Friday, 16 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ashfaq Inayat Kahlon
  4. Yulia Ki Neend (1)

Yulia Ki Neend (1)

یولیا کی نیند (1)

بولیووڈ نائٹ کلب سے نکلتے رات کے تین بج چکے تھے، رات گذارنے کیلئے ہم کسی قریبی ہوٹل کا رخ کرنا چاہتے تھے لیکن خرم چوہدری برہم ہوا "میرے ہوتے دوست اگر ہوٹل میں رات گذاریں تو میرے لئے باعث شرمندگی ہے، ہمارا سیمی پلاٹنسک والا ٹولا علی سہیل کی گاڑی میں سوار ہوا، خرم چوہدری بھی ہمارے ہمراہ تھا، جبکہ سرگئی اپنی گاڑی میں باقیوں کو ڈراپ کرنے چلا گیا، خرم رہنمائی کرتا رہا، سیمی پلاٹنسک کے مقابلے میں است کامن گورد کہیں بڑا، روشن اور زیادہ دلکش محسوس ہوا، ہر موڑ پر ترقی کی داستان نظر آتی تھی، گاری ایک بڑی بلڈنگ کی پارکنگ لاٹ میں جا رکی، ہم سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، چہروں پر تجسس اور ہلکی سی شرارت بھری مسکراہٹیں تھیں، سیڑھیاں چڑھتے ہوئے قدموں میں جوش تھا جیسے تیسری منزل پر کوئی راز منتظر ہو۔

خرم نے دروازے کے سامنے رکھے پاانداز کو اٹھایا، چابی تلاش کی، نہ ملی، بہتیرا تلاش کیا لیکن بے سود، آوازیں سن کر خرم کا ہمسایہ آنکھوں میں نیند کی جھلک لئے باہر نکلا، خرم نے اسے چابی کی گمشدگی کا بتایا اور ایک فون کرنے کی اجازت مانگی، ہمسائے نے خوش دلی سے اجازت دی، دو منٹ بعد خرم واپس آیا اور بولا "سرگئی کے فلیٹ پر چلتے ہیں، چابی کا جگاڑ کل صبح کریں گے"۔

سرگئی کا فلیٹ قریب ہی تھا، شوخ و چنچل مسکراہٹ کا پیکر یولیا نے دروازے پر ہمارا استقبال کیا، "شیطانوں کا ٹولا پھر سے آگیا ہے"۔ فلیٹ سادہ تھا، سنگل روم، چھوٹا کچن اور کشادہ ہال میں ایک طرف بستر پر سرگئی گہری نیند میں تھا، ہماری آوازوں نے اسے جگا دیا، وہ نیم باز آنکھوں سے مسکراتے ہوئے چادر اوڑھ کر پھر خوابوں کی دنیا میں لوٹ گیا، یولیا نے مہارت وسرعت سے فرش پر میٹرس بچھا دیے، اسی کو غنیمت سمجھ کر ہم چاروں بے ترتیب آڑھے ترچھے انداز میں دراز ہوگئے، جبکہ خرم بستر پر چلا گیا، گرچہ کمرا چھوٹا لیکن ماحول میں ایک سرور سا تھا، جیسے بے تکلفی اور شرارت کی خوشبو ہر کونے میں رچی بسی ہو، یولیا بتیاں بجھا کر سرگئی کے پہلو میں جا لیٹی، کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

جیسے ہی علی سہیل کی نیند گہری ہوئی، اس کے خراٹے اتنے زور دار ہوئے کہ یولیا نیند میں کسمسا کر جاگ گئی، اس نے آنکھیں کھولیں، ناک چڑھائی، چند لمحے جاگتی رہی، پھر بستر سے نیچے اتری، علی سہیل کے ناک کو چٹکی میں دبایا تو وہ حیرت اور نیند کی ملی جلی کیفیت میں اٹھ گیا، یولیا کی مترنم ہنسی کمرے میں گونجی۔

افتی نے مصنوعی غصے سے علی سہیل کو ایک لات رسید کی، "گینڈے! خراٹے بند کر، دوسروں کو بھی سونے دے!" ہم نے دوبارہ سونے کی کوشش کی، کروٹیں بدلتے رہے لیکن نیند روٹھ چکی تھی، یولیا جمائیاں لیتی بستر کے کنارے بیٹھ گئی، سرگئی نے آواز دی، "یولیا، میرے پاس آ جاؤ، مجھے نیند نہیں آ رہی"۔

رانا کاشف نے پوچھا، "کیا یہ تمہاری گرل فرینڈ ہے؟"

سرگئی کی بجائے یولیا نے شوخ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، "نہیں، ہم صرف اچھے دوست ہیں"۔

افتی نے چھیڑا، "پھر تم ایش کے ساتھ بھی دوستی بنا سکتی ہو"۔

یولیا نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ترکی بہ ترکی جواب دیا، "برے نصیب! اچھا ہوتا اگر ایش اس سنہرے بالوں والی ایوانا کے ساتھ چلا جاتا، کم از کم اچھا بستر تو ملتا"۔

کمرے میں قہقہوں کی گونج سنائی دی، ہر کوئی ہنسی سے دوہرا ہو رہا تھا، میں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے چھیڑا، "مجھے نیند نہیں آ رہی"۔ یولیا نے مصنوعی غصے کا مظاہرہ کرتے ہوئے میرے سر پر ہلکی سی چپت لگائی "میں تمہاری دادی اماں نہیں جو تمہیں گود میں لے کر لوری سناؤں، چپ کرکے سو جاؤ"۔

اس کی شرارتی اداؤں اور باتوں نے ماحول کر مزید خوشگوار بنا دیا، کمرے کی فضا میں شرارت کی خوشبو گہری ہوتی جا رہی تھی، سوگئی نے چادر کی اوٹ سے پکارا "یولیا کسی ایک کے ساتھ لیٹ جاؤ"۔ سرگئی کی آواز صحرا میں پیر کامل کی صدا ثابت ہوئی، ہم سب نے بیک وقت ملتجائی و للچائی نظروں سے یولیا کی طرف دیکھا، یولیا نے ہم "مشٹنڈوں" کی نیت بھانپ لی تھی، فوراً محتاط ہو کر بولی "یہ چار اور میں ایک، ایک تو ابھی ابھی نسوانی خوشبو سونگھ کر آیا ہے، نہ میری توبہ، میں یہ رسک نہیں لے سکتی"۔ یہ جملہ وہ بم تھا جس نے پورے کمرے کو کشت زعفران بنا دیا۔

ہم چاروں نے سر جوڑ کر آپس میں پنجابی زبان میں مشورہ کیا، طے پایا کہ "رات تقریباً گزر چکی ہے، اب سونے کا فائدہ نہیں، تھوڑی دیر بعد دکانیں کھل جائیں گی، تب ناشتہ کرکے سوئیں گے، فی الحال یولیا کو تنگ کرتے ہیں لیکن ایک حد تک"۔

میں نے سرگوشی کے انداز میں سرگئی سے پوچھا "اگر یولیا راضی ہے تو تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں؟"

سرگئی کروٹ بدلتے بولا "یولیا کی اپنی مرضی ہے" اور چادر درست کرکے لمبی تان کر سو گیا، یہ ایسا منظر نامہ تھا جیسے مصروف باس نے فائل پر "سین اینڈ اپرووڈ" کی مہر لگا کر بدمعاشی کی کھلی چھٹی دیدی۔

میں نے رخ بدل کر یولیا کو چھیڑا "یولیا، ہم میں سے تمہیں کون پسند ہے؟"

یولیا نے غصے سے آنکھیں سکیڑ کر گھورا اور بولا "تم لوگوں کی نیت ٹھیک نہیں لگتی"۔

افتی نے فلمسٹار ساون کی مانند قہقہہ لگا کر مزید ڈرایا، "نیت تو تمہیں پہلی مرتبہ دیکھ کر ہی خراب ہوگئی تھی لیکن سرگئی اور خرم چوہدری کا لحاظ مانع تھا"۔

علی سہیل اسے آنکھ مارتے ہوئے بولا "تم جتنی خوبصورت ہو، کسی کی نیت خراب ہوتے دیر نہیں لگتی"۔ وہ زور دار قہقہہ برآمد ہوا کہ الامان الحفیظ، یولیا پریشانی سے اٹھی اور کچن کی طرف لپکی۔

میں نے حیران ہو کر پوچھا "یولیا کہاں بھاگ رہی ہو؟"

وہ سلاد کاٹنے والی چھری ہاتھ میں پکڑے دروازے پر نمودار ہوئی، یہ منظر کسی فلمی تھرلر سے کم نہ تھا، چہرے پر چھائی سختی اور آنکھوں میں شدید غصہ لئے چھری ہوا میں لہراتے بولی "خبردار اگر کسی نے مجھے چھونے کی کوشش کی، تمہاری آنتیں نکال دوں گی"۔

ہم سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور مشترکہ بلند وبالا قہقہہ لگایا، ہنسی پر قابو پانے کی کوشش کرتے افتی نے وضاحت پیش کی، "یولیا، تم خواہ مخواہ سنجیدہ ہوگئی ہو"۔

ہنوز یولیا پر کوئی اثر نہ ہوا، وہ چھری والا ہاتھ آگے بڑھاتے بولی، "خبردار، اگر میرے قریب آنے کی کوشش کی، ورنہ شور مچا کر پولیس کو بلاؤں گی"۔

علی سہیل نے اسے مزید طیش دلایا "چھری سے زیادہ تمہارے غصہ جان لیوا ہے"۔ ہم چاروں نے پھر بھرپور قہقہہ لگایا، ہاہاہاہا۔

خرم چوہدری نے چادر سر سے کھسکاتے ہوئے جلتی پر تیل ڈالا "یولیا، دھیان رکھنا! چھری کا وار زیادہ گہرا نہ ہو، یہ مہمان ہیں"۔

غصے سے لہراتی یولیا اس سے مخاطب ہوئی، "مجھے تم سب کی نیت ٹھیک نہیں لگتی"۔

میں اداکاری کرتے ہوئے امریش پوری جیسے گھمبیر سنجیدہ لہجے میں بولا "سوچ لو یولیا، ہم چار ہیں اور تم ایک، باہر اندھیری رات ہے، اب بتاؤ کیا کرو گی؟" ہم سب کا ایک بار پھر زور دار قہقہہ چھت سے ٹکرایا، ہاہاہاہا، یولیا نے آنکھیں گھما کر میری طرف دیکھا، خرم کے بولنے سے سارا پلان چوپٹ ہو چکا تھا، یولیا کے تیور غصیلے تھے "اوہ، اب سمجھی! یہ سب تمہارا پلان ہے، تم سب ملے ہوئے ہو"۔

Check Also

Tasaveer Ki Ghair Zaroori Behas Se Aage Ki Sochen

By Abid Mehmood Azaam