Monday, 27 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Azmi
  4. Najju Bhai Ka Qeema Ghotala Hotel

Najju Bhai Ka Qeema Ghotala Hotel

نجو بھائی کا قیمہ گھوٹالہ ہوٹل

کیسے اپنے جذبات و خیالات کو ایک ڈوری میں پرو کر نجو بھائی کی خدمت میں پیش کروں۔ لفظوں کا کون سا خیاط بنوں کہ ان کی حیات کو مجسم باعث تکریم کر سکوں۔ ان کی تعظیم و تعریف کو الفاظ کہاں سے لاؤں۔

آپ کان سے کانا کرتے تھے

نجو بھائی کی شخصیت کی سب سے زندگی آثار خوبی ان کی گہری و بھاری آواز اور پاٹ دار قہقہے تھے۔ اگر آپ صرف سن رہے ہوں تو کسی ریاست کے راجہ ہونے کا گمان ہو۔ قوت سماعت کمزور تھی لیکن گفتگو بزور تھی۔ انہیں کسی کی سننی کہاں تھی اس لیے وہ اس کمزوری کو اپنی طاقت جانتے تھے اور اس کا بھرپور استعمال کرتے۔ میں نے ایک بار ان سے کہا تھا کہ لوگ آنکھ سے کانے ہوتے ہیں مگر آپ کی پر جلال آواز کے باعث لوگ کان سے کانے ہو رہے ہیں۔ ایک دو بار آلہ سماعت کا کسی نے کہا بھی تو بولے: جب ہم بول رہے ہوں تو کسی کو بولنے کی کیا ضرورت ہے۔ گفتگو ایسی کہ اکیلے ہی محفل اٹھا دیں۔ کمال کے بذلہ سنج، گفتگو میں واقعات سنانے کا انداز ایسا کہ ہر جملہ دافع رنج ثابت ہو۔

نجو بھائی ہمارے عزیز تھے۔ پہلے اندرون سندھ رہا کرتے۔ 70 کی دھائی کے آواخر میں کراچی آ بسے اور ہمارے محلے میں مقیم ہوئے اور پھر نجو بھائی کی شخصیت کے جوہر کھلے۔ نجو بھائی کی ہمارے چچازاد بھائی سے خوب بنتی تھی۔ نجو بھائی ان کو کو بہت عزیز و قریب جانتے۔ مجھے تو خیر نجو بھائی احمق یا مسخرہ تصور کرتے اور کوشش کرتے کہ میں ان کے پاس نہ ہی ہوں لہکن بھائی میں کیوں نہ ہوں؟ مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے۔ چچازاد ان کی غیر موجودگی میں تو خوب ہنستا لیکن سامنے مودب بنا اور ہر بات پر جی نجو بھائی کی رٹ لگائے رکھتا۔ اس کی ساری دل چسپی نجو بھائی کی ہنڈا سیون ٹی موٹر سائیکل میں تھی جسے نجو بھائی چلانے کے لیے کبھی کبھی دے دیا کرتے تھے۔

نجو بھائی کی تعلیم سے متعلق تو علم نہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ ان کے پاس ہر قسم کی گفتگو کی پوٹلی ہر وقت تیار رہتی۔ کبھی کبھی تو ایسی بے پر کی اڑاتے کہ درختوں پر بیٹھے پرندے بھی اڑ جاتے۔ میرا خیال ہے کسی تعلیم گاہ نے ان کا منہ نہ دیکھا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی ڈگری یافتہ کو خاطر میں نہ لاتے اور اگر کوئی کوشش کرے تو خوب خاطر و مدارات کرتے۔

نجو بھائی طبعیتا صفائی پسند تھے گو کہ لفظوں میں وہ اس صفائی کا خیال نہ رکھ پاتے۔ آنا جانا ہو کہ نہ ہو مگر روز شیو کرتے۔ پینٹ شرٹ پہنتے لیکن شرٹ کو پینٹ میں نہیں ارستے۔ نجو بھائی مجلسی آدمی تھے جس میں خطیب اول و آخر رہنے کی کوشش کرتے اور سب کو اپنا سامع تصور کرتے۔ جہاں کوئی ان کی گفتگو میں اپنے لفظوں کے روڑے اٹکاتا تو عجیب اونچی آواز میں "ہیں" کہتے اور سلسلہ کلام وہیں سے جوڑتے کہ جہاں سے چھوٹا تھا۔

ڈاکٹر سے گفتگو۔ نبض کو سمجھے نرس

ایک مرتبہ تیز بخار چڑھا تو ہم ڈاکٹر کو بلا لائے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب ڈاکٹر بلانے پر گھر آ جایا کرتے تھے۔ اب تو موت کا فرشتہ سر پر کھڑا ہو اور آپ ڈاکٹر سے ایمرجنسی میں آنے کو کہیں تو ان کا کمپاؤنڈر کہتا ہے کہ ابھی آپ فرشتے کو لے جانے دیں۔ ڈاکٹر صاحب کلینک ختم ہونے کے بعد آکر دیکھ لیں گے۔ خیر میں ڈاکٹر لے آیا، ں جو بھائی بستر پر نیم دراز تھے۔ ایک تو تیز بخار اوپر سے اونچا سننے کا مسئلہ۔ اونچ نیچ تو ہونی تھی۔ ڈاکٹر نے کہا: نبض چیک کرائیں۔ کہنے لگے: نہیں ڈاکٹر صاحب ابھی نرس کی ضرورت نہیں۔ میں خود کو سنبھال لوں گا۔ ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا: بخار سر پر چڑھ رہا ہے۔ کیا ان کی شادی ہوگئی؟ نجو بھائی نے کہا: نہیں جی، میرے پیدا ہونے سے پہلے ہی مر گئی تھیں دادی۔ ڈاکٹر چونک گیا۔ میں نے نجو بھائی کو اونچی آواز میں ڈاکٹر کا کہا دہرایا تو بولے: ہلکے بول کیا بہرہ ہوگیا ہے۔

نجو بھائی نے زندگی بھر ملازمت کو ہاتھ نہ لگایا تو پھر ملازمت بھی زندگی بھر کسی حسینہ کی روٹھ رہی ہے اور کبھی دونوں کا سنجوگ نہ ہو پایا۔ وجہ ان کے والد کا صاحب حیثیت ہونا تھا جس کو وہ سینے سے لگائے بیٹھے تھے لیکن جیب تو سکہ رائج الوقت مانگتی تھی۔ نجو بھائی کاروبار کے مختلف پروگرام بناتے اور بیٹھے بیٹھے لکھ پٹی ہو جاتے۔

ہوٹل کھولنے کا فیصلہ

نجو بھائی نے ایک مرتبہ گھر کے قریب ہی بہت چھوٹے پیمانے پر ہوٹل کھولنے کا پروگرام بنایا۔ خیال یہ تھا کہ لوگ پہلے ہی دن صف بہ صف اور حلق در حلق ان کے ہوٹل کے گرد حلقہ بگوش ہو کر ان کے کھانوں پر ایمان لے آئیں گے اور علاقے کے تمام ہوٹلوں کے چولھے ٹھنڈے ہو جائیں گے۔ نجو بھائی نے کھانوں کے انتخاب کے سلسلے میں ایک دو رکنی کمیٹی بنائی جس کے سربراہ وہ خود اور واحد رکن ہمارے چچا زاد بھائی تھے۔ ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی بطور خاموش مبصر شریک کر لیا گیا۔ اس دو رکنی کمیٹی نے کھانوں کا انتخاب کمیٹی کے سربراہ کے حوالے کر دیا۔

ہوٹل کے افتتاح کے موقع پر انہوں نے خود دو تین سالن بنائے۔ کہنے لگے: دیکھنا سب انگلیاں چاٹتے رہ جائیں گے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کہ نجو بھائی باتوں کے علاوہ کھانوں بھی بہت مزیدار بناتے تھے۔ پہلے دن صبح دس بجے کے قریب پتلی گلی سے دو تین پتیلے ہوٹل پہنچا دیئے گئے۔ نجو بھائی اور چچا زار بھائی ہوٹل کی کل ورکنگ فورس تھے۔ ہم دو تین مرتبہ ہوٹل کے پاس ضرور منڈلانے مگر نجو بھائی ہمیں ignore مارتے رہے۔ ان کا خیال تھا کہ میرا آنا بد شگونی ہوگا۔ ہمیں بھی چین کہاں تھا۔ گلی کے کونے پر نیم کے درخت کے نیچے جاتے اور کھڑے ہو جاتے۔ ہوٹل کی بے رونقی دیکھتے۔ بیچ بیچ میں چچا زاد بھائی آ کر جھلکیاں اور جھڑکیاں سنا جاتا تو وہاں نہ ہونے کا غم جاتا رہتا۔

اسپیشل ڈش۔ بھنا قیمہ

جیسے جیسے سورج سر پر آ رہا تھا۔ بکری کے سائے اور گللک کا منہ کھلتا جارہا تھا۔ نجو بھائی کے ہوٹل کا سارا دار و مدار قریب میں واقع ٹرک مکینیکس کی دکانیں تھیں جہاں کام کرنے والے شدید محنت کے باعث خوش خوراک ہوا کرتے تھے۔ نجو بھائی کا خیال تھا کہ وہاں کام کرنے والے جب ان کے ہاتھ کا پکا کھائیں گے تو ان کے ہاتھ چھوم لیں گے اور دوسرے ہوٹل والے کی کرسیوں پر صف ماتم بچھ جائے گی۔

دوسرا دن۔ آلو قیمہ

دوپہر میں کچھ مکینکس آئے لیکن جو پکایا تھا وہ سب نہ بکا۔ چائے البتہ کسی قدر چلی لیکن اس میں زیادہ تر نجو بھائی اور چچازاد بھائی نے معدے میں انڈیلی کہ دونوں چائے کے رسیا تھے۔ شام کو دکانیں بند تو ہوٹل بھی بند۔ جو بچا تھا وہ فریج میں رکھ دیا گیا۔ نجو بھائی حالات سے مایوس نہیں تھے۔ فیصلہ ہوا کہ بھنا قیمہ خاصا بچ گیا ہے۔ اس لیے اس میں آلو اور پانی کی بابرکت شراکت کو یقینی بنایا جائے۔ دوسرے دن دوپہر میں ایک دال اور آلو قیمہ رکھا گیا لیکن نتائج میں ستائش کا پہلو نہ نکلا بلکہ الٹی آزمائش گلے پڑ گئی۔ کل سے بھی کم گراہک آئے۔ اب نجو بھائی کا صبر جواب دے رہا تھا اور قہر مائل بہ سوال تھا۔ سرمایہ کاری زیادہ تھی اس لیے خاموشی کا زہر پی لیا گیا کہ اس وقت یہی تریاق تھا۔

تیسرا دن۔ آلو والی قیمہ بریانی

آلو قیمہ اب بھی جان ہی نہیں چھوڑ رہا تھا۔ تیسرے دن کے لیے گراہکوں کے عظیم تر مفاد میں اس سے آلو والی قیمہ بریانی بنانے کا فیصلہ کیا گیا لیکن اس بار بات کھل ہی گئی کہ یہ پہلے دن کا قیمہ ہے کہ جو چولا بدل بدل کر گراہکوں کے نظام ہضم کو درہم برہم کر رہا ہے۔ بات تو تو میں میں تک پہنچی تو نجو بھی کھل کر سامنے آ گئے اور ان سے یہی کہا کہ تمہیں اچھا کھانے کی تمیز ہی نہیں۔ جاو وہی خراب کھانے کھاو۔ ایک گراہک نے کہہ بھی دیا: یہ کیا قیمہ گھوٹالہ چل رہا ہے۔ پہلے دن قیمہ برات کا دوسرے دن آلو قیمہ ولیمے کا۔ یہ تیسرا دن کی آلو والی قیمہ بریانی کس چکر میں؟

قیمہ گرفتہ فیصلہ

تیسرے دن کی شام ہوٹل کو بند کرنے کا قیمہ گرفتہ فیصلہ کر لیا گیا اور یوں نجو بھائی نے کامیابی کے جو خیالی پلاؤ پکائے تھے اس کا قیمہ قیمہ ہوگیا۔ ہمیشہ کے لیے ڈھکن ڈھک دیا گیا اور یوں نجو بھائی کا قیمہ گھوٹالہ ہوٹل تین دن کے بعد بند اور نجو بھائی گھر پر!

About Azhar Hussain Azmi

Azhar Azmi is associated with advertising by profession. Azhar Azmi, who has a vast experience, has produced several popular TV campaigns. In the 90s, he used to write in newspapers on politics and other topics. Dramas for TV channels have also been written by him. For the last 7 years, he is very popular among readers for his humorous articles on social media. In this regard, Azhar Azmi's first book is being published soon.

Check Also

Jab Mamta He Maqtal Ban Gayi

By Malik Asad Jootah