Chalo Chalte Hain, Ji Baba
چلو چلتے ہیں، جی بابا

(کبھی کبھی الفاظ گونگے ہو جاتے ہیں لیکن چہرے بولتے ہیں۔ ایسے میں بھی جواب آ جاتا ہے)۔
وہ ایک ایماندار سرکاری افسر تھے۔ اپنی ذاتی حیثیت میں سب کے کام آتے لیکن کبھی اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کرتے۔ ان کے ماتحت افسران ان کے مزاج سے واقف تھے پھر بھی موقع کی تلاش میں رہتے۔ سال میں ایک ایسا موقع آتا کہ جب کم از کم گزارش کی گنجائش نظر آتی اور وہ تھی دفتر کی ایک عید ملن پارٹی۔ اس دن وہ اپنے بیٹے کے ساتھ جایا کرتے۔ عمدہ لباس زیب تن کرتے۔ تیار ہو کر بیٹے سے کہتے: چلو چلتے ہیں۔
بیٹا کہتا: جی بابا
راستے میں بیٹے سے باتیں کرتے، اسے دنیا کے نشیب و فراز سمجھاتے: اگر تم سچے اور ایماندار ہو تو یہ دنیا تمہیں دیر سے سہی لیکن مان لے گی۔ میں نے اپنی دفتری زندگی کبھی خلاف ضابطہ کام نہیں کیا لیکن تم کیا نہیں دیکھتے کہ لوگ کس خلوص و احترام سے ملتے ہیں۔
بیٹا کہتا: جی بابا
ان کے پارٹی میں پہنچتے ہی کتنی ہی کرسیاں سرکتیں اور کتنے ہی سلام کے بعد مصافحے کے لیے بے تابانہ بڑھتے۔ ارد گرد دو چار لوگ کھڑے ان کے کان میں کچھ کہہ رہے ہوتے۔ کبھی سر کو ہاں میں ہلاتے تو کبھی ناں میں۔ جانے لگتے تو ایک ایک آدمی ہاتھ ملانے کے لیے دوڑا چلا آتا۔
پھر ایسا ہوا کہ وہ ریٹائر ہو گئے۔ پہلی عید آئی تو عید ملن پارٹی میں جانے کے لیے کچھ زیادہ ہی خوش تھے۔ پارٹی میں ہہنچے تو کوئی کرسی نہ سرکی۔ دو ایک ہاتھ نیم دلی سے سلام کے لیے بڑھے۔ خاموشی سے جا کر ایک کونے میں بیٹھ گئے۔ کوئی پاس نہ آیا۔ انہیں لگا کہ انہیں یہاں کوئی نہیں جانتا۔ بن بلائے آگئے ہیں۔ اگر کسی کی نظر ٹکرا بھی جاتی تو فوراََ انجان بن جاتا۔ کچھ دیر بعد کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک نظر بیٹے کو دیکھا۔ ایک لفظ نہ کہا۔
بیٹے نے باپ کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتے ہوئے کہا:
جی بابا