1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Ali Durrani
  4. Imran Khan Daddy Se Naraz

Imran Khan Daddy Se Naraz

عمران خان ڈیڈی سے ناراض

اگر دیکھا جائے تو نو مئی کا دن پاکستان کے لیے نائن الیون سے کم نہیں تھا نو مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں نیب نے عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتار کیا تھا۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد ان کے کارکنان اپنے گھروں سے نکلے اور جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ شروع کیا۔ ملک بھر میں تحریک انصاف کے سپورٹرز نے سرکاری اور غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، عام شہریوں کے گاڑیوں کو جلایا، بازاروں کو بند کیا، لاہور کور کمانڈر ہاؤس میں داخل ہوئے اور وہاں پر توڑ پھوڑ کی اور بہت سے قیمتی اشیاء کو نقصان پہنچایا۔

اس طرح پشاور میں ریڈیو پاکستان پر حملہ کیا اور قلعہ بالا حصار کی گیٹ سامنے فائرنگ کی حتیٰ کہ شہید فوجی جوانوں کے مجسموں کو نہیں چھوڑا لیکن ان سب کے باوجود پاک فوج نے مظاہرین پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا نہ اس کو ڈنڈوں سے مارا اور نہ فائرنگ کی حتیٰ کہ ہوائی فائرنگ تک نہیں کی اور اس وقت پاک فوج نے بہت تحمل سے سب کچھ سنبھالا۔ مظاہرین میں کسی کو نہیں مارا البتہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دوران پرتشدد احتجاج مظاہرین کو پکڑنے کی کوشش کی اور بہت سے لوگوں کو جیل بھی بھجوایا تھا لیکن تحریک انصاف کے سپورٹرز نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور بہت سے اہلکاروں کو زخمی کیا۔

لیکن یہ سب کچھ ایسے اچانک نہیں ہوا تھا بلکہ باقاعدہ ایک خاص منصوبے کے تحت ہوا تھا۔ یہ منصوبہ کس نے بنایا تھا؟ کب اور کیوں بنایا تھا؟ یہ منصوبہ جناب عمران خان کے بیک بوائز نے بنایا تھا اور انہوں نے اس لیے بنایا کہ گرفتاری سے پہلے عمران خان کالا ٹوپ پہن کے عدالت جاتا تھا بہت سے سیکورٹی اہلکار اس سے آگے اور کچھ پیچھے ہوتے اس لیے کیونکہ عمران خان کو ڈر تھا کہ کوئی مجھ پر حملہ نہ کر دے اس لیے وہ ٹوپ پہن کر جاتا۔

اس سے عمران خان کی پاپولرٹی دن بدن کم ہوتی تھی کیونکہ ظاہری سی بات ہے جو لوگ ٹی وی پر یہ حالات دیکھتے تھے کہ یہ وہی بندہ ہے جو کہتا تھا کہ میں کسی سے نہیں ڈرتا آج اس کا یہ حال ہے تو پاپولرٹی بڑھانے کے لیے عمران خان کے سرکاری بیک بوائز نے ایک ایسا منصوبہ بنایا کہ یہ گراف اوپر جاۓ۔ جس دن عمران خان کو گرفتار کیا اس دن آرمی چیف جنرل عاصم منیر صاحب ملک میں نہیں تھے وہ کسی دورے پر باہر ملک گئے تھے۔

عمران خان کے بیک بوائز جو کہ اصل میں اعلیٰ فوجی عہدوں پر فائز ہیں انہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ عاصم منیر صاحب جب ملک سے باہر جاۓ تو ہم اس دوران عمران خان کو گرفتار کرینگے اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ عمران خان کا گراف اوپر جاۓ گا۔ دوسرا پوائنٹ اس منصوبے کا یہ تھا ان بیک بوائز نے آپس میں طے کیا تھا اور تحریک انصاف کے قریبی لوگوں کو کہا تھا کہ جس وقت عمران گرفتار ہو جاۓ اس وقت آپ نے تمام سپورٹرز کو یہ پیغام پہنچانا ہے کہ گھروں سے باہر نکلو اور جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ شروع کرو۔

یہ بیک بوائز جو کہ فوجی ادارے کے اندر کام کرتے ہیں اور اعلٰی ترین عہدوں یعنی کرنل، جرنل، برگیڈیئر وغیرہ پر فائز ہیں ان کا یہ خیال تھا کہ گرفتاری کے بعد عوام نکلے گی اور پاک فوج کے خلاف نعرے لگائے گی اور یہ بیک بوائز چاہتے تھے کہ لوگ گھروں سے نکلیں اور توڑ پھوڑ کریں اور کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کریں۔ اصل میں یہ تمام گروپ جنہوں نے یہ منصوبہ بنایا تھا یہ سب آرمی چیف کے خلاف ہے اور انہوں نے فوج کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے مطلب تقسیم اس گروہ نے پیدا کی ہے۔

اس گروپ کا خیال تھا کہ جب عوام پاک فوج کو نقصان پہنچائیں گے اور فوجی مقامات یا جگہوں پر حملے کرینگے تو بدلے میں فوجی جوان ان لوگوں پر فائرنگ کرینگے اور اس سے ملک میں بدامنی پیدا ہوگی اور انٹرنیشنل سطح پر لوگ پاک فوج کے خلاف باتیں کرینگے اور انٹرنیشنل میڈیا پاک فوج کی غلط تصویر دیکھائے گا اور اس طرح پاک فوج بدنام ہوگی۔ اس دوران عمران خان کا گراف اوپر اور فوج کا نیچے جاۓ گا۔

اس کے علاوہ اس فوجی گروہ نے یہ منصوبہ بھی بنایا تھا کہ اس سب توڑ پھوڑ اور فوجی ردعمل کے بعد ہم عاصم منیر صاحب کو سامنے سے ہٹانے کی کوشش کرینگے اور جب وہ ہٹے گا تو عمران خان بطور کورٹ مارشل ملک پر قبضہ کریگا اور پی ڈی ایم کو ختم کریگا لیکن گرفتاری سے قبل اس سارے منصوبے کا حال احوال کسی نے پاکستان کے ایک کور کمانڈر کو بتایا تھا اور انہوں نے کچھ اعلیٰ فوجی قیادت کے ساتھ مل کر اس سارے پلان یعنی منصوبے کو ناکام بنا دیا۔

اس کے بعد عاصم منیر صاحب نے آٹھ فوجی کرنلز کو بھی نوکری سے نکلوایا، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نکلوایا نہیں بلکہ انہوں نے خود استعفیٰ دیا تھا لیکن اصل میں ان آٹھ فوجی کرنل کو نوکری سے برخواست کیا۔ اس کے علاوہ دوسری بڑی خبر یہ ہے کہ کچھ روز قبل معروف کاروباری شخصیت عقیل کریم ڈھیڈی نے عمران خان سے ملاقات کی۔ عقیل کریم ڈھیڈی صاحب ایک بزنس مین ہے اور نہایت اچھے انسان ہیں۔

وہ فوج کے اعلیٰ افسران کے ساتھ بھی ملاقات کرتا ہے اور بڑے سیاستدانوں کے ساتھ بھی وہ کسی سیاسی جماعت کا بندہ نہیں بلکہ اس لیے وہ ان کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور ان سے ملاقات کرتا ہے دراصل وہ چاہتا ہے کہ یہ ملک ترقی کرے تو عمران خان نے عقیل کریم ڈھیڈی سے ملاقات کی اور ان کو کہا کہ آپ ایسا کریں کہ جرنل عاصم منیر صاحب کو کہیں کہ وہ مجھے اجازت دے تاکہ میں باہر ملک جاؤں۔

انہوں نے ڈھیڈی کو یہ کہا کہ میں باہر ملک جانا چاہتا ہوں تو آپ یہ بات عاصم منیر صاحب کو بتاؤ، ڈھیڈی صاحب نے کہا ٹھیک ہے میں آرمی چیف سے بات کرونگا اس کے بعد ڈھیڈی نے آرمی چیف سے بات کی تو عاصم منیر صاحب نے کہا کہ عمران کو کہہ دو کہ اگر وہ باہر ملک جاتے ہیں تو میری کچھ شرائط ہیں وہ پورا کرے پھر باہر جاۓ۔ پہلی شرط یہ ہے کہ عمران خان مجھے گارنٹی دیگا کہ وہ استعفیٰ دے گا اور اس کے بعد وہ صرف سعودی عرب جاۓ گا اور سعودی عرب سے کسی دوسرے ملک نہیں جاۓ گا بلکہ میں سعودی بادشاہ کو کہونگا کہ جب عمران خان پہنچے تو ان سے پاسپورٹ لو اور اپنے پاس رکھو تاکہ یہ کسی دوسرے ملک نہیں جاۓ۔

عقیل کریم ڈھیڈی نے یہ سب کچھ عمران خان کو بتایا اور کہا کہ میرا اپنا جہاز بھی ہے اگر تمیں یہ منظور ہے تو بیٹھ جاؤ جہاز میں۔ عمران خان نے کہا میں سعودی عرب نہیں جاتا بلکہ میں امریکہ یا برطانیہ جانا چاہتا ہوں اور رہی بات گارنٹی یا ضمانت کی تو میں اپنی بیوی بشریٰ عرف فیرنی بطور ضمانت دیتا ہوں۔ عقیل ڈھیڈی نے دوبارہ جا کے عاصم منیر صاحب کو بتایا کہ عمران خان نے یہ کہا تو اس کے بعد عاصم منیر صاحب نے مسکرا کے جواب دیا کہ مجھے تو کھانے میں بھی فیرنی پسند نہیں ہے۔

Check Also

Cyber Crime Ka Naya Idara Kya Naya Hoga?

By Raza Ali Khan