Car Zindagi Ke Dhakkon Ki Tarah Chalti Hai
کار زندگی کے دھکوں کی طرح چلتی ہے

میں کار سے صاحب کار کا اندازہ لگا لیتا ہوں۔ روڈ پر دوڑتی کاریں دراصل صاحب کار کا مونیٹری سرٹیفیکٹ ہوتی ہیں۔ ایک عرصے سے اسی اصول پر "کار بند" ہوں۔ لوئر مڈل کلاسیئے کی پرانی کار کی نمبر پلیٹ دیکھ کر کار کے سن پیدائش اور صاحب کی خریداری سے عرصہ آزمائش کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ اکثر رام پیاری یعنی کار، پیاری بیوی کی ہم عمر یا کچھ سال بڑی ہی نکلتی ہے۔
حالت کی بابت یہی کہا جاتا ہے کہ ایک میک آپ میں چھپی ہے البتہ دوسری چیک آپ کی شدید کمی کا شکار ہے۔ جگہ جگہ سے پاپڑی بن کر اکھڑ رہی ہے۔ دائیں کا اشارہ دے کر بائیں مڑ جاتی ہے۔ سامنے کے شیشے میں بال آ گیا ہے مگر صاحب کے دل میں اپنی رام پیاری کے لیے کوئی بال نہیں۔ البتہ پیاری بیوی سے متعلق جو کچھ ہے وہ دل میں ہے۔ اسی لئے صاحب بال بال بچے رہتے ہیں۔
لوگ کہتے ہیں ان کی کار کا انجر پنجر ڈھیلا ہے لہرا کر چلتی ہے۔ میں کہتا یوں آغاز جوانی ہے۔ کمال کا رقص کرتی ہے۔ انگ انگ تھرکتا ہے۔ کہتے ہیں دیکھنے میں بیوہ لگتی ہے۔ میں کہتا ہوں بری بات۔۔ دو تین کاغذی نکاح کے بعد ایسا ہو جاتا ہے۔ آپ اس کی کار گزاریاں تو دیکھیں۔۔ حسن زن رکھیں۔ کبھی کبھی اس کی زن زناتی رفتار دیکھیں۔ بد گمانی و بد نگاہی کا شکار نہ ہوں۔ جسے تم انچر پنجر کہتے ہو وہ تو اس کی اندر کی موسیقی ہے اور موسیقی تو روح کی غذا ہے۔ اس کی چال میں جو آواز کی جلترنگ ہے۔ دیوانے ہیں لوگ اس کی گلوکاری کے۔ احمد فراز تو دیوانے ہیں۔ انہوں نے اس پر عزل لکھی۔ مہدی حسن تو بے تاب ہو گئے، اپنی مدھر آواز سے سجا دیا، اس کے انترے میں جو کاروبار ہے اس میں کار یہی تو ہے۔
گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
چلے بھی آو کہ گلشن کا کار۔۔ و۔۔ بار چلے
صاحب بھی موسیقی کے دلدادہ ہیں۔ اسی لیے تو ان کی پیر میں گھنگھرو کی طرح بندھی ہے۔ پورا آرکسٹرا اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے۔ ہر تان استاد بندو خان، بڑے غلام علی، استاد بسم اللہ خان سے زیادہ راگ چھیڑتی ہے۔ موڈ میں یو تو اپنی چر چر سے پٹھانے خان کو بٹھا دیتی ہے۔ عطا اللہ عیسی خیلوی سے زیادہ پر سوز و پر لوٹ گاتی ہے۔ کبھی کبھی موسم سہانا ہو تو ایلوس پرسلے کی طرح ماضی کی راک اسٹار اور آج کی لیڈی گا گا کی ساری گا گی کو دھواں چھوڑتی پیچھے چھوڑ جاتی ہے مگر صاحب ہمارے ہاں اب موسیقی سمجھنے والے ہی کہاں رہے ہیں۔
ہر لوئر مڈل کلاسیئے کا سب سے بڑا خواب صاحب کار ہونا ہوتا ہے جسے شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے وہ ہر جتن کرتا ہے۔ مگر یہ بھی ایک چالو حقیقت ہے کہ ان کی کار روڈ پر کسی بھی وقت بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہے، ہاتھوں سے نکلتی لاکھ پیر پڑو، قابو میں نہیں آتی۔ کسی کو بھی منہ دے دیتی ہے۔ جہاں چاھے چڑھ دوڑتی ہے۔ اس کارستانی کے سبب صاحب کو منہ کی اور جیب کی کھانی پڑتی ہے جس کا اثر گھر کے کھانے پر پڑتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پیاری بیوی رام پیاری کو اپنی سوتن سمجھتی ہیں۔ گو کہ اس کار کی خریداری میں ان کے گلے کا لاکٹ کام آیا تھا مگر اب ان کے گلے کا ہار بن گئی ہے۔ پیاری بیوی کا یہی کہنا ہے کہ رام پیاری کے آنے سے صاحب آدھے شوہر اور پورے مکینک بن گئے ہیں۔ ایک دن ذرا میں ہلکے پیر چلی تو بولے: ہیل بیلنسنگ کا مسئلہ ہے۔ بیوٹی پارلر جانے کو تھی تو کہنے لگے ایک بار رام پیاری والی ڈینٹنگ پینٹنگ کرا لو۔ روز حشر ہی اصل چہرہ سامنے آئے گا۔
صاحب پیاری کے تمام الزامات سے انکاری ہیں۔ کہتے ہیں رام پیاری کو اپنے پیروں کے نیچے اور پیاری بیوی کو دل میں رکھتا ہوں۔ پیاری بیوی کہتی ہیں: رام پیاری نے تو ان کے پیر ہی باندھ رکھے ہیں۔ مجھ تک آتے آتے تو ان کا ایک ایک قدم من من بھر کا ہوتا۔ ایسے میں جب مجھے یہ جان من کہتے ہیں تو دل جامن کی طرح ہو جاتا ہے۔ جب سے یہ آئی دو چار بار ہی بیٹھی ہوں۔ مجھے جلانے کے لیے کہیں بھی منہ پھلا کر رک جاری ہے۔ ویسے بھی جب یہ ہچکولے لے کر چلتی ہے تو دل کہتا ہے اللہ جانے کیا ہوگا آگے۔
ایک مرتبہ ایک بارات میں جانا تھا لیکن وداعی رام پیاری کی ہوگئی۔ پیاری نے اپنے ولیمے کا غرارہ سوٹ نکال لیا۔ موٹی کلائیوں چڑھائیں تو لگا آستینوں کو پھانسی دی جا رہی ہے۔ آستینوں کی سانس رک رک گئی۔ جسامت کے باعث جسم کا حجم نظم و ضبط سے عاری ہوگیا۔ میک آپ کیا تو سلطنت حسن کی سرحدوں کی وسعت کا اندازہ ہوا۔ ہاتھ تھک گئے مگر سلطنت کی حدود ختم نہ ہوئیں۔ ایسے میں صاحب نے کار کا ہارن بجا دیا۔ لدی پھندی پیاری ایک غصے کے ساتھ رام پیاری میں آ بیٹھیں۔
راستے میں وہی ہوا کہ رام پیاری نے ہچکولے لئے اور ہلکی سی بے راہ روی کے ساتھ فٹ پاتے سے جا لگی، پتہ چلا ٹائر میں ہوا اور ریڈی ایئٹر میں پانی کم ہے۔ پیاری کو احساس ہوا کہ کوئی چیز انہیں نیچے تنگ کر رہی ہے۔ انگلی دوڑائی تو کیل سیٹ سے نکلی محسوس ہوئی۔ لیجئے شادی کا غرارہ سوٹ مہارت سے داغ مفارقت دے گیا۔ داغ دماغ کو جا لگا۔ اب شادی گئی چولھے بھاڑ میں اور صاحب آ گئے ریڈار پہ۔
صاحب نے ریڈی ایئٹر میں پانی تو ڈال دیا۔ سوچا ہوا آگے سے بھروا لیں گے مگر انہیں اندازہ نہ تھا کہ اصل ہوا تو اب نکلنے والی ہے۔ ریڈی ایئٹر میں پانی ڈالنے سے پیاری کی گرمی کم نہ ہوگی۔
پیاری: اسی وقت گھر واپس چلیں؟
صاحب: کیوں کیا ہوا؟ سب ٹھیک تو ہے۔ چلتے ہیں شادی میں۔
پیاری: بس ایک شادی ہوگئی۔ کافی ہے۔ اب یہ رہے گی یا میں۔
صاحب: اچھا سمجھ گیا مگر رام پیاری تو گھر سے باہر کھڑی ہوتی ہے۔
پیاری: اب یہ مجھے باہر بھی نظر نہ آئے۔
صاحب: کیوں کیا ہوا؟
پہاڑی: اس نے میری شادی۔۔
صاحب: دیکھو تم اس طرح نہ سوچا کرو۔
پیاری: میری شادی کے سوٹ کا ستیاناس کردیا کم بخت ماری نے۔
صاحب: یہ تو بے زبان ہے اس کا کیا قصور؟ تم بھی تو دیکھ کر نہیں بیٹھتی ہو۔
پیاری: اچھا تو اب میں بیٹھنے سے پہلے کیلیں چیک کروں۔
صاحب: اتفاق ہے۔ سب سے محفوظ کار ہی ہوتی ہے۔ تم نے دیکھا نہیں اس شہر میں کتنے لوگ بے دھیانی کے سبب مر جاتے ہیں۔
پیاری نے ایک لمحے کے لیے صاحب کے چہرے کا بھرپور جائزہ لیا اور کہا:
کتنے لوگ بے دھیانی کے سبب پیدا بھی ہو جاتے ہیں۔ جھیلنا تو ہمیں پڑتا ہے رام پیاری کے ساتھ۔
پیاری نے یہ کہہ کر منہ موڑا اور صاحب نے گھر کی طرف کار کو موڑا اور چند دن بعد رام پیاری وداع گئی۔ لوئر مڈل کلاسیوں کو یہ بات سمجھ لینی چاھیئے کہ کچھ خواب شرمندہ تعبیر ہو کر بہت شرمندہ کرتے ہیں۔ رام پیاری لینے سے بہتر ہے بندہ عقد ثانی کر لے۔ یہ اس کے مقابلے میں کم تنگ کرے گی اور پیاری بھی کبھی نہ کبھی مان جائے گی۔

