Sunday, 08 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Jab Qalam Asar Dikhane Lage

Jab Qalam Asar Dikhane Lage

جب قلم اثر دکھانے لگے

کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قلم محض سیاہی نہیں اگلتا، وہ دلوں کی دستک بھی بن جاتا ہے۔ جب لفظ نیت کے سہارے لکھے جائیں، جب جملے انا کے بجائے احساس سے جنم لیں اور جب تحریر کا مقصد داد نہیں بلکہ درد کی ترجمانی ہو تو پھر اللہ اس قلم میں اثر ڈال دیتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری یہ مسلسل تحریری کاوش، یہ کالموں کی سیریز، محروم کانوں تک نہیں بلکہ ذمہ دار دلوں تک بھی پہنچنے لگی ہے۔ راجن پور جیسے دور افتادہ، محرومی کے عادی اور نظر انداز شدہ ضلع کے لیے حالیہ اعلانات اور عملی اقدامات اسی اثر کی ایک جھلک ہیں۔ ہم اس پر اللہ کے شکر گزار ہیں کہ اس نے توفیق دی، نیت کو خالص رکھا اور تحریر کو بارآور بنا دیا۔

راجن پور کی داستان نئی نہیں۔ یہ کہانی دہائیوں پر پھیلی ہوئی محرومی، نظراندازی اور وعدوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی امیدوں کی کہانی ہے۔ دریائے سندھ کے کنارے بسنے والا یہ خطہ وسائل کی کمی کا نہیں، توجہ کی کمی کا شکار رہا ہے۔ یہاں کے لوگ بھی وہی خواب دیکھتے ہیں جو لاہور، گوجرانوالہ یا فیصل آباد کے باسی دیکھتے ہیں، مگر ان خوابوں کی تعبیر ہمیشہ فائلوں میں دفن رہی۔ حالیہ دنوں میں اگر راجن پور کے لیے ترقیاتی پیکجز، سڑکوں، بسوں، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کی بات ہوئی ہے تو یہ محض ایک ضلع کی خبر نہیں، یہ اس سوچ میں دراڑ ہے جو پنجاب کو مرکز اور حاشیوں میں تقسیم کرتی رہی ہے۔ یہ اس امر کا اعتراف ہے کہ محرومی جغرافیہ نہیں دیکھتی اور ترقی کسی ایک شہر کی جاگیر نہیں ہو سکتی۔

دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ پھیلا ہوا یہ پورا خطہ، تلہ گنگ، اٹک، میانوالی، بھکر، راجن پور اور ڈیرہ غازی خان، قدرتی حسن، وسائل اور محنتی انسانوں سے مالا مال ہے، مگر ترقی کی شاہراہیں ان بستیوں کو ہمیشہ کراس کرکے آگے نکل جاتی رہی ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس قطار میں کچھ اضلاع کی باری آنا شروع ہوگئی ہے۔ بھکر اور راجن پور کی طرف بڑھتے قدم اس بات کی علامت ہیں کہ شاید اب ترجیحات کا زاویہ بدل رہا ہے۔ ہم وزیراعلیٰ پنجاب کے شکر گزار ہیں کہ کم از کم کچھ محروم نام اب ایجنڈے پر تو آئے۔ یہ شروعات ہے، مکمل انصاف نہیں، مگر اندھیرے میں دیا جلنے کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔

تاہم سچ یہ بھی ہے کہ اس پوری پٹی میں اگر آج بھی ترقیاتی محرومی اور حق تلفی کی علامت کے طور پر کسی دو اضلاع کا نام لیا جائے تو تلہ گنگ اور اٹک سرفہرست ہوں گے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں ترقی کا ایک ذرہ بھی مشکل سے پہنچا ہے۔ نہ صنعت، نہ سڑک، نہ سکول، نہ کالج، نہ اعلیٰ تعلیم کے مواقع، نہ صحت کا معیاری ڈھانچہ، نہ روزگار کے دروازے۔ یہ اضلاع ہمیشہ "بعد میں دیکھیں گے" کی فہرست میں رہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم ناامید نہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر آواز مسلسل، مہذب اور دلیل کے ساتھ اٹھتی رہے تو آخرکار سنی جاتی ہے۔ اگرچہ ممکن ہے کہ ان کی باری سب سے آخر میں آئے، مگر کوئی بات نہیں، کسی کو تو ترجیحات کی آخری سیڑھی پر کھڑا ہو کر بھی انتظار کرنا ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سیڑھی سے گرا نہ دیا جائے۔

تلہ گنگ اور اٹک آج بھی وزیراعلیٰ پنجاب کی منتظر نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ منتظر ہیں کہ ترقی کا یہ تحفہ، جو کچھ اضلاع تک پہنچ چکا ہے، کبھی ان کے دروازے پر بھی دستک دے۔ یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ یہ علاقے بھی پنجاب ہیں۔ یہاں بھی اشرف المخلوقات بستے ہیں۔ یہاں کے بچوں کے بھی وہی خواب ہیں، ماں باپ کی بھی وہی خواہشات ہیں، نوجوانوں کی بھی وہی امنگیں ہیں اور بزرگوں کی بھی وہی ضروریات ہیں جو صوبے کے ترقی یافتہ اضلاع میں رہنے والوں کی ہیں۔ حق تلفی جب حد سے بڑھ جائے تو خاموشی گناہ بن جاتی ہے اور قلم اگر اس وقت بھی خاموش رہے تو اس کی حرمت پر سوال اٹھتا ہے۔

اللہ کا شکر ہے کہ آج ہمارا قلم خاموش نہیں رہا۔ ہماری تحریریں محض اخبار کی زینت نہیں بن رہیں، وہ لوگوں کی محرومیوں کی آواز بن رہی ہیں۔ یہ کالم کسی ایک حکومت، ایک شخصیت یا ایک منصوبے کے حق میں یا خلاف نہیں، یہ اصول کے حق میں ہیں۔ یہ اس سوچ کے خلاف ہے جو شہری و دیہی، مرکز و کنارے، طاقتور و کمزور میں تفریق کرتی ہے۔ اگر ہماری تحریر کسی محروم ضلع کے لیے ایک اسکول، ایک سڑک، ایک بس، ایک اسپتال یا ایک امید کا چراغ بن سکے تو اس سے بڑی کامیابی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اثر اللہ دیتا ہے، ہم تو صرف وسیلہ ہیں اور اسی پر شکر بھی، اسی پر توکل بھی۔

کچھ تحریریں شور نہیں کرتیں، مگر دیواروں میں دراڑ ڈال دیتی ہیں۔ جب لفظ نیت کے ساتھ چلیں تو وہ راستہ بنا لیتے ہیں اور محرومی آخرکار راستہ چھوڑ دیتی ہے۔

ہم نے لکھا تو فقط درد کی ترجمانی کی
لفظ نے خود ہی سفر اہلِ ایوان تک کیا

جو حاشیوں پہ تھے برسوں سے نظر سے اوجھل
وقت نے ان کو بھی آخر دراز مرکز تک کیا

ہم تو وسیلہ تھے، اثر دینا تھا رب کو
قلم نے شکر میں سر پھر اسی در تک کیا

Check Also

Muaqaf Apni Jagha Tijarat Apni Jagha

By Wusat Ullah Khan