Wednesday, 04 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Tareekh e Lawa: Mitti, Mehnat Aur Yaadon Ka Tasalsul

Tareekh e Lawa: Mitti, Mehnat Aur Yaadon Ka Tasalsul

تاریخِ لاوہ: مٹی، محنت اور یادوں کا تسلسل

یہ کالم اُن یادوں اور روایتوں کی بازیافت ہے جو وقت کے گرد و غبار میں چھپ تو گئیں، مگر مٹ نہیں سکیں، اسی نرمی اور شدت کے امتزاج کے تحت ابتدا میں یہ شعر بطورِ چراغِ راہ پیش کیا جا رہا ہے:

وقت کی گرد میں بھی یادیں بسی رہتی ہیں
چپکے چپکے دل کے کونے میں پناہ لیتی ہیں

تاریخ صرف تاریخ کی کتابوں میں نہیں ہوتی، وہ زندہ انسانوں کی یادداشتوں، گلیوں کے موڑ، کنوؤں کی منڈیر، مسجدوں کی اذان اور کھیتوں میں پسینے کی خوشبو کے ساتھ سانس لیتی ہے۔ لاوہ کی تاریخ بھی کچھ ایسی ہی ہے، ایک ایسی تاریخ جو کاغذ سے زیادہ سینوں میں محفوظ رہی۔ پرانے سیاست دان اور کہنہ مشق معلم ملک ربنواز اعوان جیسے لوگ دراصل تاریخ کے وہ زندہ اوراق ہیں جن پر وقت نے خود اپنے ہاتھ سے سطریں لکھی ہیں۔ چند لمحوں کی ایک غیر متوقع نشست میں ماضی کے در وا ہوئے تو اندازہ ہوا کہ لاوہ محض ایک قصبہ نہیں بلکہ تہذیبی تسلسل، اجتماعی محنت اور سادہ مگر باوقار زندگی کا نام ہے۔ یہ وہ لاوہ ہے جس نے زرعی معیشت سے لے کر تعلیمی بیداری اور بنیادی شہری سہولتوں تک کا سفر اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے وجود میں سمویا۔

لاوہ کا پرانا زمانہ، جسے بجا طور پر اس کا زرعی دور کہا جا سکتا ہے، باہمی تعاون اور اجتماعی مشقت کی روشن مثال تھا۔ کھیتوں میں مل جل کر کام کرنا، ونگار کے لیے دور دراز کی ڈھوکوں سے لوگوں کا آنا اور محنت کے بعد ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر دیسی گھی کے حلوے اور ابلے چنوں کی دال کھانا، یہ سب محض معاشی سرگرمیاں نہیں بلکہ ایک سماجی نظام کی علامت تھیں۔ پانی جیسی بنیادی ضرورت بھی اسی اجتماعی نظم کے تحت پوری ہوتی، کوئی نالا ترپی سے پانی گھڑوں میں بھر کر خود سر پر رکھ کر اور بغل میں اٹھا کر لاتا، تو پروال قوم کا پانی کھیکھوں میں آتا۔ وہ کھیکھ، جو ایک بڑا مشکیزہ ہوتا، کم از کم بیس گھڑوں کے برابر پانی سموئے رکھتا اور روایت ہے کہ یہ بھینسوں پر لاد کر لایا جاتا تھا۔ یہ منظر آج کے نلکوں اور موٹروں کے عادی ذہن کے لیے شاید ناقابلِ تصور ہو، مگر یہی وہ سختیاں تھیں جنہوں نے لاوہ کے لوگوں کو مضبوط، صابر اور باہم جڑا ہوا بنایا۔

تعلیم کی طرف سفر لاوہ کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ پہلے مڈل سکول کا قیام، پھر ڈی سی سکول اور بالآخر ہائی سکول کا بننا، جو آج ہائیر سیکنڈری سکول کی صورت میں موجود ہے، محض عمارتوں کی تعمیر نہیں بلکہ شعور کی بنیاد رکھنے کا عمل تھا۔ محترم ملک طورا خان جیسے لوگوں نے اس خواب کے لیے آواز اٹھائی، جبکہ ڈاکٹر محمد نواز صاحب کے والد نے سو اونٹ پتھر دے کر اس خواب کو عملی شکل دینے میں حصہ ڈالا۔ یہ قربانیاں بتاتی ہیں کہ لاوہ میں تعلیم کسی سرکاری منصوبے کا نتیجہ نہیں بلکہ مقامی عزم اور اجتماعی کاوش کا ثمر تھی۔

1971 اور 1972 کے وہ سال، جب لاوہ سرگودھا ڈویژن میں شامل تھا، انتظامی لحاظ سے چاہے مختلف ہوں، مگر تعلیمی اور سماجی طور پر یہ دور بیداری کا زمانہ تھا۔ ملک ربنواز اعوان جیسے اساتذہ نے سکول میں ہسٹاریکل سوسائٹی کی بنیاد رکھ کر طلبہ کو محض نصابی علم نہیں بلکہ اپنی مٹی کی پہچان دی اور پہلا تعلیمی دورہ داودخیل اور کالاباغ جیسے اہم مقامات تک لے جا کر تاریخ کو کتاب سے نکال کر زمین پر لا کھڑا کیا۔ اٹھارہ روپے کرائے پر لی گئی بس میں سوار وہ طلبہ دراصل لاوہ کے مستقبل کی سمت سفر کر رہے تھے۔

وقت کے ساتھ لاوہ نے تجارتی اور شہری رنگ بھی اختیار کیا۔ سرگودھا کی سمت سے آنے والی ناشپاتی اور مسمی اور میانوالی جانے والا راستہ جو بھوجووالی سے گزرتا تھا، اس قصبے کو تجارتی سرگرمیوں سے جوڑتا تھا۔ جنرل ملک شیر بہادر مرحوم کے دور میں واٹر سپلائی، بجلی، ہسپتال اور سڑک جیسی سہولتوں کا آنا لاوہ کے لیے ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔ کریانہ کی دکانوں پر قاضی شیر صاحب، استاد بشیر احمد صاحب اور حاجی غلام احمد صاحب جیسے نام محض دکاندار نہیں بلکہ اعتبار کی علامت تھے۔ عنایت صاحب کی کتابوں کی دکان علم دوست فضا کی گواہ تھی، جبکہ چھاتویں بازار میں کپڑے کی دکانیں، اللہ یار خان، نذر محمد اور محمد روشن صاحب، لاوہ کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ تھیں۔ یہ بازار صرف خرید و فروخت کے مراکز نہیں تھے بلکہ سماجی میل جول، خبروں کے تبادلے اور باہمی رشتوں کی آبیاری کے مقامات تھے۔

مساجد لاوہ کی روحانی اور سماجی زندگی کا مرکز رہیں۔ کھجی والی مسجد، حافظ صدیق والی مسجد، چٹی مسجد اور شیخ صاحب والی مسجد، ہر ایک اپنی شناخت اور اپنے حلقۂ اثر کے ساتھ موجود تھی۔ اڈے کے علاقے میں واقع مسجد، جہاں آج اڈے والی مسجد ہے، اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ آمدورفت اور عبادت ساتھ ساتھ چلتی تھیں۔ بسوں کا میانوالی اور بھوجووالی کی سمت جانا، حافظ نواز کلاتھ مرچنٹ کی دکان کے پاس میل کے نشان کا ہونا، یہ سب اس قصبے کے جغرافیے اور روزمرہ حرکیات کو واضح کرتے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے نشانات دراصل تاریخ کے وہ سنگ میل ہیں جو بڑے واقعات سے زیادہ پائیدار ہوتے ہیں۔

لاوہ کی تاریخ کے یہ گوشے ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ترقی صرف عمارتوں اور سڑکوں سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اقدار، تعلقات اور اجتماعی شعور سے بھی ماپی جاتی ہے۔ زرعی دور کی سادگی، تعلیمی جدوجہد کی سنجیدگی، تجارتی دیانت اور روحانی وابستگی، یہ سب مل کر لاوہ کی شناخت بناتے ہیں۔ آج جب وقت تیزی سے بدل رہا ہے، تو ان یادوں کو قلم بند کرنا محض ماضی پرستی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے سمت کا تعین ہے۔ یہ قسطِ اول محض ایک آغاز ہے، لاوہ کی تاریخ ابھی بہت کچھ کہنے کو باقی ہے اور یہ کہانی تبھی مکمل ہوگی جب ہم اپنے بزرگوں کی یادداشتوں کو سنجیدگی سے سنیں، انہیں محفوظ کریں اور اپنی شناخت کو آنے والے کل تک منتقل کریں۔

یہ تحریر محض ماضی کی بازیافت نہیں بلکہ اس مٹی سے جڑے اُن ہاتھوں اور اُن دلوں کو سلام ہے جنہوں نے لاوہ کو لاوہ بنایا۔ وقت بدلتا ہے، نقشے بدلتے ہیں، مگر یادیں اگر محفوظ نہ کی جائیں تو تہذیب یتیم ہو جاتی ہے۔ یہ سطور اُن چراغوں کی لو ہیں جو خاموشی سے جلتے رہے، راستہ دکھاتے رہے اور آج بھی ہماری شناخت کا حوالہ ہیں۔

یہ مٹی گواہ ہے پسینے کی خوشبو کی
ہر سانس میں کہانی ہے اپنے ہی جادو کی

کھیتوں کی ہری چادر، مسجد کی سادہ اذان
یہی پہچان بنی ہے لاوہ کی روایت کی

وقت نے بدلے ہیں رستے، نام اور سب نشاں
دل میں اب تک ہے دھڑکن اسی رنگ کی

جو لوگ گزر گئے، وہ خواب چھوڑ گئے
ہم نے سنبھال رکھی ہے امانت اُن کی

یہ سوال اب ٹالنے کے قابل نہیں رہا کہ آخر لاوہ کب تک تاریخ کے سہارے جیتا رہے گا اور حال کی محرومیوں کو اوڑھے بیٹھا رہے گا؟ ضلع تلہ گنگ کی تحصیل بننے کے بعد بھی اگر لاوہ کے نصیب میں صاف پانی، معیاری تعلیم، فعال صحت مراکز، روزگار کے مواقع اور قابلِ استعمال سڑکیں نہیں آ سکیں تو یہ محض بدانتظامی نہیں بلکہ اجتماعی غفلت کا اعتراف ہے۔ جن خطوں کی محرومیوں پر ہم برسوں سے لکھتے آئے ہیں، تلہ گنگ، اٹک، میانوالی، بھکر، راجن پور اور ڈیرہ غازی خان، لاوہ آج اسی قطار میں کھڑا نظر آتا ہے، حالانکہ اس کی تاریخ، اس کے لوگ اور اس کی قربانیاں کہیں زیادہ کی متقاضی ہیں۔ یہ کالم اس خوش فہمی کو توڑنے کے لیے ہے کہ وقت خود سب کچھ ٹھیک کر دے گا، وقت تب بدلتا ہے جب اختیار رکھنے والے جاگتے ہیں۔ لاوہ خیرات نہیں، حق مانگ رہا ہے اور حق کو نظرانداز کرنا تاریخ کے سامنے سب سے بڑا جرم ہوتا ہے۔

Check Also

Doosron Ko Jeene Dein

By Komal Shahzadi