Ranjha Sahab Ka Dehli Nama
رانجھا صاحب کا دہلی نامہ

کہتے ہیں کہ ایک منصوبہ انسان بناتا ہے اور ایک خدا، لیکن ہوتا بہرحال وہی ہے جو خدا چاہتا ہے۔ اب اس کتاب کو ہی لیجئیے۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ رانجھا صاحب طبیبِ حاذق ہونے کے ساتھ ساتھ ادیبِ فائق بھی ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ قسمت کے بھی دھنی واقعہ ہوئے۔ یعنی ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ہر قسم کی آمدورفت بند ہے، سوائے گولہ بارود کے جس کا تبادلہ خال خال ہوتا ہے، رانجھا صاحب دلی گھوم آئے۔
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ سلطان جی محبوبِ الہیٰ کے محبوب امیر خسرو کے عرس پر ہندوستانی سرکار نے کچھ ویزے جاری کئے۔ رانجھا صاحب نے پرچی ڈالی اور قرعہ میں ان کا نام بھی نکل آیا۔ ساری تیاریاں ہوگئیں تو ہمیں بتایا۔ چونکہ ایف-16 کی سواری یہ نہیں جانتے اور اس کے علاوہ کسی جہاز کی اُدھر اجازت نہیں، چنانچہ ریل پر روانہ ہوئے۔ شاہ جہاں اور غالب کی دلی گھومے اور اس کا تمام احوال لکھ کر ادھر روانہ کرتے رہے۔ جنگ اخبار والے بھی مستعد تھے، ساتھ ساتھ شائع ہوتا رہا۔ آخر ایک مسودہ تیار ہوگیا۔
شائقین کا اصرار بڑھا کہ اب یہ کتابی شکل میں بھی ضرور آئے۔ پبلشر نے درخواست کی، رانجھا صاحب نے حامی بھری، اعلان ہوگیا لیکن وقت آیا تو رانجھا صاحب مسودہ دبا کر بیٹھ رہے۔ کئی دن گزرے، پوچھا گیا، آج کل ہوتی رہی۔ ناجانے کیا گمان تھا، ایک دن پوچھا تو بولے اب کون اس جھنجٹ میں پڑے، تم جانو کہ کتاب چھاپنے میں کتنے مرحلے ہوتے ہیں، کمپوز کرو، پروف کرواؤ، کتنی دفعہ پڑھی جاتی ہے تو کوئی صورت نکلتی ہے۔
جواب دیا کہ اس میں ایک مرحلہ تو ہم بھی سر کر سکتے ہیں۔ چنانچہ بہ ہزار دقت ان کے نیچے سے مسودہ کھسکا لائے اور چند دن میں ہی پروف کرکے واپس حوالے کیا۔ اس پر بھی کئی مہینے بلکہ سال گزر گئے۔ کتاب مصنف کی بے نیازی کا شکار پڑی رہی۔ لوگ پوچھتے رہے، یہ ٹالتے رہے اللہ اللہ خیر سلا۔ لیکن تدبیر کنند بندہ، تقدیر خند زندہ، آخر کب تک۔ ان کی تمام کوششوں کے باوجود اس کتاب میلے پر خبر ملی کہ کتاب بس آنے کو ہے۔ ہم بھی تیار ہو گئے کہ چلو ایک دفعہ پھر پڑھیں گے، اچھی نثر کے شائق دوستوں کو تحفہ دیں گے، لطف رہے گا۔ البتہ میڈیم سی۔ ایم کا حصہ ڈالنا باقی تھا، انہی دنوں بسنت کا اعلان ہوگیا، چھٹیاں ہوئیں اور کتاب پھر تاخیر کی نذر ہوگئی۔ کتاب میلے پر لوگ پوچھتے رہے، کتاب ہوتی تو ملتی۔
خیر اب خبر ملی ہے کہ کتاب آخر کار چھپ گئی ہے۔ جس قدر اچھی رانجھا صاحب نے لکھی ہے، اسی قدر اچھی سنگِ میل نے چھاپ دی ہے اور ان کے شوروم واقع مال روڈ پر دستیاب ہے۔ سفرناموں میں جو قباحتیں قاری کو بور کرتی ہیں ان سے یہ پاک ہے یعنی بری نثر اور لایعنی تفصیلات۔ جبکہ وہ خوبیاں جو سفرنامے کو پڑھنے کا باعث بنتی ہیں وہ اس میں موجود ہیں یعنی سماجی مشاہدہ اور داستان سنانے کا فن۔ چنانچہ رانجھا صاحب اسے لاکھ چھُپانے کی کوشش کریں، آپ اگر اچھی اور لطیف تحریر کا لطف لینا چاہتے ہیں تو ان کے کہنے پر مت جائیں اور ایک دفعہ اس کتاب کو ضرور پڑھیں۔ قیمت سنگِ میل والی نہیں ہے اور آن لائن بھی دستیاب ہے۔

