Kitab Tehzebon Ki Maa: Ghubar e Khatir (20)
کتاب تہذیبوں کی ماں: غبارِ خاطر (20)

برصغیر کی فکری تاریخ میں کچھ ایسے چراغ ہیں جن کی روشنی محض اپنے زمانے تک محدود نہیں رہتی بلکہ آنے والی نسلوں کے دل و دماغ کو بھی منور کرتی رہتی ہے۔ انہی چراغوں میں ایک درخشندہ نام مولانا ابو الکلام آزاد کا ہے، جنہوں نے قید و بند کی صعوبتوں کو بھی علم و ادب کی ایک ایسی بزم میں بدل دیا جہاں سے فکر و نظر کے چراغ ہمیشہ کے لیے روشن ہو گئے۔ احمد نگر جیل کی تنہائی میں لکھے گئے ان کے خطوط، جو بعد ازاں غبارِ خاطر کے نام سے مرتب ہوئے، محض خطوط نہیں بلکہ ایک ایسے ذہن کی سرگوشیاں ہیں جو جسمانی قید کے باوجود روحانی اور فکری آزادی کا استعارہ بن چکا تھا۔ عثمان علی ملکانہ کا یہ جملہ کہ کاش مولانا کی اسیری کی مدت اور طویل ہوتی تاکہ ہمیں مزید خطوط نصیب ہوتے، بظاہر ایک عجیب سی خواہش محسوس ہوتی ہے، مگر اس کے پس منظر میں ادب سے گہری محبت اور ان تحریروں کی تاثیر کا اعتراف پوشیدہ ہے۔
یہ ایک انوکھا تضاد ہے کہ انسان جس حالت کو اپنی زندگی کا سب سے مشکل اور کٹھن دور سمجھتا ہے، وہی حالت بعض اوقات اس کی تخلیقی قوتوں کے عروج کا باعث بن جاتی ہے۔ مولانا آزاد کی قید بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ وہ قید تنہائی میں تھے، ظاہری دنیا سے کٹے ہوئے، نہ کوئی مجلس، نہ کوئی ہم نشین، مگر اسی تنہائی میں ان کے اندر کا مکالمہ شدت اختیار کر گیا۔ ان کے خطوط میں جو سلاست، گہرائی اور وسعت نظر آتی ہے، وہ شاید عام حالات میں ممکن نہ ہوتی۔ یہ خطوط دراصل ایک ایسے شخص کی گفتگو ہیں جو اپنے آپ سے باتیں کر رہا ہے، کائنات کے اسرار پر غور کر رہا ہے، موسیقی، فلسفہ، مذہب اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کو ایک منفرد زاویے سے دیکھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غبار خاطر کو پڑھتے ہوئے قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی عام تحریر سے نہیں بلکہ ایک زندہ ذہن کے ساتھ براہِ راست ہم کلام ہے۔
عثمان علی ملکانہ کی حسرت دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ادب کی بعض تخلیقات ایسی ہوتی ہیں جن سے انسان کا دل کبھی سیر نہیں ہوتا۔ وہ چاہتا ہے کہ یہ سلسلہ یونہی جاری رہے، الفاظ کا یہ دریا کبھی خشک نہ ہو۔ مگر یہاں ایک سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا واقعی ہم کسی انسان کی قید کو طول دینے کی خواہش کر سکتے ہیں، صرف اس لیے کہ ہمیں اس کی تخلیقات زیادہ مل سکیں؟ یہ ایک اخلاقی اور انسانی تضاد ہے۔ ایک طرف ادب کی محبت ہے، دوسری طرف ایک انسان کی آزادی کی خواہش۔ مگر شاید ملکانہ صاحب کا مقصد یہ نہیں کہ وہ واقعی قید کو پسند کرتے تھے، بلکہ وہ اس کیفیت کی شدت کو بیان کرنا چاہتے تھے جو غبار خاطر پڑھتے ہوئے قاری پر طاری ہوتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان چاہتا ہے کہ یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہو، یہ گفتگو ہمیشہ جاری رہے۔
مولانا آزاد کی خطوط کا کمال یہ ہے کہ وہ قاری کو محض علم نہیں دیتے بلکہ اسے سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان کے خطوط میں جو فلسفیانہ گہرائی ہے، وہ قاری کے ذہن کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں، جواب دیتے ہیں، پھر ان جوابات کو بھی نئے سوالوں میں بدل دیتے ہیں۔ یہی فکری تسلسل ان کی تحریروں کو زندہ رکھتا ہے۔ احمد نگر جیل کی دیواریں ان کے جسم کو تو محدود کر سکتی تھیں، مگر ان کے خیالات کو نہیں۔ وہ اپنے خطوط میں کبھی ماضی کی یادوں میں کھو جاتے ہیں، کبھی موسیقی کے سحر میں گم ہو جاتے ہیں، کبھی مذہب کے اسرار پر گفتگو کرتے ہیں اور کبھی زندگی کے عام مگر اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ تنوع ہی غبار خاطر کو ایک لازوال تخلیق بناتا ہے۔
ادب کی تاریخ میں یہ کوئی نئی بات نہیں کہ قید و بند نے بڑے بڑے ادیبوں کو جنم دیا ہو یا ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشی ہو۔ مگر مولانا آزاد کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔ ان کی تحریروں میں نہ کوئی شکوہ ہے، نہ کوئی شکایت، نہ قید کی تلخی کا ذکر۔ بلکہ ایک عجیب سی طمانیت اور سکون ہے، جیسے وہ اس قید کو بھی ایک نعمت سمجھ رہے ہوں۔ یہی رویہ انہیں عام انسانوں سے ممتاز کرتا ہے۔ وہ حالات کے غلام نہیں بنتے بلکہ حالات کو اپنے تابع کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خطوط میں ایک ایسی روحانی بالیدگی نظر آتی ہے جو قاری کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے۔
آخر میں، عثمان علی ملکانہ کی اس حسرت کو ہم ایک ادبی استعارہ سمجھ سکتے ہیں، ایک ایسی خواہش جو دراصل محبت اور عقیدت کا اظہار ہے۔ غبار خاطر جیسی کتابیں بار بار نہیں لکھی جاتیں اور نہ ہی ابو الکلام آزاد جیسے لوگ بار بار پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی تحریریں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اصل آزادی انسان کے اندر ہوتی ہے اور اگر انسان کا ذہن آزاد ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے قید نہیں کر سکتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب ہم ان خطوط کو پڑھتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ محض ماضی کی داستان نہیں بلکہ ہمارے حال اور مستقبل کی بھی رہنمائی کر رہی ہیں۔ یہی ادب کا اصل کمال ہے اور یہی وہ کیفیت ہے جس نے عثمان علی ملکانہ جیسے قاری کے دل میں یہ حسرت پیدا کی کہ کاش یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہوتا۔

