Hieroglyphics
ہائروگلیفکس

جب بھی میں مصر کی قدیم آثار کی تصویریں دیکھتا ہوں، تو سب سے پہلے ان کے بڑے بڑے پیرامڈز اور ٹومز نظر آتے ہیں۔ وہاں آرٹیفیکٹس (Artifacts)، ریلیکس (Relics)، وال پینٹنگز (Wall Paintings)، ٹیبلٹس (Tablets) اور اسکرولز (Scrolls) ملتے ہیں اور آرکیالوجسٹ (Archaeologists) مسلسل کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ایکسکیویشن (Excavation) جاری رہتی ہے اور نئی نئی چیزیں نکلتی رہتی ہیں۔
وہاں سے چھوٹے فگرینز (Figurines) ملتے ہیں، مجسمے ملتے ہیں، رائٹنگز ملتی ہیں اور وال پر جو رائٹنگ لکھی ہوئی ہے اس کو ہائروگلیفکس کہا جاتا ہے۔
ہائروگلیفکس (Hieroglyphics) کا مطلب ہے مقدس تحریریں (Sacred Writings)۔ یہ زیادہ تر رسمی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی تھیں، جیسے مندر (Temples)، ٹومز (Tombs) اور شاہی احکامات۔ روزمرہ تحریر کے لیے وہ سادہ رسم الخط استعمال کرتے تھے:
ہیراٹک (Hieratic): تیز رفتار رسمی تحریر
ڈیموٹک (Demotic): سادہ روزمرہ کی تحریر
ہائروگلیفکس میں الفاظ کی جگہ تصویریں استعمال ہوتی تھیں، جیسے پرندہ ایک حرف، کتا یا ایگل بھی ایک حرف یا آواز ظاہر کرتا اور ان کو ملا کر جملے بنتے تھے۔ 1799 میں روزیٹا اسٹون (Rosetta Stone) ملا، جس پر ایک ہی عبارت ہائروگلیفکس، ڈیموٹک اور یونانی (Greek) میں لکھی ہوئی تھی اور اسی کی مدد سے ہائروگلیفکس کو سمجھنا ممکن ہوا۔
مصر کی قدیم مذہبی روایات میں کئی اہم خدا شامل تھے، جن میں Ra (سورج کا خالق)، Osiris (بعد از مرگ زندگی کے خدا)، Horus (آسمان اور شاہی اقتدار کا خدا)، Isis (ماں، جادو اور علاج کی دیوی) اور Anubis (ممیفیکیشن اور آخرت کے خدا) شامل ہیں۔ یہ خدائی خاندان، نسل اور تعلقات کے حساب سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے اور مصری زندگی اور عقائد پر گہرا اثر رکھتے تھے۔
مصری فرعون بھی اسی خدائی نظام سے جڑے ہوئے تھے۔ وہ اکثر Horus کے زمین پر ظہور سمجھے جاتے تھے اور اپنی نسل اور خاندان کے ذریعے اقتدار حاصل کرتے تھے۔ معروف فرعونوں میں Tutankhamun، Ramses II، Akhenaten شامل ہیں، جبکہ معروف خواتین حکمران Cleopatra VII اور Nefertiti تھیں۔ یہ حکمران اپنے دور کے دوران مذہبی، سیاسی اور ثقافتی ترقی میں مرکزی کردار ادا کرتے تھے۔
ان کے لوگ یہ طے کرتے تھے کہ جب ان کے حکمران یا خدا مر جائیں تو ان کے ساتھ کیا کیا جائے۔ کبھی انہیں ممیفائی کیا جاتا تھا اور کبھی انہیں وہیں رکھا جاتا تھا تاکہ ان کی روح آسمان سے جڑی رہے۔ وہ اپنے ٹومز یا مقبروں کی چھت میں ایک سوراخ یا کھڑکی چھوڑتے تاکہ ستاروں کی روشنی اندر آئے اور مرے ہوئے خدا یا فرعون کی روح کے ساتھ کنکشن قائم ہو۔
اب بھی مصر میں بہت سی آرکیالوجیکل ہیں جہاں کھدائی جاری ہے۔ وہاں سے نئی نئی چیزیں نکلتی رہتی ہیں، کبھی پورے شہر دریافت ہو جاتے ہیں، کبھی نیا ٹوم ملتا ہے۔ یہ ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔
مجھے آج ہائروگلیفکس اور مصری سیولائزیشن کے بارے میں بہت سوچ آ رہی تھی۔ ابھی بھی بہت کچھ ایسا ہے جو ہمیں نہیں پتا، جیسے وہ کس طرح کی زندگی گزارتے تھے، کیا باتیں کرتے تھے اور مستقبل کے بارے میں کیا سوچتے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ اگر آپ تاریخ کو نہیں دیکھتے تو آپ مستقبل کی منصوبہ بندی نہیں کر سکتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھیں، یہ دیکھیں کہ سیولائزیشن کہاں تک پہنچ چکی تھی اور یہ بھی کہ ہم آج جو کر رہے ہیں، کیا وہی چیزیں پہلے ہو چکی ہیں؟
ہمیں تاریخ سے سیکھنا چاہیے، تاکہ ہم اپنی ترقی اور مستقبل کے لیے بہتر فیصلے کر سکیں۔
یہ دیکھ کر سوچنا پڑتا ہے کہ ان خداؤں اور فرعونوں کے جانے کے بعد بھی، فرعونوں جیسی سوچ اور حکمرانی کی ذہنیت صدیوں سے چلتی آ رہی ہے۔ اس میں عوام پر ظلم، اپنی طاقت کے لیے دوسروں کی جان لینا، سیاست، جنگیں اور ہیجیمونی شامل ہیں۔ یہ سب آج بھی جاری ہے اور کب ایسی سوچیں بدلیں گی، یہ ایک چبھتا ہوا سوال ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔

