Tawakal Ka Marka: Aik Qaum, Aik Yaqeen
توکل کا معرکہ: ایک قوم، ایک یقین

وہ لمحے تاریخ میں کم آتے ہیں جب خوف کی خبر ایمان کو کم نہیں کرتی بلکہ بڑھا دیتی ہے۔ جب افواہ، دھمکی اور عددی برتری کا شور انسان کے اعصاب پر حملہ آور ہوتا ہے اور اسی شور کے بیچ کوئی قوم یہ کہنے کا حوصلہ رکھتی ہے: حسبُنا اللہ ونعم الوکیل۔ یہ جملہ محض زبان کی جنبش نہیں، یہ ایک تہذیبی فیصلہ ہوتا ہے کہ ہم خوف کے آگے نہیں، یقین کے سہارے کھڑے ہوں گے۔
قرآن ہمیں ایک ایسے ہی لمحے کی خبر دیتا ہے: "اور وہ لوگ جن سے کہا گیا کہ تمہارے خلاف بڑی فوج جمع ہو چکی ہے، ان سے ڈرو، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے"۔ یہ آیت محض ماضی کا واقعہ نہیں، یہ ایک زندہ اصول ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں یہی اصول آزمائش بن کر آتا ہے۔ کیا ہم عدد دیکھیں گے یا مدد؟ کیا ہم طاقت کا معیار ہتھیاروں سے ناپیں گے یا یقین سے؟
مئی کی جنگ کے دنوں میں پاکستان کو بھی یہی کہا گیا۔ دوستی اور خیر خواہی کے پردے میں ڈر بانٹا گیا کہ تمہارے مقابل بڑی قوتیں صف آرا ہیں، کہیں تمہاری زمین ایک اور غزہ نہ بن جائے، کہیں تم بھی بے بسی کی تصویر نہ بن جاؤ۔ یہ خوف انسانی تھا، مگر فیصلہ ایمانی تھا۔ ریاستوں کے فیصلے اگر صرف عسکری جدولوں پر ہوتے تو تاریخ کا رخ کچھ اور ہوتا، مگر جب فیصلے توکل کے ستون پر کھڑے ہوں، تو پھر نتیجے بھی مختلف نکلتے ہیں۔
پاکستان نے اس نازک گھڑی میں خوف کی سیاست نہیں کھیلی، بلکہ یقین کی معیشت اپنائی۔ اللہ پر بھروسہ محض ایک نعرہ نہیں رہا، وہ عملی حکمت میں ڈھل گیا، ضبط میں، صبر میں اور وقت پر درست قدم اٹھانے میں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان تقدیر کا رخ موڑ دیتا ہے۔ بڑی فوجیں جب اپنے وزن پر مغرور ہوں اور چھوٹی قوتیں اپنے رب پر مطمئن، تو پھر تاریخ کا قلم خود بخود فیصلہ لکھ دیتا ہے۔
قرآن کی ایک اور تصویر یہاں روشن ہو جاتی ہے: بُنیانٌ مرصوص، سیسہ پلائی ہوئی دیوار۔ یہ دیوار اینٹوں کی نہیں، نیتوں کی ہوتی ہے، یہ بندوقوں سے نہیں، بندھن سے مضبوط ہوتی ہے۔ جب قومیں اندر سے جڑی ہوں، مقصد واضح ہو اور اعتماد کا مرکز اللہ کی ذات ہو، تو وہ دیوار بن جاتی ہیں جس سے ٹکرا کر طاقت کا غرور ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہی کیفیت بنی، ایک ایسی دیوار جس کے سامنے تین نام نہاد عسکری قوتوں کا شور دیرپا ثابت نہ ہو سکا۔
یہ کہنا آسان ہے کہ مدد آسمان سے آئی، مگر سمجھنا ضروری ہے کہ آسمان کی مدد زمین کی تیاری دیکھتی ہے۔ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں، توکل کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی پوری کوشش کے بعد نتیجہ اللہ کے سپرد کر دے۔ یہی توازن قوموں کو بچاتا ہے، نہ خود پسندی، نہ بے عملی، نہ غرور، نہ مایوسی۔
آج بھی اگر یہی بھروسہ زندہ رکھا جائے، تو مدد سرِعام آتی ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ بھروسہ اجتماعی ہو۔ صرف تقریروں میں نہیں، کردار میں، صرف نعروں میں نہیں، نظم میں، صرف دعاؤں میں نہیں، عدل میں۔ جب ریاستیں انصاف سے خالی ہو جائیں تو دعائیں بھی بوجھ بن جاتی ہیں اور جب انصاف قائم ہو تو خاموش دعائیں بھی ڈھال بن جاتی ہیں۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ اس سرزمین کی حفاظت فرمائے، اس کے لوگوں کو اختلاف کے شور میں اتحاد کی پہچان عطا کرے اور ہمیں یہ سکھائے کہ طاقت کا سرچشمہ ہتھیار نہیں، کردار ہے۔ اللہ ہمیں اپنے اوپر نہیں، اپنے رب پر بھروسہ رکھنے کی توفیق دے کیونکہ آخرکار وہی کافی ہے اور وہی بہترین کارساز۔
جب خوف خبر بن کر آئے اور یقین جواب بن جائے، تو تاریخ اپنے لہجے بدل لیتی ہے:
یہ شورِ لشکرِ باطل ہمیں ڈرا نہ سکا
کہ ہم نے دل کو فقط رب سے جوڑے رکھا
عدد کی دھوپ میں جلتے رہے غرور کے خواب
یقین کا سایہ ملا، ہم نے سر اٹھائے رکھا
جو دیوارِ توکل میں ڈھلا ہو کردار
اسے زمانے کے طوفاں نے کیا ہلائے رکھا؟
دعا یہی ہے کہ یہ روشنی سلامت رہے
کہ ہم نے چراغِ بھروسہ جلائے رکھا

