Dhalte Suraj Ke Taqub Mein (2)
ڈھلتے سورج کے تعاقب میں (2)

وہ عمر کے سوالوں کو کچھ مشکوک سمجھ رہی تھی۔ مسز ہیج کے چہرے کے تاثرات اور برتاو اس کو بتا رہے تھے کے وہ اس پر یقین نہیں کر رہی تھی۔ اسکو صرف اس چیز میں دلچسپی تھی کے وہ اسے چاے کا ایک کپ پلاے اور اگر ضروری ہو تو تھوڑی بات چیت کی جاے۔۔ بس اتنا ھی۔ تاہم اسکے زیادہ اسرار کرنے پر عورت اعتماد کے ساتھ اس لڑکی کی کہانی بتانے پر رضامند ھو گئی۔ لیکن اسکی ایک شرط تھی۔ وہ چاہتی تھی کے وہ تین ہفتے تک منگل اور ہفتے کے دن اسکے گھر کے لان میں کام کرے۔ اگرچہ یہ کام اسکے شیڈول کو بلکل خراب کر رہا تھا اور اسے باغبانی کا کوئی تجربہ بھی نہیں تھا۔ اس نے انگلی سے ہوا میں دائرہ بناتے ہوے کچھ لمحے سوچا اور پھر ڈیل پکّی کرنے کے لئے ہاتھ اگے بڑھایا " ٹھیک ہے، میں رضا مند ہوں" اس بار وہ قدرے اونچی آواز میں بولا۔
عورت نے اسکا ہاتھ دور ہٹایا، مسکرائی اور کان میں سرگوشی کی، "کیا تم مجھے بیوقوف سمجھتے ہو؟ کیا تمہاری جیب میں کچھ پیسے ہیں؟ وہ عورت اسکو بہت بوسیدہ لگ رہی تھی"، ہاں کوئی ایک سو ستر ڈالر ہیں، مگر کیوں؟ وہ بہت متجسس تھا۔ یہ مجھے دے دو، اس نے تحمکانہ انداز میں کہا۔ لڑکے نے اسے پیسے دے دیے جن کو ایک سو ستر سمجھ رہا تھا اصل میں وہ "ایک سو اڑتالیس ڈالر تھے"۔ تم نے مجھ سے جھوٹ بولا یہ ایک سو ستر ڈالر نہیں ہیں چالاک لڑکے۔ وہ اپنی گیلی انگلیوں سے پیسے گن رہی تھی۔ اس وقت مسز ہیج ایک تجربےکار دکاندار لگ رہی تھی۔ اس نے کہا "وہ میں بھول گیا آج صبح میں نے ایک لائبریری سے ایک کتاب خریدی تھی لیکن آپکو یہ کیوں چاہیے؟
ٹھیک ہے تمہارے یہ پیسے میں نے حفاظتی طور پر اپنے پاس رکھے ہیں۔ میرے ساتھ چالاکی مت کرنا۔ اگر تم نے سہی طرح سے گھاس نہ کاٹی اور پتے وغیرہ وہیں چھوڑ کر چلے گئے تو بھول جانا میں تمہارے پیسے کبھی واپس کرونگی۔ وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا ک یہ لومڑی کی طرح چالاک عورت ہے۔ اسنے اپنا سر ہلاتے ہوئے کہا، "ٹھیک ہے، مجھے دیر ہو رہی ہے، مہربانی فرما کر اب آپ مجھے لڑکی کے بارے میں بتایں۔ وہ اچھی ہے مگر مجھے اس سے بات کرنے کا موقع کبھی نہیں ملا، "اسنے وضاحت کی۔ بوڑھی عورت نے اپنے پرس میں پیسے ڈالتے ہوئے کہا، "یہ تم نہیں جو کبھی بات نہیں کر سکے، یہ فرح ہے"۔
مسز ہیج نے اسے بتایا، اس لڑکی کا نام فرح ہے۔ وہ کبھی کسی سے بات نہیں کرتی۔ ایک دفعہ مسز ہیج نے فرح سے بات چیت کرنے کی کوشش کی اور اسے ہیلو کہہ کر بات کرنی چاہی، مگر انہیں کوئی جواب نہ ملا۔ مسز ہیج خفگی سے بولیں "یہ بہت برا سلوک ہے، میں کب سے تمہیں سلام کرنے کی کوشش کر رہی ہوں اور تم جواب نہیں دے رہی۔۔ کیوں؟ فرح نے اسکی طرف دکھی نظروں سے دیکھا۔ پھر اسنے کچھ کہنے کی کوشش کی، پر سب غیر واضح تھا۔ وہ ٹوٹے پھوٹے لفظ بول رہی تھی اور اسکے جملوں کا کوئی مطلب نہیں تھا۔ مسز ہیج کو احساس ہوا کے جیسے وہ کسی گونگے بہرے انسان سے بات کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسکا دھیان اس کے کان میں لگے چھوٹے سے آلے کی طرف گیا، لیکن کیا وہ واقعی اسکی مدد کر رہا تھا؟ مسز ہیج اس تمام صورتحال پر کافی شرمندہ تھیں اور انہوں نے فرح سے اونچی آواز میں معذرت کی۔ مسز ہیج نے وہ ہر
اشارہ استعمال کیا جس سے ظاہر ہو۔۔ وہ فرح سے بہت معذرت خواہ ہیں۔ فرح مسکرائی اور اپنا سر ہلاتے ہوئے انکی معذرت کو قبول کیا۔ اسنے مسز ہیج کا ہاتھ پکڑا اور اپنے اپارٹمنٹ کی طرف چلنے لگی۔ مسز ہیج پہلی بار فرح کے گھر کے اندر گیئں تھیں۔ وہ ایک عام اپارٹمنٹ نہیں تھا اور بہت خوبصورتی اور الگ طریقے سے سجا ہوا تھا۔ اسنے زیادہ تر سامان زمین پر رکھا ہوا تھا۔ مختلف قسم کی چیزیں دیواروں پر لٹکتی نذر آرہی تھیں، ان میں سے کچھ چیزوں پر کسی ایسی زبان میں لکھا ہوا تھا جو مسز ہیج کبھی پڑھ یا سمجھ نہ سکیں۔ جب انہوں نے فرح سے پوچھا، تو اسنے بتایا کے یہ افغانستان کی زبان ہے جو پشتو اور فارسی زبان کا مجموعہ ہے۔
فرح اشاروں کی زبان میں بات کر رہی تھی جو مسز ہیج کے سر کے اوپرسے گزر گئی، لیکن جب فرح نے اپنے خاندان کی تصویریں اور دوسری چیزیں دکھاتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کی تو مسز ہیج اسکا مطلب سمجھنے لگیں۔
ہاتھوں کے اشاروں کے علاوہ فرح اپنے منہ سے بھی کچھ آوازیں نکال رہی تھی۔ مسز ہیج کے پاس اب ایک کہانی تھی، جسے وہ سارے قصبے میں پھیلا سکتیں تھیں، لیکن تب فرح نے کاغذ کے ایک ٹکرے پر لکھا، " مہربانی فرما کر یہ کہانی کسی اور کو مت بتایے گا، میں نے بتایا کیوں کے آپ نے پوچھا اور میں آپ پر اعتبار کرتی ہوں۔ شکریہ!"۔۔ اگرچہ مسز ہیج کے لئے یہ وعدہ کرنا کے وہ کسی کو کچھ نہیں بتاے گی، ایک مشکل کام تھا۔
***
چند ہفتوں کے بعد ایک دوپہر، عمر نے فرح کو بہت جلدی میں دیکھا۔ وہ ٹیکسی میں کہیں جانے کی تیاری کر رہی تھی، یہ سب کچھ بہت عجیب اور غیرمعمولی نہ ہوتا، اگر وہ اپنے بیگ اور سوٹ کیس بھی ساتھ نہ لے جا رہی ہوتی۔
(فرح نے اُسی صبح مسز ہیج سے درخواست کی کہ وہ اُس کے کتے "Pawz" کی دیکھ بھال کریں اور مسز ہیج نے ہچکچاتے ہوئے رضامندی ظاہر کر دی)۔ پھر اس نے فرح کو ٹیکسی ڈرائیور سے اشاروں کی زبان میں بات کرتے دیکھا، ڈرائیور اسکی بات سمجھتے ہوے ٹیکسی کے پچھلے حصّے میں اسکا سامان رکھنے میں مدد کرنے لگا۔ اس نے کچھ ہمت جمع کی اور تیزی سے ٹیکسی کی طرف بڑھنے لگا، تا کہ اس سے پوچھے کے وہ کہاں جا رہی تھی۔ لیکن وہ صرف کچھ سیکنڈ لیٹ ہوگیا اور ٹیکسی نکل گئی۔
تاہم وہ مسز ہیج کو زیادہ پسند نہیں کرتا لیکن پھر بھی وہ اسکے گھر کی طرف دوڑا، اس نے دروازے پر دستک دی لیکن جب اسے کوئی جواب نہ ملا تو اس نے بار بار دستک دی اور دس منٹ تک انتظار کرتا رہا۔ وہ ناامید ہو چکا تھا کے اچانک دروازہ ہلا اور مسز ہیج کی کرخت آواز سنائی دی، "تم مجھے اکیلا کیوں نہیں چھوڑ دیتے، لڑکے"۔ وہ دروازے پر مسز ہیج سے پوچھنے لگا، "میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کے فرح کو کیا ہوا، آپ کو کچھ پتا ہے کے وہ کہاں جا رہی ہے؟" میں نے اسکو سامان کے ساتھ ٹیکسی میں جاتے دیکھا، ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ملک چھوڑ کر جا رہی ہو، اسکا چہرہ بہت اداس اور پیلا نظر آرہا تھا۔ پلیز مجھےتمام تفصیل دے دیں جو کچھ بھی آپ جانتی ہیں۔
مسز ہیج منہ میں کچھ بولتے ہوے دروازہ بند کرنے لگی، اس نے اپنا پاؤں دروازے میں پھنسا دیا اور پوچھنے لگا۔ وہ کہاں چلی گئی؟ مجھے بتایے! وہ چلایا۔ "باکل" مسز ہیج نے چیخ کر کہا اور زور سے دروازہ بند کرنے لگی، اسنے اپنا پاؤں پیچھے ہٹا لیا ورنہ بری طرح مسلا جاتا۔ پہلے تو وہ کچھ نا سمجھ سکا کے مسز ہیج نے اس وقت کیا کہا تھا، لیکن پھر اس نے دہرایا۔ " انہوں نے کہا تھا باکل۔۔ یا کابل؟ میرا خیال ہے فرح کابل چلی گئی ہے جو افغانستان یا پاکستان کا ایک شہر ہے۔ "میں گھر جاتے ہی دوبارہ چیک کروں گا"۔ اس نے سوچا کے وہ اپنے ایک کلاس فیلو کو فون کرے گا، جو نسلی اعتبار سے افغانستان سے تعلق رکھتا۔
وہ ایک عجیب سوچ دماغ میں لئے واپس گھر آیا۔ کچھ ان دیکھی قوتیں اسے فرح کی طرف کھینچ رہی تھیں۔ اس نے اپنے دوست علی کو فون کیا اور کابل کے بارے میں بہت سی ضروری معلومات حاصل کیں۔ اسکے بعد اس نے اپنے لئے ایک کپ کافی بنائی، اپنے بد پر بیٹھا اور دائرے بنانے لگا۔۔ وہ دائرے جو وہ اپنی انگلی سے ہوا میں بناتا تھا۔ اس معاملے کے بارے میں سوچتے ہوے اس نے پندرہ کے قریب دائرے بنا ڈالے۔ پھر اس نے اثبات میں سر ہلایا جیسے اسکے دماغ میں کچھ چل رہا تھا۔ اس نے ایک فیصلہ کیا۔ وہ کابل جائے گا اور یہ پتا چلا ئے گا، کہ فرح کی زندگی میں کیا ہو رہا تھا۔۔

