Sadar Ke Joote
صدر کے جوتے

امریکی تاریخ میں کئی صدور اپنی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ اپنی دلچسپ عادات اور عجیب و غریب حرکتوں کی وجہ سے بھی یاد رکھے جاتے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں بھی انسان اپنی فطرت سے جدا نہیں ہو پاتا، اس لیے بعض اوقات ان کی ایسی حرکات تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں جنہیں لوگ برسوں تک مسکرا کر یاد کرتے ہیں۔
John Quincy Adams (11 جولائی 1767 – 23 فروری 1848)، صدارت: 1825–1829
الصبح اٹھ کر Potomac River میں تیراکی کرنے چلے جاتے تھے۔ ایک بار ایک خاتون صحافی ان کا انٹرویو لینا چاہتی تھیں۔ وہ دریا کے کنارے آئیں اور ان کے کپڑوں پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگیں۔ جب تک صدر پانی سے باہر آ کر ان سے بات نہ کرتے، وہ وہاں سے ہٹنے کو تیار نہ تھیں۔ یوں صدر کو پانی سے نکل کر وہیں انٹرویو دینا پڑا۔
Andrew Jackson (15 مارچ 1767 – 8 جون 1845)، صدارت: 1829–1837
اپنی تیز مزاجی اور انوکھے انداز کے لیے جانے جاتے تھے۔ انہیں اپنے طوطے سے بے حد محبت تھی اور وہ اکثر وائٹ ہاؤس میں بھی ان کے ساتھ رہتا تھا۔ روایت ہے کہ جب جیکسن کی آخری رسومات ہو رہی تھیں تو وہ طوطا اتنی زور زور سے گالیاں دینے لگا کہ لوگوں کو اسے تقریب سے باہر لے جانا پڑا۔
Theodore Roosevelt (27 اکتوبر 1858 – 6 جنوری 1919)، صدارت: 1901–1909
توانائی اور مہم جوئی کی چلتی پھرتی مثال تھے۔ وہ صدارت کے باوجود گھڑسواری، شکار اور باکسنگ جیسے مشاغل جاری رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ باکسنگ کے دوران ان کی آنکھ زخمی ہوگئی، لیکن اس کے باوجود وہ اپنا طے شدہ خطاب دینے کے لیے اسٹیج پر پہنچ گئے۔ ان کی یہی بے پناہ توانائی انہیں دوسرے صدور سے مختلف بناتی تھی۔
Lyndon B. Johnson (27 اگست 1908 – 22 جنوری 1973)، صدارت: 1963–1969
کا مزاح بھی کچھ منفرد تھا۔ وہ اکثر مہمانوں کو اپنے فارم پر لے جاتے اور ایک خاص گاڑی میں بٹھا دیتے۔ پھر اچانک گاڑی کو جھیل کی طرف دوڑاتے، جس سے سب گھبرا جاتے کہ اب گاڑی پانی میں جا گرے گی۔ لیکن اصل میں وہ ایک ایمفیبیئس گاڑی ہوتی تھی جو پانی میں بھی چل سکتی تھی اور صدر اس گھبراہٹ پر خوب لطف اندوز ہوتے تھے۔
Calvin Coolidge (4 جولائی 1872 – 5 جنوری 1933)، صدارت: 1923–1929
اپنی خاموش طبیعت کے باوجود عجیب شوق رکھتے تھے۔ وائٹ ہاؤس میں انہوں نے مختلف جانور پال رکھے تھے، جن میں بلیاں، بطخیں اور یہاں تک کہ ایک ریکون بھی شامل تھا۔ مہمان جب وائٹ ہاؤس آتے تو اکثر ان جانوروں کو دیکھ کر حیران رہ جاتے۔
Donald Trump
پیدائش: 14 جون 1946
وفات: (تاحال حیات)
مدتِ صدارت: 2021 – 2017 January 20, 2017 – January 20, 2021 (45th President)
and January 20, 2025 – present (47th. President)
کے بارے میں بھی کئی دلچسپ اور مزاحیہ واقعات مشہور ہیں۔ ایک بار ایک سرکاری میٹنگ کے دوران ان کے معاونین نے بتایا کہ صدر کو روزانہ کئی صفحات پر مشتمل بریفنگ پڑھنا پسند نہیں۔ اس کے بعد حکام نے اہم معلومات کو مختصر نکات اور چارٹس کی شکل میں تیار کرنا شروع کر دیا تاکہ صدر انہیں زیادہ آسانی سے دیکھ سکیں۔ اس واقعے کو واشنگٹن میں لوگ ہنستے ہوئے یاد کرتے ہیں کہ کبھی کبھی دنیا کی سب سے طاقتور کرسی پر بیٹھنے والے انسان کو بھی معلومات آسان انداز میں پیش کرنا پڑتی ہیں۔
اب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک نئی کہانی بھی شاید اسی طرح امریکی صدارتی قصوں میں شامل ہو جائے۔ یہ قصہ Donald Trump کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے 145 ڈالر کے فلورشائم جوتوں سے خاص محبت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ان کے بغیر کہیں جانا پسند نہیں کرتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں یہ جوتے اتنے پسند آئے کہ انہوں نے اپنی پوری ٹیم اور پارٹی کے لوگوں کے لیے بھی وہی جوتے آرڈر کر دیے۔
اصل مزاحیہ پہلو یہ ہے کہ یہ جوتے انہوں نے لوگوں کے سائز پوچھے بغیر ہی منگوا دیے۔ اب اعلیٰ سطحی اجلاسوں اور میڈیا کی تصویروں میں دیکھا جا رہا ہے کہ JD Vance اور Marco Rubio سمیت کابینہ کے کئی اراکین وہی جوتے پہنے ہوئے نظر آتے ہیں جو صدر کی طرف سے تحفے میں دیے گئے ہیں۔
میڈیا کی تصویروں اور ویڈیوز میں یہ بھی صاف دکھائی دیتا ہے کہ وہ جوتے ہر ایک کے پاؤں کے مطابق نہیں ہیں۔ کچھ لوگوں کے لیے وہ بہت تنگ ہیں اور کچھ کے لیے ٹخنوں کے گرد ڈھیلے۔ یوں ایک چھوٹی سی عادت اب ایک دلچسپ قصے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
امریکی صدور کی تاریخ میں ایسی بے شمار انسانی اور مزاحیہ جھلکیاں ملتی ہیں۔ ممکن ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ واقعہ بھی انہی قصوں میں شامل ہو جائے جنہیں لوگ سیاست سے زیادہ انسانیت اور مزاح کے رنگ میں یاد کرتے ہیں۔

