I Would Like My Enemy To Die For His Country
آئی وڈ لائک مائی اینیمی ٹو ڈائی فار ہز کنٹری

یہ جملہ بظاہر ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ادا ہوتا ہے، مگر اپنے اندر ایک پوری جنگی اخلاقیات، نفسیات اور قومی فکر سمیٹے ہوئے ہے: "I would like to die for my country but first I would like my enemy to die for his country. " یہ کسی خونخوار خواہش کا اعلان نہیں، بلکہ جنگ کی منطق کو انسانی عقل کے آئینے میں دیکھنے کی ایک بے رحم مگر سچی کوشش ہے۔ اس میں جذبۂ شہادت کی تقدیس بھی ہے اور زندگی کی قیمت کا شعور بھی۔ یہ وہ زاویۂ نظر ہے جو رومانیت کی دھند سے نکل کر حقیقت کے روشن مگر سخت میدان میں کھڑا ہوتا ہے۔ جنگ میں مرنا اگرچہ عظیم مقصد کے لیے ہو سکتا ہے، مگر جنگ جیتنا اور شاندار زندگی جینا اس سے بھی بڑا فرض ہے اور جنگ جیتنے کے لیے محض جان دینے کا شوق ہی کافی نہیں، دشمن کو اپنے فیصلوں کی قیمت چکوانا بھی ضروری ہوتا ہے۔
اس جملے کا اردو قالب اگر ہم یوں ڈھالیں تو مفہوم پوری آب و تاب سے سامنے آتا ہے: "میں اپنے وطن کے لیے جان دینے کو تیار ہوں، مگر اس سے پہلے چاہتا ہوں کہ میرا دشمن اپنے وطن کے لیے جان دے"۔ یہاں "چاہتا ہوں" میں ذاتی خواہش نہیں، پیشہ ورانہ ذمہ داری کی کاٹ ہے۔ یہ وہی فرق ہے جو خودکشی اور شہادت، اندھی جرات اور شعوری بہادری اور جذباتی نعرے اور عسکری حکمت کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک پیشہ ور سپاہی، خصوصاً ایک فائٹر پائلٹ، جانتا ہے کہ اُس کی پہلی ذمہ داری دشمن کی صلاحیت کو بے اثر کرنا ہے، نہ کہ اپنی جان کو غیر ضروری طور پر داؤ پر لگانا۔ یہی وہ عقل ہے جو قوموں کو جنگ میں زندہ رکھتی ہے اور دشمن کو فیصلے پر مجبور کرتی ہے۔
پاکستانی فضائیہ کی تاریخ میں ایسے کئی لمحے ہیں جہاں بہادری نے محض قربانی نہیں دی بلکہ نتیجہ بھی دیا۔ یہاں بہادری کا مطلب بے سوچا قدم نہیں، بلکہ تربیت، ضبط، فیصلہ سازی اور ٹھنڈے دماغ سے لی گئی جرات ہے۔ یہ جملہ اسی تربیت کا نچوڑ ہے۔ ایک پائلٹ جانتا ہے کہ وہ محض ایک فرد نہیں، ایک نظام، ایک جہاز، ایک مشن اور ایک قوم کی امیدوں کا امین ہے۔ اس کے لیے اپنی جان بچانا بزدلی نہیں، بلکہ مشن کی تکمیل ہے۔ دشمن کو "اپنے وطن کے لیے مرنے" پر مجبور کرنا دراصل اس کے جنگی عزم کو توڑنا ہے، اسے یہ باور کرانا ہے کہ جارحیت کی قیمت ہوتی ہے اور وہ قیمت یک طرفہ نہیں ہوتی۔
یہاں اخلاقیات کا سوال بھی اٹھتا ہے اور وہ سوال آسان نہیں۔ کیا یہ جملہ انسانی جان کی بے قدری سکھاتا ہے؟ نہیں، یہ جان کی قدر سکھاتا ہے، مگر اندھی نہیں، شعوری۔ جنگ میں اخلاقیات کا معیار امن کے معیار سے مختلف ہوتا ہے، مگر ختم نہیں ہو جاتا۔ ایک پیشہ ور سپاہی کی اخلاقیات یہ ہے کہ وہ غیر ضروری ہلاکت سے بچے، مگر جب فیصلہ کن لمحہ آئے تو تذبذب کا شکار نہ ہو۔ اس جملے میں یہی اخلاقی توازن ہے: اپنی جان عزیز ہے، مگر فرض اس سے عزیز تر ہے اور فرض کی تکمیل میں دشمن کی جارحیت کو ناکام بنانا لازم ہے۔ یہ نفرت کا اعلان نہیں، دفاع کا اعلان ہے اور دفاع، جب لازم ہو جائے، تو پوری قوت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
قومی بیانیے میں ایسے جملے محض نعرہ نہیں بنتے، آئینہ بنتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قومیں صرف جذبات سے نہیں، اداروں سے چلتی ہیں اور ادارے صرف قربانی سے نہیں، پیشہ ورانہ مہارت سے مضبوط ہوتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں وسائل محدود اور خطرات متنوع ہیں، یہ سوچ اور بھی قیمتی ہو جاتی ہے۔ ہمیں ایسے سپاہی چاہییں جو جان دینے کے لیے تیار ہوں، مگر جان بچا کر دشمن کو ناکام بنانے میں اس سے بھی زیادہ ماہر ہوں۔ یہی وہ سوچ ہے جو فضاؤں میں برتری دیتی ہے اور زمینی سیاست میں وقار۔
آخر میں، یہ جملہ ہمیں ایک تلخ مگر ضروری سچ سکھاتا ہے: امن کی خواہش کمزوری نہیں، مگر امن کی حفاظت طاقت کے بغیر ممکن نہیں۔ جو قوم اپنے محافظوں کو رومانوی خودسپردگی کے بجائے شعوری بہادری سکھاتی ہے، وہی دیرپا امن کی مستحق بنتی ہے۔ "میں اپنے وطن کے لیے جان دینے کو تیار ہوں، مگر اس سے پہلے چاہتا ہوں کہ میرا دشمن اپنے وطن کے لیے جان دے"، یہ اعلان موت کا نہیں، زندگی کا ہے، یہ جنگ کی خواہش نہیں، جنگ کے خاتمے کی حکمت ہے اور شاید اسی لیے یہ جملہ آج بھی فضاؤں میں گونجتا ہے، کیونکہ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل بہادری مرنے میں نہیں، جیتنے میں ہے۔
قومیں نعروں سے نہیں، شعور سے زندہ رہتی ہیں۔ جب دفاع جذبے کے ساتھ عقل اور مہارت کے سہارے کھڑا ہو جائے تو قربانی رائیگاں نہیں جاتی، وہ تاریخ بن جاتی ہے۔ یہی شعوری بہادری ریاستوں کو محفوظ اور قوموں کو باوقار رکھتی ہے۔
جان دینے کا ہنر سب کو سکھایا کس نے
جان بچا کر بھی وطن کو بچایا کس نے
حوصلہ جذبے سے آگے بھی کوئی شے ہے یہاں
جنگ میں عقل کا پرچم یہ اٹھایا کس نے
مرنے والوں سے نہیں بنتی فقط یہ تاریخ
فیصلہ کرکے عدو کو بھی ہروایا کس نے
ہم نے سینوں میں جلائے ہیں چراغِ احساس
یہ اندھی آگ کا موسم تھا، بجھایا کس نے

