Thursday, 23 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Azmi
  4. Bari Behan Maa Ki Tarah Hoti Hai

Bari Behan Maa Ki Tarah Hoti Hai

بڑی بہن ماں کی طرح ہوتی ہے

ایک تو امی وہ ہوتی ہیں جن سے آپ پیدا ہوتے ہیں اور ایک ان سے بھی بڑی امی جو آپ کے خیال میں آپ کے لیے قدم قدم پر مسائل پیدا کرتی ہیں۔ بڑی امی کے خیال میں آپ کی زندگی پر سب سے زیادہ حق ان ہی کا ہے۔ وہ آپ سے متعلق ہر وقت باخبر رہتی ہیں۔ آپ سانس لیں تو وہ بتا دے کہ کیا کھایا پیا؟ ابتدا سے ہی آپ کے لیے جاسوسی کا جال بچھا دیتی جسے وہ حفاظتی جال کا نام دیتی ہے۔ آپ کو اس جال کی کانوں کان خبر نہیں ہوتی اور جب آپ پر یہ منکشف ہوتا ہے تو پانی سر پر سے کیا پوری گلی سے گزر چکا ہوتا ہے۔ یہ کوئی اور نہیں آپ کی بڑی بہن ہوتی ہے جو آپ کی جاسوسی کا فریضہ فرائض منصبی کے طور پر انجام دیتی ہے۔

آپ امی کی بات مانیں نہ مانیں اس زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا جو امی کے پاس پڑا ہوگا وہ آپ کے جسم تک پہنچ جائے گا اور آپ سہلاتے رہ جائیں گے لیکن اگر آپ نے بڑی عرق امی کی بات نہیں مانی تو سمجھیں آپ کو ان ان باتوں پر بلیک میل کیا جائے گا جن کا کوئی وجود بھی نہیں ہوگا:

بتادوں امی کو وہ والی بات

آپ حیرانگی سے کہیں گے: کون سی بات

وہ بڑے اعتماد سے کہے گی: وہ تو جب بتاوں گی۔ تب پتہ چلے گا ناں۔

آپ اس کے جھانسے میں آجائیں گے اور زندگی بھر آتے رہیں گے۔ اگر آپ ایک ہی اسکول میں پڑھتے ہیں تو سمجھ لیں آپ ہر وقت under observation ہیں۔ آپ ہلیں گے تو بڑی امی کو خبر ہوگئی اور اگر کلاس میں ٹیچر کے زیر عتاب آئے تو اس کا ثواب گھر میں بھی اجر کثیر کی صورت میں ملے گا۔

آپ گھر میں قدم رکھنے کا ارادہ کر رہے ہوں گے تو اس کی آواز آئے گی: اے مسٹر ابھی گھر سے باہر۔ آپ حیران و پریشان ہوں گے کہ ایک اور جملہ آئے گا: نظر نہیں آرہا۔ ابھی پونچھا دیا ہے۔ آپ جھلا کر رہ جائیں مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ پونچھا سوکھنے تک گھر میں قدم نہیں رکھ سکتے اور اگر آ گئے تو وہ آپ کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گی۔

آپ نے لڑکپن میں قدم رکھا تو اب آپ تو آپ، آپ کا ہر دوست بھی ہر وقت بڑی امی کی اسکریننگ مشین پر ہے۔ ایک ایک دوست پر عقابی نظر رکھتی ہے کیونکہ وہ آپ کی دوستی کا گناہ گار ہے۔ محلے میں آپ کا نکلنا دوبھر ہے۔ شام کو کرکٹ کھیلنے جائیں تو وہ آپ کو دونوں ٹیموں کا اسکور تک بتا دے گی۔ محلے کی کسی آڑے تیڑھے لڑکے کے آزو بازو بھی دیکھ لیا تو آپ کو سمجھاتے سمجھاتے آپ کا بازو بھی توڑ مروڑ دے گی۔ بڑی امی کی جاسوسی کا نیٹ ورک ہر اس گلی تک پھیلا ہے جہاں اس کی سہیلی رہتی ہے۔ اس لیے سمجھ لیں کہ ہر طرف مخبروں کا جال پھیلا ہوا ہے اور آپ اس کا پہلا اور آخری شکار ہیں۔

اگر آپ نے کسی لڑکی کو دیکھ لیا یا کسی لڑکی نے آپ کو دیکھ لیا تو سمجھ لیں۔ اب آپ کا ریکارڈ لگنے والا ہے۔ آپ کی شادی کے گانے بجائے جائیں گے۔ آپ ذرا ڈھنگ کے کپڑے پہن کر نکلے تو پھر دیکھیں کس طرح آپ پر ہیروانہ جملے کسے جاتے ہیں اور کس کس اداکار سے آپ کو ملایا جاتا ہے۔ یہ سب مذاق کی حد ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر آپ ذرا سے بھی سیریس عشق نظر آئے تو یاد رکھیں یہ عشق بڑی امی کی جانب سے پروان چڑھنے کے بجائے اڑن چھو کر دیا جائے گا کیونکہ یہ بات طے ہے کہ بڑی امی کی مرضی کے بغیر آپ لڑکی پسند کرنا تو دور کی بات آپ نظر بھر کر دیکھ بھی نہیں سکتے۔

آپ دنیا میں کسی سے بھی کسی کام کو منع کر سکتے ہیں لیکن بڑی امی کسی سہیلی کے ہاں جانے کو کہہ دیں تو آپ منع کرکے اپنی زندگی میں "باب الپھٹکار" کھول لیں گے۔ آپ نے بڑی امی کو ان کی سہیلی کے ہاں لے کر جانا ہے۔ اس دروان یا تو آپ باہر گھومتے رہیں گے یا پھر سہیلی کے ڈرائنگ روم میں سمٹے سمٹائے خاموش قیدی بنے بیٹھے رہیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ کو شربت وغیرہ پیش کیا جائے گا۔ بڑی امی کی سہیلی آپ سے چھوٹے بھائیوں کی طرح مذاق بھی کرے گی مگر آپ نے بظاہر آف تک نہیں کرنا البتہ دل میں تف کہتے رہیں۔ سہیلی کہے گی: ارے یہ تو بولتا ہی نہیں۔ بڑی امی خود مذاق اڑائیں گی: تم دیکھنا یہ ریڈیو باہر جا کر کیسے آن ہوتا ہے۔

بڑی امی کی فرمائشیں بھی عجب ہوتی ہیں۔ آپ کو کبھی کسی رنگ کی ریل یا بٹن لانے کا کہہ دیا جائے گا۔ آپ نے آنا کانی نہیں کرنی ہے، جانا ہے، لے کر آنا اور اگر رنگ انیس بیس ہوا تو پھر جانا ہے اور اسوقت تک بازار کے چکر کاٹنے ہیں جب تک مفقود "مقصودہ" رنگ مل نہ جائے۔ اسی طرح کسی تپتی دوپہر پرانے سے شاپر میں کسی سہیلی کو کپڑے دیے کر بھی آنے ہیں۔ آپ لاکھ تپیں، بڑی امی کو اس سے کوئی غرض نہیں: اچھا میں نے کہا تو گرمی اور کوئی دوست آجائے تو ابھی نکل جاو گے۔ یہ غصہ میں کسی وقت بھی آپ کے بال نوچ کر آپ کو ہیرو سے زیرو بنا سکتی ہیں۔

بڑی امی کے خلاف آپ کی کوئی سازش کبھی کامیاب نہیں یو سکتی ہے کیونکہ گھر میں امی اور پاپا ان کی فوج کا ہراول دستہ ہیں اور یہ دست کبھی آپ سے ہم کلام بھی ہو سکتے ہیں جس میں آپ کا کردار گونگے کا ہوگا۔ جہاں کہہں بولنے کی کوشش کی، سمجھیں دو اور لگے۔

یہ سب کچھ ٹھیک مگر یہ بڑی امی ہی ہیں جو بچپن میں آپ کے سر کھجانے پر آپ کو دبک کر بٹھا لیتی ہےاور سر کی جوئیں دو انگلیوں کے ناخونوں کے بیچ میں رکھ کر مارتے ہوئے خوب سناتی ہے: تمھاری کلاس میں ناں کسی نے دیکھ لیا تو کوئی پاس بھی نہ بٹھائے گا۔ یہ آپ کو کئی بار آپ کو بغیر بتائے ماں باپ کی ڈانٹ سے بچاتی ہے۔ ان کا غصہ جھاگ کی طرح بٹھا دیتی ہے۔ جب امی ابو پیسے نہ دیں تو یہ اپنے چھوٹے کالے پرس سے پیسے نکال کر دیتی ہے اور کہتی ہے: دے تو رہی ہوں مگر ایک ایک پیسہ واپس لے لوں گی۔ یہ پیسے نہ کبھی وہ مانگتی ہے اور نہ کبھی آپ وابس کرنے کا سوچتے ہیں۔ دوستوں کے ساتھ پکنک پر کہیں جانا ہو تو امی ابو سے اجازت بھی یہی دلواتی ہیں۔

رات کو دیر سے گھر لوٹیں تو ہلکی سے ایک کھٹ پر دروازہ کھول دیتی ہے۔ صبح ابو سے کہتی ہے: بس آپ سوئے ہیں اور یہ آ گیا۔ جب امی ابو کی سختی بڑھے اور آپ نم آنکھوں کے ساتھ اداس ہوتے تو یہ آپ کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بتاتی ہے: تم تو پاگل ہو۔ امی ابو سب سے زیادہ تم سے ہی تو پیار کرتے ہیں۔ صلواتیں سناتے ہوئے روز صبح یونیفارم استری کرتی ہے۔ یہی آپ کو سب سے پہلے بتاتی ہے کہ کس ہیرو یا ٹی وی ایکٹر سے ملتے ہو۔ آج اچھے لگ رہے ہو۔ تم پر یہ رنگ بہت جچتا ہے۔ تم پر بیچ کی مانگ بالکل بھی اچھی نہیں لگتی۔

یہی رات کے کسی پہر بھوکا سونے پر آپ کو کھانے گرم کرکے دیتی ہے۔ کھانا پسند نہ آئے تو تلا انڈا حاضر ہو جاتا ہے۔ اگر لگتا ہے کہ اس بار اس کی جانب سے آپ کے ساتھ "زیادہ ذیادتی" ہوگئی ہے تو وہ آپ کو مناتی ہے اور جب آپ مان جاتے تو وہ خود رو پڑتی ہے۔ آپ میں دن بھر ہزار کیڑے نکالتی ہے لیکن جب کسی سے ملے تو تعریفوں کے پل باندھ دیتی ہے اور آپ سوچتے ہیں اچھا تو یہ میں ہوں۔

یہ اس وقت سے آپ کی باتوں کی رازداں ہوتی ہے جب آپ کو پتہ بھی نہ تھا کہ راز کیا ہوتا ہے۔ آپ غم کے تپتے موسم میں کھڑے ہوں تو اس کی میٹھی آواز آپ کو حوصلہ دیتی ہے۔ یہ جانتی ہے کب آپ سے لڑنا ہے۔ کب بات کرنی ہے۔ کب مسکرانا ہے۔ کب رونا ہے۔

یاد ہے جب آپ پہلے دن ملازمت پر گئے تھے تو لال مرچوں سے نظر کس نے اتاری تھی۔ جب آفس سے کار ملی تھی تو سب سے پہلے کہاں گئے تھے؟ بڑی امی کی سہیلی کے ہاں۔ کس قدر دھونس سے اس نے کہا تھا: اے مسٹر! جہاں میں کہوں گی پہلے وہاں جاو گے۔

اور پھر ایک دن وہ بھی آتا ہے کہ وہ جاسوسہ کسی کی منکوحہ بن کر ہمیشہ کے لیے جارہی ہوتی ہے۔ آپ کی آنکھوں میں نمی ہوتی ہے۔ آپ ایک قید سے رہائی پا رہے ہوتے ہیں مگر یہ کیسی قید تھی جس میں زندگی کے سارے رنگ تھے۔

رشتوں میں مان ہی ہے تو ہوتا ہے اگر مان نہ رہے تو پھر اپناپن تو کہیں کھو جائے۔ اب جب وہ تھوڑی سی دیر کے لیے گھر آتی ہے تو اجنبی اجنبی سی لگتی ہے۔ وہ جو کبھی آپ کا انتظار کرتی تھی۔ اب آپ اس کے آنے کا انتظار کرتے ہیں۔ جو کل کی جاسوسہ تھی اب وہ آپ کو اپنی محسنہ لگتی ہے۔ اب کون ہے جو آپ پر اس طرح نظر رکھے اور نذر اتارے۔ رشتے نہ تو دور ہوتے ہیں اور نہ کمزور بس ان میں کچھ لوگ آجاتے ہیں لیکن اگر یہ نہ آئیں تو زندگی آگے کیسے بڑھے۔ نئی نئی جاسوسائیں کیسے زندگی میں آئیں۔۔ ایک دن رخصت ہونے کے لیے۔

About Azhar Hussain Azmi

Azhar Azmi is associated with advertising by profession. Azhar Azmi, who has a vast experience, has produced several popular TV campaigns. In the 90s, he used to write in newspapers on politics and other topics. Dramas for TV channels have also been written by him. For the last 7 years, he is very popular among readers for his humorous articles on social media. In this regard, Azhar Azmi's first book is being published soon.

Check Also

Kitab Tehzebon Ki Maa: Hujjat Ul Islam (7)

By Asif Masood