈیٹوریم پہنچا تو زندگی کے حسین ترین یادگار لمحات میرے منتظر تھے۔ جنرل راحت لطیف نے انتہائی گرم جوشی سے ہاتھ ملا کر کہا: Well done Jawan. ڈاکٹر مسکین علی حجازی نے کہا: ایک عرصے بعد کراچی سے ایک اچھی آواز سنی ہے۔ ایک صاحب نے کہا: کیا آپ کراچی سے ٹی وی پروگرام کرتے ہیں۔ کمپیئرنگ کی سب نے بہت تعریف کی اور وہ آواز جسے میں نے اپنی شخصیت میں منفی نمبروں پر رکھا، آج اسے سراھا جا رہا تھا۔ دل ہی دل میں پروردگار کا شکر ادا کر رہا تھا۔
میرے تو پیر زمین پر نہ تھے۔ پروگرام سے پہلے یہ حال تھا کہ پروگرام کی کمپیئرنگ کرنے کے لیے میں کسی کے بھی پیر پکڑنے کو تیار تھا۔ مجھے بیچ میں کھڑا کرکے تصاویر کھینچوائی گئیں (اللہ اکبر)۔ پروگرام بہت اچھا تھا۔ بس برا یہ ہوا کہ جن صاحب نے پروگرام کی ویڈیو بنائی اس میں آواز گڑگڑاہٹ اور ٹوٹ کا شکار رہی۔
ابھی راولپنڈی اور پشاور کا قصہ باقی ہے۔

