Saturday, 21 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayaz Khawaja
  4. Mashriq e Wusta Ka Mustaqbil Kya Hai?

Mashriq e Wusta Ka Mustaqbil Kya Hai?

مشرق وسطیٰ کا مستقبل کیا ہے؟

امریکہ اور اسرائیل نے فروری 2026 میں ایران پر فضائی حملے کیے، جس سے ایران کے اعلیٰ رہنما علی خامنائی ہلاک اور ان کے جانشین مجتبیٰ خامنائی زخمی ہو گئے۔ ایران نے جوابی کارروائی میں میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں اسرائیل، امریکی فوجی اڈے اور خلیجی ریاستیں نشانہ بنیں۔ لبنان میں حزب اللہ حملے کر رہی ہے، جبکہ حماس شامل نہیں ہوئی اور تنظیم میں اختلافات واضح ہیں۔

ایران کا Nuclear پروگرام کئی سالوں سے زیر نگرانی رہا ہے۔ پچھلے سال اسرائیل اور امریکہ نے فردو اور دیگر نیوکلیئر تنصیبات پر حملے کیے، جس سے پروگرام کو نقصان پہنچا مگر مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ایران اب بھی نیوکلیئر صلاحیت حاصل کر سکتا ہے، لیکن ابھی تک کوئی تصدیق شدہ Nuclear bomb تیار نہیں ہوئی۔ حملے صرف نیوکلیئر روک تھام کے لیے نہیں بلکہ ایران کی عسکری طاقت، خطے میں اثر کم کرنے، حکومت پر دباؤ ڈالنے اور ممکنہ طور پر تیل و وسائل پر کنٹرول کے لیے بھی کیے گئے۔

ایران نے پچھلی پانچ دہائیوں میں کئی اہم جنگیں لڑی ہیں، سب سے بڑی ایران‑عراق جنگ (1980–1988) تھی، جس میں لاکھوں ہلاک و زخمی ہوئے اور تیل کی پیداوار متاثر ہوئی، جس سے عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھیں۔ موجودہ جنگ میں آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل کی سپلائی متاثر کی اور قیمتیں بلند ہوگئی ہیں، جس سے عالمی معیشت اور توانائی کی مارکیٹ دباؤ میں ہے۔

پاکستان نے جنگ کے دوران اپنے شہریوں کی نکاسی (evacuation) پر توجہ دی اور ایران کو سرکاری ریلیف ٹیمیں یا طبی امداد نہیں بھیجی۔ پاکستان نے اپنے شہریوں کو محفوظ راستوں سے واپس لانے کی کوشش کی۔

عالمی برادری نے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں، تقریباً 7 سے 10 ممالک امن مذاکرات اور جنگ بندی کی پیشکش کر رہے ہیں۔ کچھ ممالک نے ایران کو انسانی اور طبی امداد دینے کا اعلان کیا ہے: چین ہنگامی طبی اور انسانی امداد فراہم کر رہا ہے، روس نے طبی سامان بھیجنے کا آغاز کیا اور WHO نے اسپتالوں اور طبی مراکز کے لیے ہنگامی فنڈز فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

اب تک دونوں طرف ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں، ایران اور اسرائیل میں شہری انفراسٹرکچر متاثر ہوا ہے اور خلیجی ممالک میں بھی توانائی اور کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔ اگر جنگ اسی شدت سے جاری رہی تو نقصان بڑھ سکتا ہے۔

آخر میں امید کی جا رہی ہے کہ جنگ مزید نہ بڑھے، عالمی جنگ میں تبدیل نہ ہو اور کم سے کم انسانی اور اقتصادی نقصان کے ساتھ ختم ہو، لیکن اس کے اثرات طویل عرصے تک عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ پر محسوس ہوں گے۔

Check Also

Akhri Jang

By Syed Mehdi Bukhari