Sunday, 19 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Azmi
  4. Jameela Dhoban Aur Rafeeqal

Jameela Dhoban Aur Rafeeqal

جمیلہ دھوبن اور رفیقل

جمعے کا دن آتا تو کوئی تین ایک بجے سہ پہر دبلی پتلی بقول والدہ دھان پان جمیلہ دھوبن آ جاتی۔ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا جمیلہ اماں کو جمعہ کے جمعہ آتے دیکھا۔ رنگ دیتا ہوا۔ ہڈیوں کی مالا لیکن لہجے میں ایک عجب اپنائیت تھی۔ گدھے گاڑی پر اپنے شوہر رفیقل کے ساتھ آتی۔ گدھا گاڑی گلی میں رکتی اور رفیقل ہر گیٹ زور زور سے پیٹ کر کپڑے کی آواز لگاتا۔ کبھی موڈ میں ہوتا تو ساتھ ساتھ ایک مشہور پرانے گانے کی صرف ایک لائن گنگنا بھی لیتا: چلو دلدار چلو چاند کے پار چلو۔ لہجہ ضرور کھردرا تھا لیکن گاتا تو کانوں کو بھلا لگتا۔

ادھر رفیقل آواز لگی اور ادھر والدہ نے اپنی اکلوتی ڈائری کی تلاش کا کام شروع کر دی: ارے کہاں گئی وہ کم بخت ماری۔ ویسے تو ہر وقت نظر آتی۔ اب جانے کہاں چھپ کر بیٹھ گئی۔

والدہ ایک ایک سے پوچھتیں: تم نے دھوبی کی ڈائری تو نہیں دیکھی۔ بالآخر ڈائری مل جاتی۔ ڈائری کیا تھی بائنڈنگ سے نکلے کاغذوں جنہیں ٹوڑ مروڑ کر گھسیڑا گیا ہوتا۔ ڈائری کے ساتھ بلیڈ سے کٹی چھوٹی سی پینسل جس کے ربر والے سرے کا بھائی نے چوس چوس کر بھرکس نکال دیا ہوتا۔ اب والدہ جمیلہ اماں کے انتظار میں میلے کپڑوں کے ساتھ انتظار میں بیٹھی ہیں اور جمیلہ کا دور دور تک پتہ نہیں۔ والدہ ہم بھائیوں کو گلی میں دوڑاتیں:

ذرا پتہ تو کرکے وہ چلی تو نہیں گئی۔ گلی میں ایک فاقہ زدہ گدھے کے ساتھ بندھی گاڑی مسٹر اینڈ مسز دھوبی کی موجودگی کی ڈھینچوں ڈھینچوں کرتی زندہ دلیل ہوتی۔

خیر سے پوری گلی کو نمٹا کر جمیلہ ہمارے ہاں آتیں تو والدہ برس پڑتیں: تجھے کیا ہم شکل سے پاگل نظر آتے ہیں۔ رفیقل نے آواز دی اور پھر وہ پھر ہوگیا۔

یہ ہر ہفتے کی کہانی تھی۔ جمیلہ اماں نے بھلا کیا برا ماننا تھا، الٹا فرمائش ہی کر دیتی: جرا ایک کٹورا پنیا (پانی) تو پلا دو۔ قسم سے جوروں کی پیاس ہے۔ والدہ پانی لانے کے لیے اٹھتے ہوئے کہتیں: اتنے گھروں سے ہو آئی یہاں آ کر تجھے پانی یاد آیا۔ جمیلہ کبھی کبھی دو کپ چائے کا بھی کہہ دیتی۔ ایک اپنے اور ایک رفیقل کے لیے۔ ایمان کی بات یہ ہے کہ والدہ نے سنائیں ضرور مگر منع کبھی نہ کیا۔

لیجئے اب دھلے کپڑوں کی گنت شروع ہوئی۔ والدہ نے اہک ایک دھلے کپڑے کا بغور تھانیدار کی طرح جائزہ لینا شروع کیا: کپڑے دھوتی ہے یا پانی میں بھگو کر استری کر دیتی ہے۔ جمیلہ یہاں فوراََ صفائی دیتی: یہ نہ کہو تمھارے کپڑوں پر رفیقل بہت دھیان دیوے ہے۔ والدہ طنز سے کہتیں: ہاں وہ تو نظر آرہا ہے۔ اس سے کہہ تجھ پر بھی دھیان دے لیا کرے، کھلایا پلایا کرے۔ سوکھ کر کانٹا ہوئی جارہی ہے۔

غرض والدہ ہر کپڑے کی دھلائی میں کوئی نہ کوئی فی نکالتیں اور جمیلہ کپڑوں کی صفائی سے زیادہ اپنی صفائیاں دیتی۔ والدہ والد کے سفید کرتے پائجامے پر سب سے زیادہ دھیان دیتیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ہلکا سا دھبا بھی رہا تو جمیلہ کو والدہ کے میکے کا قرار دے دیا جائے گا۔

والدہ والد کے کرتے پائجامے کا ایسے معائنہ کرتیں جیسے ایئرہورٹ پر کسٹم والے۔ کوئی نہ کوئی قابل پکڑ بات نکال لیتیں: دیکھ یہ دھبا کہاں سے آ گیا۔ جمیلہ کہتی: تو بھیا جی کے پان چھڑوا کیوں نہیں دیتیں۔ زیادہ رگڑ کے دھو تو کہتی ہو کپڑے چار پانچ دھلائی کے بعد لجلجے ہو گئے۔ ویسے ایک بات کہوں۔ بھیا جی سے کہو دو تین جوڑے اور بنوا لیں۔ رفیقل کہہ رہا تھا بھیا جی نماز پڑھے ییں۔ دو تین جوڑے نئے بنوالیں گے تو برکت اور بڑھ جائے گی رزق میں۔ والدہ اسے طبیعت سے سنائیں: تو اب رفیقل ہمیں بتائے گا۔۔ تو کپڑوں میں کیمیکل لگانا کم نہ کرنا۔ جمیلہ دونوں کانوں کو ہاتھ لگاتی اور ہلکی آواز میں کہتی: ایک بات کہوں اگر برا نہ لگے۔ کپڑے گھر کا اور جیب کا سارا حال کہہ دیوے ہیں۔

رفیقل اور ہمارے والد کی کبھی نہ بنی۔ اس کا لہجہ ذرا کھردرا تھا۔ بات نہ کرتا تھا لٹھ مارتا۔ ایک جمعہ جمیلہ اماں نہ آئی۔ رفیقل آ گیا۔ والد بھی اتفاق سے دفتر نہ گئے تھے۔ مڈبھیڑ ہوگئی۔ اس کا لہجہ وہی۔ والد نے کہا: تمھیں بات کرنے کی تمیز نہیں۔ اس نے کہا: لو اب بھیا جی ہمیں تمیز سکھائیں گے۔ وہ تو بیچ میں والدہ آ گئیں۔

والدہ نے رفیقل کو ہلکی آواز میں خوب ہی سنائیں: تجھے تمیز نہیں بات کرنے کی۔ جانتا نہیں بھیا جی کا مزاج کیسا ہے؟ رفیقل کو اپنی غلطی کا احساس ہوا مگر لہجہ وہی تھا: چلو معافی بھی مانگ لیتے ہیں۔ پر ایک بات بتا دوں عمر میں پانچ ایک سال چھوٹے ہی ہوں گے۔ والدہ نے جو اس کا لٹھ مار معافی کا انداز دیکھا تو ہاتھ جوڑ کر بولیں: بھیا تیری معافی سے ہم باز آئے۔ والدہ کا خیال تھا کہ آج جمیلہ اور رفیقل کی دھلائی کا آخری دن ہے۔ رفیقل کے جانے کے بعد والد سے کہا: وہ آپ سے معافی مانگنے کا کہہ رہا تھا۔ والد مسکرا کر بولے: اس کی معافی سے بہتر ہے کہ میں خود اس سے معافی مانگ لوں۔ اس دن مجھے والد کی اعلی ظرفی کا اندازہ ہوا۔

چلیں دوبارہ والدہ اور جمیلہ اماں کی طرف چلتے ہیں۔ دھلے کپڑے گننے میں کبھی کبھی ایک دو کپڑے کم ہی نکلتے: جمیلہ یہ تو نے اب وتیرہ بنا لیا ہے کہ ایک دو کپڑے کم ہی لائے گی۔ دو تولیہ، چار بنیان اور میری ایک قمیض تیری طرف نکلتی ہیں۔ بتا کاٹوں پیسے۔ جمیلہ اماں یہاں ہوشیاری دکھا جاتی: وہ جو کہہ رہی ہو ناں۔۔ ون میں کچھ نہ تھا۔ دھلائی میں پھٹ گئے۔ والدہ منہ پر حیرت سے ہاتھ رکھ کر کہتیں: اب تو جھوٹ بھی بولنے لگی ہے۔ ارے میری قمیض تو بالکل نئی تھی۔ دو بار کی پہنی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ والدہ نے کبھی پیسے نہ کاٹے۔ بس دھمکاتی ہی رہیں۔۔ اب والدہ میلے کپڑے دیتیں اور اپنی ڈائری میں لکھتی جاتیں اور ہر کپڑے کے ساتھ تاکید نامہ بھی سناتی جاتیں۔ اب آجاتا دھلائیوں کے پیسے لینے کا مرحلہ۔ جو پیسے جمیلہ اماں بتاتیں۔ والدہ اسے کبھی نہ مانتیں لیکن پھر چند ایک روپوں کی کمی سے ڈیل بن ہی جاتی۔

ابھی جمیلہ اماں کپڑوں کی گٹھڑی بنا ہی رہی ہوتیں کہ رفیقل کی کرخت آواز آجاتی: اب چلے گی بھی یہاں یہیں بیٹھی رہے گی۔ تیرے بڑا دل لگے ہے یہاں۔ جمیلہ کو جیسے کرنٹ لگ جاتا: اللہ نے جوڑی بنانی تھی اس کے ساتھ بنا دی۔ میں چلی ورنہ یہ سارے رستے میری جان کھاوے گا۔

پہلے رفیقل مرا تو جمیلہ اپنے بیٹے کے ساتھ آنے لگی لیکن صاف لگتا تھا کہ جوڑی ٹوٹی تو جمیلہ اماں کا دل ہی دنیا سے ٹوٹ گیا تھا۔ اب والدہ بھی اس سے کوئی تکرار نہ کرتیں بلکہ اس کے آنے سے پہلے ہی چائے چولھے پر رکھ دیتیں۔ والدہ اس کی دلجوئی کرتیں۔ کبھی اضافی پیسے دینے کی کوشش بھی کرتیں تو جمیلہ اماں نہ لیتی۔ جب تک بیٹھتی سانس پھولا ہی رہتا۔ والدہ کہتیں: جمیلہ دوا وغیرہ بھی لیتی ہے۔ کچھ لمحے خاموش رہ کر کہتی: سچی بتاوں بیٹے دوا تو لے آویں ہیں پر میں ہی کھانا بھول جاتی ہوں۔ رفیقل تھا تو کبھی دوائی کا ناغہ نہ ہوا۔ اپنے ہاتھ سے کھلاوے تھا۔ اب جوڑی دار نہ رہا ہے۔

ایک جمعہ جمیلہ اماں نہ آئی۔ دوسرے جمعہ بیٹا آیا تو جمیلہ اماں ساتھ نہ تھی۔ والدہ نے پوچھا تو بتایا کہ اماں تو چلی گئی بابا کے پاس۔ میں نے سوچا کہ کیا خوب جوڑی تھی لگتا تھا کہ ہر وقت کی لڑائی ہوتی ہوگی لیکن ایسا بالکل نہیں تھا دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم تھے۔ پڑھے لکھے بالکل نہ تھے لیکن دونوں کے دل ملے تھے، ایک ساتھ دھڑکتے تھے۔ جمیلہ رفیقل کے بغیر چند ماہ ہی جی پائی۔

میرے کانوں میں رفیقل کی آواز گونج اٹھی:

چلو دلدار چلو چاند کے پار چلو
ایسا لگا کہ آج اس گانے کا جواب بھی آ گیا

ہم ہیں تیار چلو

جمیلہ اماں تو گھر کے فرد جیسی تھی۔ وہ گئی تو احساس ہوا کہ یہ لوگ کیسے غیر محسوس طریقے سے آپ کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اب نہ یہ لوگ رہے ہیں اور نہ ان سے جڑی رواداریاں اور وضع داریاں۔ بہت کچھ بدل گیا ہے لیکن دل میں کبھی کبھی ان کی یاد تو آتی ہے۔

About Azhar Hussain Azmi

Azhar Azmi is associated with advertising by profession. Azhar Azmi, who has a vast experience, has produced several popular TV campaigns. In the 90s, he used to write in newspapers on politics and other topics. Dramas for TV channels have also been written by him. For the last 7 years, he is very popular among readers for his humorous articles on social media. In this regard, Azhar Azmi's first book is being published soon.

Check Also

Great Game (2)

By Javed Chaudhry