Friday, 09 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Azmi
  4. Beemar Mizaj Logon Se Doctor Bhi Panah Mangte Hain

Beemar Mizaj Logon Se Doctor Bhi Panah Mangte Hain

بیمار مزاج لوگوں سے ڈاکٹر بھی پناہ مانگتے ہیں

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ بیماری سے اللہ بچائے۔ کچھ بیماری کو دھڑلے سے ڈاکٹر کے کھاتے میں ڈال کر کہتے ہیں: ڈاکٹر سے اللہ بچائے۔ اب آپ سوچیں ڈاکٹر جو بیمار آنے کی آس لگا کر کلینک میں بیٹھتا ہے وہ کس بیمار کے نہ آنے اور اس سے بچنے کی دعا مانگتا ہوگا۔ کیا کہتا ہوگا؟ تو جناب وہ کہتا ہے: بیمار مزاج سے اللہ بچائے۔

بیمار مزاج دنیا کے ہر خطے میں پائے جاتے ہیں۔ یہ بیمار ذہن نہیں ہوتے بس بیمار مزاج ہوتے ہیں جس کی وجہ صرف ایک ہوتی ہے کہ انہیں کوئی قابل فکر بیماری نہیں ہوتی ہے۔ بس یہی ان کی بیماری ہوتی ہے۔ اس کے باوجود زندگی بھر بیماری کی بکری پا لے رکھتے ہیں۔

بیمار مزاج بیمار نہیں ہوتے لیکن یہ زندگی بھر بیماریوں کی جھرمٹ میں دواؤں کا گھونگھٹ کاڑے بیٹھے رہتے ہیں۔ ہماری ایک عزیزہ مرحومہ جب تک صحت مند رہیں بلا ناغہ اپنے علاج کے لیے سرکاری اسپتال جاتی رہیں۔ اگر کسی نے اپنی کسی بیماری کا شائبہ بھی دے دیا تو سمجھیں ان کے ہاتھ اور ساتھ بیمار نایاب ہاتھ ا گیا۔ آدھی ڈاکٹر تو خود بن جاتیں۔ پہلے ڈراتیں پھر دلاسا دیتیں:

کل میرے ساتھ چلنا اسپتال۔ ڈاکٹر سے ایسی دوا دلواں گی کہ اچھلتی کودتی گھر آؤ گی۔

ان کے لیے اسپتال جانا اسکول کالج جانے جیسا تھا۔ صبح نکلتیں اور دو بجے تک گھر ا جاتیں۔ اب گھر میں جو ہو سو ہو۔

ایک صاحب کی دوا بلا ناغہ آتی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خود نہ جاتے بلکہ حال کہہ کر دوا آتی، میز پر سج جاتی لیکن کھاتے نہیں۔ وہ دوا کھا کر نہیں بلکہ اسے دیکھ کر صحت یاب ہو جاتے تھے۔ پرہیز ایسا کہ اگر کھانے میں لوکی کا پرہیزی سالن نہ ہو تو سمجھیں پرہیز گاری پر گناہ گاری کی کاری ضرب لگ گئی۔ دسترخوان پر وہ لوکی کا سالن برائے نام چکھتے اور وہی کھانا کھاتے جو سب کے لیے پکا ہوتا۔

بیمار مزاج سے ملاقات بھی ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ آپ ان سے ملیں۔ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد وہ اس تاک میں لگ جاتے ہیں کہ گفتار بہ جانب بیمار پڑھے۔ آپ نے حال پوچھا اور انہوں نے اپنی پٹاری کھولی:

کچھ دن سے پیٹ میں مروڑ سا ہے۔ اٹھتا ہوں کہ کولھے میں ہلکی سی چمک ہوتی ہے۔

آپ لحاظ میں کہتے ہیں: گیس وغیرہ ہوگی؟

وہ چڑ جائیں گے کیونکہ آپ نے تو ان کا سارا کھیل بگاڑ دیا:

میاں کیسی باتیں کرتے ہو۔ گیس سے بھی بھلا کولھے میں کوئی چمک اٹھتی ہے۔ یہاں زندگی بوجھ بنی ہے تمہیں گیس کی سوجھ رہی ہے۔

اب آپ خاموش کہ آپ کی ڈاکٹرائن کو تو انہوں نے پہلی خوراک میں چلتا کر دیا۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ اپنی بیماریوں کا رجسٹر کھولیں گے اور یہ کوشش کریں گے کہ آپ ان ہر کسی بڑی بیماری کا نزول ثابت کر دیں۔ اگر غلطی سے آپ نے اپنی ذرا سی تکلیف بیان کردی تو پہلے تو وہ یہ بتائیں گے کہ ایک زمانے میں، وہ بھی ان علامات کا شکار رہا ہوں۔ اس کے بعد اس بیماری سے متعلق وہ وہ فوری نوعیت کے حامل ہوش اڑا انکشافات و خدشات بیان کریں گے کہ آپ انہیں مسودات و محدودات حیات سمجھتے ہوئے زندگی کو چند سانسوں کا اسیر جانیں گے۔ آپ کہہ اٹھیں گے۔

جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی

سچ تو یہ ہے کہ نصیب۔ دوا نہ ہوا

کہتے ہیں ایک بیمار مزاج ایک نئے ڈاکٹر کے پاس گیا۔ اپنا حال بتایا۔ ڈاکٹر نے حال سن کر نسخہ لکھنا شروع کیا۔ اس دوران بیمار مزاج نے کہا:

ڈاکٹر صاحب بڑی امید لے کر آیا ہوں۔ آپ سے پہلے فلاں فلاں چار ڈاکٹرز کو دکھایا۔ پتا نہیں کون ان کو ڈاکٹر بنا دیتا ہے۔ نسخے پر قلم تھوڑی پھاوڑا چلاتے ہیں۔ صحیح طرح لکھنا تک نہیں آتا۔

ڈاکٹر صاحب نے نسخہ جو لکھا تھا۔ پھاڑ دیا اور کہا: میں آپ کو دوا نہیں دے سکتا۔

انہوں نے حیران ہو کر پوچھا: کیوں؟

ڈاکٹر نے کہا: جب آپ چھٹے ڈاکٹر کے پاس جائیں گے تو پانچواں نام میرا ہوگا۔

About Azhar Hussain Azmi

Azhar Azmi is associated with advertising by profession. Azhar Azmi, who has a vast experience, has produced several popular TV campaigns. In the 90s, he used to write in newspapers on politics and other topics. Dramas for TV channels have also been written by him. For the last 7 years, he is very popular among readers for his humorous articles on social media. In this regard, Azhar Azmi's first book is being published soon.

Check Also

Functional Aur Nonfunctional Requirements Ki Ahmiyat Aur Amli Afadiyat

By Muhammad Shaheer Masood