Friday, 09 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Azmi
  4. Karake Ki Sardi Aur Bachpan Ki Yaadein

Karake Ki Sardi Aur Bachpan Ki Yaadein

کڑاکے کی سردی اور بچپن کی یادیں

لو بھیا! سردی کراچی میں آ گئی۔ ہمیں تو اپنا بچپن رہ رہ کر یاد آتا ہے۔ والدہ نے بڑے بکسے سے لحاف اور گدے نکال لیے۔ اگر اس سال استعمال قابل ہوئے تو انہیں ایک دن دھوپ دی اور رات ہمیں اوڑھنے کو دے دیئے۔ اگر لگا کہ اس سال ان میں دوبارہ روئی دھنوانی پڑے گی تو سمجھیں کہ ہمارے مزے آگئے۔ والدہ نے تاگے/ ڈورے کاٹنے کے لیے لحاف یا گدا صحن میں بچھایا اور ہم نے اس پر لوٹیاں لگانا شروع کردیں۔ والدہ تاگے کاٹتی جاتیں اور صلواتیں سناتی جاتیں: ارے ذرا دم تو لے لو۔ ننگے پیر چڑھے آ رہے ہو استر پر۔

تاگے کاٹ کر لحاف یا گدے کے بیچ میں روئی رکھ کر چاروں کونوں کی گٹھا لگا کر یہ گھٹری ہمیں دے دی جاتی اور تاکید نامہ سنا دیا جاتا: جاو منظور بھائی کی دکان پر دے آو۔۔ روئی ضرور تلوا لینا۔ اگر چار کلو سے کم ہو تو پوری چار کلو کروالینا۔ گھٹری اٹھائے جانے لگتے تو آواز آئی: روئی دھوننے اور تاگا ڈلائی (ڈورے ڈلائی بھی کہا جاتا ہے) کے پیسے ضرور پوچھ لینا اور ہاں کب دیں گے ایسا نہ ہو پوری سردی گزر جائے اور لحاف آ کے ہی نہ دے۔

منظور بھائی کی دکان پہنچتے تو رنگ برنگے لحاف گدوں کی برات اتری ہوتی "جس طرف آنکھ اٹھاوں تیری تصویراں ہیں" والا معاملہ ہوتا۔ کچھ دیر بعد ہمارا نمبر آتا۔ بڑے سے ترازو میں لوھے کے بانٹ اور اینٹ یا پتھر کے ٹکڑوں سے لحاف مع روئی تلتا اور ساتھ ہی منظور بھائی کی سردی لگی دھیمی آواز آتی: اس کا اسٹر جیادہ دنوں کا نہیں۔ اماں سے کہہ بدل لیں۔

ہم بھی تگڑم لگاتے: اماں کہہ رہی ہیں کہ بس یہ سال نکال جائے۔ منظور بھائی کے پاس زیادہ وقت تو ہوتا نہیں، اسٹر اور روئی کو ایک ترازو سے اتارتے ہوئے کہتے: ٹھیک ہے۔ دھنائی میں پھٹ گیا تو تم جانو اور ہاں۔۔ روئی تین کلو ہے۔ ایک کلو اور ڈال دوں۔ نہ ڈالی تو لگے گا چادر اوڑھ لی ہے۔

میں اشارے سے ہاں کہتا: وہ تو ٹھیک ہے لیکن روئی دھننے، تاگا ڈلائی کے پیسے تو بتا دیں۔ منظور بھائی رسید دیتے۔ ایسی اردو لکھتے، لگتا کہ لفظوں کی بھی دھنائی کر دی ہے۔ روئی، دھنائی اور تاگے ڈالنے کی رقم کی رسید دے کر کالے موٹے مارکر سے لحاف کے ایک کونے پر رسید نمبر ڈال دیتے۔

گھر پہنچ کر والدہ کو رسید دیتے تو وہ چونک پڑتیں: ہیں۔۔ یہ منظور بھائی کا دماغ تو ٹھکانے پر ہے۔ اتنی مہنگی روئی اور تاگوں کے اتنے پیسے۔ تم نہ بولے اس وقت چپکا کھڑے رہے۔

والدہ کا ہر سال کا یہی کہنا ہوتا۔ محلے میں منظور بھائی کا گھر اور دکان ساتھ ساتھ۔ سردیوں میں لحاف گدوں کا کام کرتے تو گرمیوں میں قلفیاں بیچتے۔ کم گو، محنتی اور حساب سے منافع لینے والے۔ مشین میں روئی دھنتے تو پورے منہ پر کپڑا لپٹا ہوتا۔ لحاف میں روئی بھرنے کے بعد جب لمبی لکڑی سے اس کو برابر کرتے تو روئی کے ذرات الگ اڑتے۔ تاگے ڈالنے میں منظور بھائی کو ید طولی حاصل تھا۔ یہ بڑے سے سوئے سے تاگے ڈالتے جاتے اور ساتھ والے سے باتیں بھی کرتے جاتے۔ یہ الگ بات ہے کہ اماں نے ان کے تاگے ڈالنے کو بیگار ٹالنے سے تعبیر کیا اور تاگوں کے فاصلے کو دو اسٹاپوں کا فاصلہ قرار دیا۔

منظور بھائی کی ایک رازدارنہ خوبی قیامت کی تھی جو خاص خاص لوگوں کے لیے تھی۔ رات میں جتنے بھی مہمان آ جائیں۔ دکان پر جائیں اور ضرورت کے مطابق لحاف گدے لے آئیں۔ یہ وہ لحاف گدے ہوتے کہ جو وہاں روئی اور تاگے کے لیے آئے ہوتے۔ بس جاتے جاتے اتنا کہتے: لے تو جا رہا ہے۔ کوئی بچہ پیساب نہ کر دے۔ اماں کو سمجھا دیجو۔ میں کہتا: منظور بھائی بچہ سردی میں بھی بستر پر پیشاب نہ کرے تو سردی کے مزے کیسے لے وے گا۔ منظور بھائی تقریباََ میرے پیچھے بھاگتے: یہ میں تجھے بتادوں اگر لحاف گدے سے ہلکی سی بھی بو آئی۔ پورے پیسے نکلوا لوں گا۔ اب یہ باتیں خواب و خیال ہوگئی ہیں۔

مجھے گھر کے لحاف گدے آج بھی یاد آتے ہیں۔ ان میں بیٹھ کر گرما گرم مونگ پھلیاں کھانا اور اس پر والدہ کا کہنا: کھا تو رہے ہو لیکن مونگ پھلی کے چھلکے لحاف پر نظر نہ آئیں ورنہ تمھاری خیر نہیں۔ سخت سردی میں اپنے پیروں کے نیچے بھی اسی لحاف کی تہہ بنا کر سردی سے لطف اندوز ہونا کون بھول سکتا ہے۔ لحاف سے نکل کر قدم بڑھاتے تو والدہ کی آواز آتی: خبردار جو ننگے پیر گئے۔ اگر واش روم سے ہو کر لحاف میں آتے تو دیر تک ملی جلی کیفیت رہتی۔ صبح اسکول جانے کے لیے جب والدہ لحاف کھینچتیں تو ٹھنڈک کی ایک لکیر جسم کو چیرتی چلی جاتی۔

اب سردی آنے سے پہلے کا یہ رومانس ختم ہو چکا ہے کیونکہ اب وہ ہاتھ کے بنے گدے لحاف جو گھروں میں نہیں رہے ہیں۔ یہ گدے لحاف تیار ملنے لگے ہیں لیکن بیچ سے گھر، دکان، روئی، دھنائی اور تاگا ڈلائی سب غائب ہے۔ بس آپ پیسے دیں اور لحاف گدے لے لیں۔ ہاتھ کے بنے لحاف گدے چوراہوں یا چند ایک دکانوں پر ملتے ہیں۔ ان کی کوالٹی بیت خراب ہوتی ہے اور ایک سردی بھی نہیں نکال پاتے اسی وجہ سے یہ اتنی بڑی تعداد میں بکتے۔ اصل میں ریڈی میڈ رضائیوں اور بلینکٹس کا زمانہ آگیا ہے۔

ریڈی میڈ رضائیاں اور بلینکٹس اوڑھ کر لیٹیں تو لگتا ہے کسی سے مانگ کر کچھ اوڑھ لیا ہے۔ وہ اپنا پن، گرماہٹ محسوس ہی نہیں ہوتی۔ اپنے لحاف کا اتنا تک پتہ ہوتا کہ کون سی جگہ پر روئی سمٹ کر ایک طرف ہوگئی ہے۔ اس لئے اوڑھتے ہوئے دھیان رکھتے۔

جب لحاف گدے ہی اپنے نہ ہوں تو پھر سردی بھی پرائی لگتی ہے اور پرائی چیز کا کیا مزا لینا۔

About Azhar Hussain Azmi

Azhar Azmi is associated with advertising by profession. Azhar Azmi, who has a vast experience, has produced several popular TV campaigns. In the 90s, he used to write in newspapers on politics and other topics. Dramas for TV channels have also been written by him. For the last 7 years, he is very popular among readers for his humorous articles on social media. In this regard, Azhar Azmi's first book is being published soon.

Check Also

Functional Aur Nonfunctional Requirements Ki Ahmiyat Aur Amli Afadiyat

By Muhammad Shaheer Masood