Mobile, Aaj Ki Tafreeh, Sab Se Tafreeh Le Raha Hai
موبائل، آج کی تفریح، سب سے تفریح لے رہا ہے

ایک زمانہ تھا جب انسان انسان سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتا تھا اور اب بات نہ کرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے بلکہ کونوں کھدروں میں چھپتا پھرتا ہے۔ اب انسان کو ایک جن نے قابو کر لیا ہے جس کا نام ہے موبائل فون جو بہت خاموشی سے احترام، لحاظ، رواداری، اخلاقیات، رشتوں اور تقدس و تہذیب کا جنازہ نکال رہا ہے۔
پہلے ایک محاورہ سنا تھا۔ ایتر کے گھر میں تیتر، باہر رکھوں یا بہیتر۔ اب یہ باہر ہے نہ بہیتر بلکہ انسان کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ رات سوئیں تو آخری مرتبہ یہی نظروں کے سامنے حشر ساماں ہوتا ہے۔ صبح پہلا دیدار اس کا نہ ہو تو خطرے کا ریڈار گھومنے لگتا ہے۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ اب کریکٹر سرٹیفکیٹ کے لیے کسی پولیس اسٹیشن جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ کا موبائل ہی آپ کا کریکٹر سرٹیفیکٹ ہے۔ ذرا دیر نظروں سے دور ہو تو سانس حلق میں پھنس جاتی ہے۔ موبائل کا پاس ورڈ جتنا مشکل ہو سمجھ لیں۔ اس انسان کے کرتوت اتنے ہی ٹھیک نہیں۔
پہلے رشتے دل سے بنتے تھے۔ اب موبائل سے بنتے ہیں مگر اب ساری دلداریاں فاسٹ فوڈ ہوگئی ہیں۔ صبح راہ و رسم، دوپہر میں محبت، شام میں اختلافات اور رات میں ہم کہاں، تم کہاں!
پہلے محبت میں سگنل دل سے آیا کرتے تھے۔ اب ڈیٹا پیکیج سے آتے ہیں۔ سگنل نہ آئیں تو سمجھیں کہ کسی کے دل میں محبت کا بیلنس ناکافی ہے۔
پہلے عاشق خط لکھتا تو سینہ قرطاس پر اپنے سینے کو چیر دل نکال کر رکھ دیتا۔ اب انگلیاں کسی آوارہ پنچھی کی طرح تھر کر پیغام محبت دیتی ہیں۔ خط لکھتے ہی واٹس ایپ پر ریڈ ہو کر ریپلائے نہ آئے تو غصہ سر سے اتر کر منہ سے بولتا ہے: کم بخت نے دیکھ لیا مگر جواب دینے میں ہاتھ ٹوٹ رہے ہیں۔ محبت فاسٹ فوڈ میں تبدیل ہوگئی ہے۔ ابھی شروع، ابھی ختم!
پہلے عاشق و معشوق میں فاضلہ جسمانی ہوتا تھا۔ اب سگنل کا ہے۔ جس کو دیکھو ہاتھ میں موبایلی دل لیے پھر رہا ہے۔ ایک اشارے میں پھولوں کے سگنلز کی دکان روانہ محبوب کر دیتا ہے۔ ایک دن لڑکی نے کہا: میں تمہاری محبت میں پہلے جیسے سگنل محسوس نہیں کر رہی ہو۔ ایک بات کے جواب میں پانچ پانچ منٹ۔ لڑکے نے کہا: تم دل میں شک کی دیوار کھڑی نہ کرو۔ نیٹ سلو چل رہا ہے آج۔ تم سے پہلے دو نے یہی شک۔۔ ایت کی ہے۔
ایک دن لڑکے نے کہا: زندگی کسی کام کی نہیں۔ جی چاھتا ہے خودکشی کر لوں۔
لڑکی نے مسکرا کر کہا: موبائل کو چارج پر لگاؤ پھر خود خوشی مناؤ۔
اگر کسی کا موبائل فون گم ہو جائے تو لگتا ہے جیسے جنازہ اٹھنے والا ہو۔ لوگ تعزیت جیسے انداز میں کہتے ہیں: صبر کرو۔ اللہ اس سے بہتر دے گا۔ بیک آپ لے لیا تھا نا؟
ایک دن بیوی نے شوہر سے کہا: پاس ورڈ کیوں نہیں بتاتے اپنے موبائل کا۔ مجھ پر بھروسا نہیں کیا؟
شوہر نے مسکراتے ہوئے کہا: مجھے تو ہے پر میرے موبائل کو نہیں۔
پہلے بیوی میکے جاتی تو لینڈ لائن پر رابطہ رہتا۔ اب ڈیٹا پیکیج جتنا چلتا ہے محبت بھی اتنی۔ ویسے شوہر بیوی کے جانے کے بعد بیوی کا نمبر بلاک ہی کر دیتا یا پھر میوٹ کر دیتا ہے۔
پہلے بچہ روتا تو ماں گود میں لیتی۔ بھوکا ہوتا تو فیڈر منہ سے لگا دیتی۔ اب ادھر بچہ رویا اور ادھر کارٹون نیٹ ورک لگا کر موبائل ہاتھ میں تھما دیا۔
پہلے لوگ ضروری کام سے فون کیا کرتے تھے۔ اب ایک دم واٹس ایپ کی بتی جلتی ہے اور بندہ اہم ترین کام بھی کر رہا ہو تو سب چھوڑ کر چیک کرتا ہے۔ کسی دوست نے ویڈیو سینڈ کی ہوتی ہے جس میں ایک بندر ناچ رہا ہوتا ہے اور دوسرا بندر سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔
پہلے چور گھروں میں چوری چھپے داخل ہو کر چوری کیا کرتے تھے۔ اب لنک بھیج کر دل اور ڈیٹا دونوں چرا لیتے ہیں۔
چلیں یہ تو محبت ہے یہاں تو میاں بیوی کا یہ حال ہے کہ سب کچھ موبائل کے غرارے میں غرا رہا ہے۔ شوہر دن میں کبھی بات کر لے تو ایک ہی سوال ہوتا ہے: میرا چارجر کہاں رکھ دیا؟
بیوی تنک کر کہتی ہے: پہلے یہ بتاؤ تم نے میرے میسیج کا جواب کیوں نہیں دیا؟
دونوں سوالوں کا ایک جواب ہوتا ہے۔۔ بیٹری ختم پر تھی۔
اب گوگل پر دنیا کی ہر معلومات اور یوٹیوب پر زندگی کی پہلی سانس سے موت کی آخری ہچکی تک ہر بیماری کا علاج ہوتا ہے۔ ساس کو کیسے ناک آؤٹ کرنے کے ہر حربے سے ہر چیز کے چربہ بنانے کا طریقہ، بیوی کو رام کرکے آرام کرنے کا ہنر، چین میں سانپ کیسے کھاتے ہیں اور برازیل میں سانپ کیسے پکڑتے ہیں۔ سب الٹا سیدھا مال پڑا ہوتا ہے۔ ہر طرح کا مال پڑا ہے بس آپ دیکھنے والے بنیں اور تو اور بارش میں کیسے نہایا جاتا ہے وہ سب دیکھ کر آنکھوں کا پانی مر جاتا ہے۔
اسی لیے تو کہہ رہے ہیں موبائل فون غلامی کا جدید ریموٹ کنٹرول ہے۔

