Azeeza Khala
عزیزہ خالہ

کچھ لوگ عمر کے ہر حصے میں ہر ایک کے لیے سراپا عجز و انکسار ہوتے ہیں جو بھی ملتا ہے، خوش ہوتا ہے اور دوبارہ ملنے کی آرزو کرتا ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم بہت چھوٹے تھے۔ عزیزہ خالہ مہینے میں ایک یا دو بار ہمارے ہاں آ جایا کرتیں۔ خالہ عزیزہ ہماری دادی اماں کی قریبی رشتےدار تھیں۔ عمر میں دادی اماں سے کہیں چھوٹی تھیں لیکن حالات کے جبر نے چہرے کی جھریوں سے بڑی عمر لکھ دی تھی۔ سامنے کے ایک دو دانت بھی ٹوٹ گئے تھے جس کے سبب چہرے پر پویلا پن آ گیا تھا۔
عزیزہ خالہ کالا برقع اوڑھا کرتی تھیں۔ قامت درمیانی اور رنگ گندمی تھا۔ بات چیت میں ایک عجیب لہک اور اپنائیت تھی۔ الفاظ کا چناو اور لہجے کا رچاؤ ایسا کہ آپ خود کو اپنے آبائی قصبے میں محسوس کریں۔ دادی اماں سے ان کو خاص انسیت تھی۔ وہ وہ قصے لے بیٹھتں اور وہ وہ نام لیتیں کہ ہم کچھ نہ سمجھ پاتے۔ دادی اماں کا گھر میں بڑا رعب تھا، زیادہ بات نہ کرتیں لیکن عزیزہ خالہ کو دیکھ کر کھل آٹھتیں اور پھر خوب ہی گزرے دنوں کی باتیں ہوتیں۔ عزیزہ خالہ کبھی کسی کی برائی نہ کرتیں۔ غیبت ان کے مزاج میں نہ تھی۔ کبھی کوئی شکوہ شکایت ان کے لب پر نہ ہوتا۔ پوچھو تو کہتیں: بڑا کرم ہے میرے پروردگار کا۔ جس حال میں رکھے خوش ہیں، اس کی رضا میں راضی ہیں۔ گفتگو میں لفظ بہت کھینچا کرتی تھیں۔ نہیں کہتے ہوئے اسے اتنا کھینچتیں کہ گھر کی عورتوں کو ہیں خالہ! کہہ کر نہیں کو ختم کرنا پڑتا۔
عزیزہ خالہ کی آمد کی اطلاع بچوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی۔ ہم اور چچا کے سارے بچے ان کے گرد ایسے جمع رہتے جیسے شمع کے گرد پروانے۔ ہم سب کے چہروں پر عید کی سی خوشی ہوتی۔ کوئی بچہ اب خالہ عزیزہ سے دوری کا روادار نہ ہوتا۔
عزیزہ خالہ ایک کچی بستی میں اپنے بیٹے اور اس کی بیوی بچوں کے ساتھ رہا کرتی تھیں۔ بیٹے کی آمدن زیادہ نہ تھی اور وہ ویلڈنگ کا کام کیا کرتا تھا۔ اس لیے عزیزہ خالہ کو بھی ایک فیکٹری میں بطور ورکر کام کرنا پڑتا۔ میں بھی دادی اماں کے ساتھ ایک مرتبہ ان کے گھر گیا تھا۔ گھر چھوٹا مگر صاف ستھرا تھا۔ ہر طرف سلیقہ نمایاں تھا۔ عزیزہ خالہ کا بیٹا کبھی کبھی ہمارے گھر آیا کرتا تھا۔ اس زمانے میں ٹھنڈے پانی کے لیے مٹی کے گھڑے ہوا کرتے تھے۔ ہمارے گھڑوں کے لیے لوھے کی دو گھڑونچیاں وہی بنا کر لایا تھا جب تک گھڑوں کا ٹھنڈا پانی پیا، گھڑوں کو ان گھڑونچیوں پر ہی رکھا پایا۔
عزیزہ خالہ بہت خود دار تھیں۔ عام طور سہ پہر یا شام کو چھٹی کے وقت آیا کرتی تھیں۔ سوائے پانی کے کچھ نہ پیٹیں۔ بہت اصرار کرتے تو چائے کا ایک کپ۔ جب تک عزیزہ خالہ رہتیں، ہم سب وہیں منڈلانے رہتے۔ بس انتظار رہتا تو ان کے جانے کا کہ کب وہ برقع اٹھانے سے پہلے اپنا پرانا سا پڑس کھولیں اور ہر بچے کو آٹھ آنے کا سکہ دیں۔ امی اور چچی لاکھ کہیں: ارے کیوں دے رہی ہیں خالہ، کیا ضرورت ہے؟ مگر عزیزہ خالہ تو شاید آٹھ آٹھ آنے کے سکے (اٹھنی بھی کہتے تھے) گن کر لایا کرتی تھیں۔ سکے دیتے ہوئے کہتیں: ارے واہ کیوں نہ دوں اور تم کوں ہو وہ ہو منع کرنے والی۔ امی اور چچی لاکھ اشاروں سے ہمیں منع کرتیں مگر ہم عزیزہ خالہ کی اس محبت کو ٹھکرانے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
یہ کم و بیش 50 سال پرانی یاد ہے مگر اس یاد میں خالہ عزیزہ اور ان کی فراخدلی آباد ہے۔ آمدنی کم بلکہ ضروریات سے بھی کم ہونے کے باوجود وہ دریا دل تھیں۔ خالہ عزیزہ کے آٹھ آنے آج کچھ بھی نہیں بلکہ اب یہ سکہ ہی نہیں چلتا لیکن وہ اپنی سادہ سی، معصوم سی محبت کا سکہ ہم سب پر جما گئی ہیں جو یاد نگر میں ہمیشہ چلتا رہے گا۔
آج کے بچوں سے ان کا تذکرہ کرو تو انہیں یہ سب قصے کہانیاں لگتے ہیں۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہم نے ان لوگوں کو جیتا جاگتا دیکھا ہے۔

