Kya Aap Ke Muhalay Mein Gidh Party Hai?
کیا آپ کے محلے میں گدھ پارٹی ہے؟

آج کل بندہ ورکنگ ڈیز میں مرے تو آنے والے سوچتے ہیں۔ ہفتہ یا اتوار ہی کو مر جاتا۔ مطلب یہ کہ جس دن ہماری چھٹی ہو اس دن بندے کی دنیا سے چھٹی ہو۔ دوسرا آپشن یہ ہوتا ہے نماز جنازہ مغرب پر ہو تو آسانی سے پہنچ جائیں گے۔ انسان اب ملک الموت کو آپشنز دینے کی سوچتا ہے۔ وہ تو ملک الموت اللہ تعالٰی کے علاوہ کسی کی سنتا کہاں ہے۔ بس جو حکم ہوا بجا لایا۔ یہی وجہ ہے آج کل جنازوں میں موت کی سی خاموشی ہوتی ہے۔ نماز جنازہ میں تو لوگ نظر بھی آتے ہیں لیکن میت گاڑی سے ایسے دور رہتے ہیں جیسے مرحوم کی جگہ انہیں سپرد خاک کر دیا جائے گا۔ قبرستان پہنچیں تو بس سے دو تین چنجی جتنے لوگ نکلتے ہیں۔
ان گنتی کے لوگوں میں کچھ دردِ شکم رکھنے والے بھی ہوتے ہیں۔ صبح سے رات بارہ بجے تک کسی بھی وقت تدفین یو آپ انہیں موجود پائیں گے۔ تدفین سے فاتحہ تک یہ دستیاب ہوں گے۔ فاتحہ کے بعد فاتحانہ شان سے نکل کر یہ بتاتے ہیں کہ مرحوم کا کھانا ہمارے پیٹ میں اترا تو سمجھو بندہ صحیح معنوں میں قبر میں اترا ہے۔ ہمارے محلے میں ایسے لوگوں گدھ پارٹی کہا جاتا ہے۔
ان کے بندے مردہ تلاش مہم پر روز نکلتے ہیں۔ یہ مہم ایک نیٹ ورک کے تحت چلائی جاتی ہے۔ اگر ہمارے محلے میں کوئی بندہ اللہ کو پیارا نہ ہوا تو دوسرے محلے سے خبر کر دی جاتی ہے۔ یہ لوگ حقیقی موت سے زیادہ تحقیقی موت پر یقین رکھتے ہیں۔ گھر کے اندر سے رونے کی آوازیں اور باہر غم زدہ کرسیاں پر محلے کے لوگوں کو سر پر سفید ٹوپیاں پہنے دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ کوئی ٹوپی ڈرامہ نہیں بلکہ واقعی ایک بندہ داعی اجل کو لبیک کہہ گیا ہے اور اب بیک کا کوئی راستہ نہیں۔
گدھ پارٹی کے یہ چار پانچ افراد نماز جنازہ سے پہلے گلی کے کونے پر اور اس کے بعد مسجد میں نمازیوں سے دور ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ چہروں پر غم کی کائی جمی ہوتی ہے۔ یہ نہ تو کسی سے تعزیت کرتے ہیں اور نہ ہی میت کے پاس جاتے ہیں۔ ان کا سارا غم پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ بھی ایسا کہ روز دو تین بندے دفنا دیں اور شکم کو ذرا بھی تنگ دامانی کا احساس نہ ہو۔
لیجیے! نماز جنازہ ہوگئی۔ یہ کاندھا بھی نہ دیں گئے کیونکہ یہ کاندھوں سے زیادہ پیٹ کا بوجھ اٹھانے کے عادی ہیں۔ ان کے پیٹ اس بڑی گاڑی کی طرح ہوتے ہیں جو وزن نہ ہونے پر روڈ پر گرپ نہیں بنا پاتی۔ نماز جنازہ کے بعد رشتے داروں کو کٹنے کی جلدی اور انہیں میت بس میں بیٹھنے کی جلدی ہوتی ہے۔ یہ ہے انسانیت کی معراج، وقتِ آخر جب اپنے قبرستان نہ جائیں تو یہ غیر ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ یہ قبر کو مٹی بھی نہیں دیتے اور نہ مرنے والے کا آخری دیدار کرتے ہیں کیونکہ ان کے دل روز روز میتوں میں شریک ہو کر یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ بندہ اب جب اللہ کو منہ دکھانے جا رہا ہے تو ہم نے دیکھ کر کیا کرنا ہے۔
موت کے گھر واپسی ہو تو اب ان کے ہاتھ اور منہ کھلتے ہیں۔ اہل خانہ غم زدہ ہوتے ہیں اور گدھ پارٹی اس شعر کی عملی تفسیر ہوتی ہے
غم غلط کرنا کوئی مشکل نہیں
انتقاما کھانا کھانا چاہیئے
جس کا ثبوت فاتحہ کے کھانے پر دیتے ہیں۔ غم غلط کرنے کے لیے ڈشوں پر ایسے ہاتھ مارتے ہیں کہ لواحقین کو مرنے والے سے زیادہ کھانے کی کمی کے باعث "عزت کی موت" نظر آتی ہے۔ آپ لاکھ گھوریں، آنکھیں دکھائیں مگر ان کو اپنے کام سے کام۔ جس طرح ملک الموت روح قبض کرتے وقت لے جانے والے کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھتا، اسی طرح یہ ملک الطعام الموت بن کر کھانے کے علاوہ کسی اور طرف نہیں دیکھتے۔ منکر نکیر کو مردے سے سوالات کی اتنی جلدی نہیں ہوتی جتنی انہیں مرحوم کے کھانوں پر ہاتھ صاف کرنے کی ہوتی ہے۔ انگلیاں پھیر پھیر کر پلیٹ ایسے صاف کرتے ہیں جیسے مرحوم کے گناہ دھو کر اسے آگے کی Clean Chit دے رہے ہوں۔
بریانی ہو تو سمجھ لیں مرحوم کی قبر کی منزلیں آسان ہو رہی ہیں۔ ڈش آتے ہی یہ اس کی ساری بوٹیاں مرحوم کے گناہ سمجھ کر اٹھا لیتے ہیں۔ سب آٹھ جاتے ہیں مگر یہ نہیں اٹھتے۔ ان کے نزدیک جب تک منکر نکیر مردے سے ابتدائی سوالات کا سیشن مکمل نہ کر لے، انہیں کھاتے رہنا چاہیئے۔
بات اب آگے پڑھے گی۔ سوئم اور چہلم پر بھی مرحوم کے مغفرتی کھانے کھائے جائیں گے۔ یہ لوگ ہاتھ پھیلانے کے بجائے پیٹ پھیلا کر دعا دیتے ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ان کے پیٹ کے چکر میں گھر کے قریبی افراد کے لیے ایک مزید دیگ منگائی جاتی ہے۔ گدھ پارٹی مرحوم کی دعائے مغفرت میں اپنے اہل خانہ کو بھی شامل کرنا چاہتی ہے۔ اس لیے شاپر ساتھ لے کر چلتی ہے۔ موقع ملے تو بریانی کو مرحوم کے گناہوں کا بوجھ سمجھ کر بریانی کو شاپر میں ڈال لیتی ہے۔ کبھی کبھی تو شاپر میں بریانی ایسے چھپ کر ڈالتی یے جیسے مرحوم نے زندگی میں چھپ کر گناہ کیے تھے۔
یہ گدھ پارٹی ایک وقت میں دو شفٹیں لگا لیتی ہے۔ اگر کہیں کھانا کھا لے اور کسی دوسری جگہ کا مینیو اچھا ہو تو یہ حلق میں دو انگلیاں ڈال کر مرحوم کا کھانا الٹ دیتی ہے لیکن عام طور پر مردہ دوست گدھ پارٹیاں ایسا نہیں کرتیں۔ ان کو ایک وقت میں ایک کے بعد دوسری شفٹ لگانے کا طریقہ بھی معلوم ہے۔ پسے ہوئے کھوپرے کی پڑیا ان کے پاس ہوتی ہے۔ کھوپرا پھنکا اور اس پر پانی پی لیا۔ اب پچھلا کھانے پیٹ میں بارش کی گیلی مٹی کی بیٹھ جائے گا اور اوپر جم جائے گی کھوپرے کی تہہ۔ اتنی جگہ بن جائے گی کہ دوسری شفٹ با آسانی Fit to stomach ہو سکے۔
اکبر آلہ آبادی نے کہا تھا
بتاوں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگا
پلاو کھائیں گے، احباب فاتحہ ہوگا
لیکن اب صورت حال مختلف ہوتی جا رہی ہے۔ احباب آب کی طرح اڑتے جا رہے ہیں۔ گدھ پارٹیاں ان کی جگہ لیتی جارہی ہیں۔

