Monday, 23 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ashfaq Inayat Kahlon
  4. Mushtarka Kitchen

Mushtarka Kitchen

مشترکہ کچن

ہم میں سے کوئی بھی کھانا پکانے کا ہنر سیکھ کر نہیں آیا تھا، سب کے سب گھر کے لاڈلے، جنہیں باورچی خانے میں جانے کی اجازت کم اور پلیٹ میں کھانا آنے کا حق زیادہ ملا تھا، مگر پردیس آ کر قسمت نے ہمیں ایک مشترکہ میس کے فلسفے سے آشنا کیا، یوں دس لڑکوں کا عظیم الشان اتحاد وجود میں آیا، جس کے ممبران تھے: حافظ سید افتخار الحق بخاری، سید عامر بلا نقوی، مدنی، فیصل شاہ، غلام مصطفے موٹا (نام ہی آدھا وزن پورا کر دیتا تھا)، کامران، علی سہیل، رانا کاشف اور میں بذات خود، ہمارے کمرے کے عین سامنے حافظ افتخار والا کمرہ بطور کچن منتخب ہوا، شاید اس لیے کہ باقی سب کو جلنے سے بچایا جا سکے، باقاعدہ ڈیوٹیاں لگیں: فلاں سبزی کاٹے گا، فلاں برتن دھوئے گا، فلاں چاول اور فلاں کھانا پکائے گا، ایک کمرہ مشترکہ سٹڈی روم بنا، جہاں پڑھائی کم اور دانشورانہ بحثیں زیادہ ہوتیں، جبکہ دو کمرے سونے کے لیے مخصوص ہوئے، سونے کے لیے، جاگنے کے لیے نہیں۔

سب نے بیس بیس ڈالر جمع کروائے اور پھر زیلونی بازار پر دھاوا بولا جیسے مہینوں کا راشن ایک ہی دن میں ختم کرنا ہو، وافر سامان خریدا گیا، مقامی تیار شدہ سوفٹ ڈرنکس فیملی سائز میں آئیں اور مدنی کے لیے خصوصی انتظام ہوا: فانٹا کے دو کریٹ کیونکہ یہ اس کا پسندیدہ مشروب تھا اور پسندیدہ چیز پر سمجھوتہ قومیں نہیں کیا کرتیں، یوں ہمارا میس وجود میں آیا: تجربہ گاہ، قہقہوں کی فیکٹری اور دوستی کی درسگاہ، جہاں کھانا کبھی کم پڑتا، کبھی جل جاتا، مگر ہنسی ہمیشہ وافر رہتی۔

پہلے دن سب میں ایسا جوش تھا جیسے کُکنگ شو کے فائنل میں آ گئے ہوں، کوئی پیاز چھیل رہا، کوئی مصالحے صاف کر رہا، کوئی مرغی کے ٹکڑے دھو دھا کر ایسے رکھ رہا تھا جیسے سرجن آپریشن سے پہلے آلات سجا رہا ہو اور کوئی آٹا گوندھ رہا تھا، حالانکہ اسے خود بھی یقین نہیں تھا کہ آگے اس آٹے کا بنے گا کیا، اجزائے ترکیبی تیار ہوئے تو سب سے نازک مرحلہ آیا: پیاز لال کرنا، مسئلہ یہ تھا کہ ہم میں سے کسی نے زندگی میں کچھ پکایا ہی نہیں تھا، نتیجہ پیاز لال ہونے کے بجائے سیاہ فام ہو گئے، کچن میں سناٹا چھا گیا، بھوک اپنے عروج پر تھی اور پیاز شہید ہو چکے تھے، اب واحد حل یہی تھا کہ نئے سرے سے پیاز کاٹے جائیں، دوبارہ پیاز کاٹے گئے اور اس بار کڑاہی کے اوپر باقاعدہ پہرہ لگا دیا گیا، آنکھیں کڑاہی پر، دل دعا پر، حالات کچھ سنبھلے تو ہوسٹل کی کنٹین سے دو ڈبے دہی لا کر ڈالے گئے، بڑی مشکل سے کھانا پک کر تیار ہوا تو ایک اور انکشاف ہوا کہ روٹی لائے ہی نہیں!

فوراً بھاگم بھاگ ایک صاحب کو بھیجا گیا، جو مقامی روسی خلیب اٹھا لایا، سب کا پارہ ہائی ہوگیا، روسی خلیب اتنی سخت کہ دانتوں سے توڑنا تو درکنار، نیت بھی کمزور پڑ جائے، مگر بھوک کے آگے سب اصول بے کار ہوتے ہیں، پرانا آزمودہ نسخہ اپنایا گیا، جیسے تیسے پیٹ پوجا کی، آخر میں سب نے سوفٹ ڈرنکس کے دو دو گلاس پیے، فاتحانہ ڈکار لی اور سٹڈی روم کا رخ کیا جہاں پڑھائی کم اور آج کے کارنامے پر تبصرے زیادہ ہونے تھے، پہلا دن تھا، کھانا اوسط درجے کا، مگر مزہ پورا سو فیصد تھا۔

سٹڈی روم میں داخل ہوتے ہی عجیب سنجیدگی طاری ہوگئی، سب نے کتابیں کھولیں، ایسے محوِ مطالعہ ہوئے جیسے ابھی ابھی عالمی امتحان کا اعلان ہوا ہو، چند منٹ خاموشی رہی، پھر اچانک علی سہیل کی درد بھری آواز گونجی: "جا مریں، جرابیں تبدیل کر! میرا ناک بند ہونے والا ہے!"

ابھی اس جملے کی بازگشت ختم نہ ہوئی تھی کہ دوسری طرف سے اعتراض آیا: "یہ پورا منہ کھول کر کون سانس لے رہا ہے؟ بیمار سانسوں کی بدبو آتی ہے!" ماحول پہلے ہی نازک تھا کہ اچانک کسی دہشت گرد نے انتہائی خطرناک خاموشی کے ساتھ گیس خارج کر دی! ایسی ناقابلِ برداشت بو پھیلی کہ علم، ادب اور مطالعہ تج کر سب ناک پر ہاتھ رکھے دُم دبا کر باہر کی طرف لپکے۔

اس ہنگامے میں مجھے شرارت سوجھی، میں فوراً اٹھا، دروازہ لاک کیا اور چابی منہ میں دبا لی، اگلے ہی لمحے علی سہیل موٹا مجھ پر ٹوٹ پڑا، مجھے نیچے لٹا کر میرے پیٹ پر بیٹھا اور مکے مار مار کر میرے منہ سے چابی برآمد کر لی، دروازہ کھلا تو گویا آزادی کا اعلان ہوگیا، سب کی ایسی دوڑ لگی کہ کوریڈور بھی حیران رہ گیا، کوئی پیچھے نہیں دیکھ رہا تھا، صرف تازہ ہوا کی تلاش میں تھے، اس دن ہمیں یہ سبق ملا کہ سٹڈی روم میں صرف کتابیں ہی نہیں، برداشت بھی کھول کر رکھنی چاہیے اور بعض اوقات خاموشی سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے!

شام کو کسی کام سے باہر نکلا تو سامنے ایک تاریخی منظر تھا، حافظ افتخار دروازہ کھولے کمرے میں جھاڑو دے رہا تھا، موڈ سخت آف تھا، استفسار پر معلوم ہوا کہ دن بھر کوئی کچن صاف کرنے کا روادار نہ ہوا تھا اور اب یہ عظیم خدمت اس کے حصے میں آگئی تھی، ہر جھاڑو کے ساتھ اس کی خاموش بددعائیں فضا میں تحلیل ہو رہی تھیں۔

شام کے کھانے کا وقت ہوا تو کچن میں مجمع لگ گیا، اس لمحے ناگہانی انکشاف ہوا کہ آٹا گوندھنے والے برتن میں غلام مصطفے نے پیاز کاٹے تھے اور چھلکے ویسے کے ویسے پڑے تھے جیسے اپنی جگہ پر احتجاجاً جم گئے ہوں، نتیجہ یہ نکلا کہ نئے سرے سے آٹا گوندھنے کا خیال وہیں دم توڑ گیا، بھوک نظریے سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئی، کڑاہی کا حال یہ تھا کہ کسی نے دن بھر اس کی شکل بھی نہیں دیکھی تھی، ویسے ہی پڑی تھی، جیسے پچھلی جنگ کے زخم ابھی تک سنبھالے بیٹھی ہو، مگر کیا کیا جائے، شام کا کھانا تو درکار تھا، چنانچہ جیسے تیسے کا اصول لاگو ہوا اور سب نے مشترکہ طور پر اپنی اپنی خدمات سرانجام دیں، کوئی پانی ڈال رہا تھا، کوئی چمچ ہلا رہا تھا اور کوئی مشورے دے رہا تھا جن پر عمل کسی نے نہیں کرنا تھا، آخرکار کھانا تیار ہوا، معیار پر بحث ہو سکتی تھی، صفائی پر نہیں، مگر ایک بات طے تھی: یہ صرف کھانا نہیں تھا، اجتماعی قربانی کا ثمر تھا، اس دن ہمیں سمجھ آیا کہ مشترکہ میس میں صرف پیسے نہیں، صبر، برداشت اور تھوڑی سی بے حسی بھی برابر ڈالنی پڑتی ہے تب جا کر گزارا ہوتا ہے۔

اگلے دن زیلونی بازار سے تازہ گوشت خریدا جو مٹن کی بجائے گھوڑے کا گوشت نکلا، سب دوستوں کا دل خوش، مزاج خوش اور توقع یہ کہ ذائقہ بھی خوشگوار ہوگا، کھانا پکاتے نمک کا اندازہ کیا، تھوڑا کم لگا، تبھی کسی نے بغیر سوچے سمجھے ثابت نمک کا ڈلا اٹھایا اور کڑاہی میں پھینک دیا، جب کھانا تیار ہوا اور چکھنے کے لئے زبان پر نمک لگا تو بس، چودہ طبق روشن ہوگئے، ہر ذائقہ ایک ہی وقت میں جگمگا اُٹھا! خوشی کے ساتھ ساتھ حیرت اور تھوڑی سی تشویش بھی، اب حل کیا جائے؟ ایک کیلو دہی شامل کیا گیا، امید یہی تھی کہ نمک کی شدت کم ہو جائے گی لیکن نہ بھلا! مزہ تو تقریباً وہی دماغ چیرنے والا رہا، پھر ایک سیانے کے مشورے پر گندھے ہوئے آٹے کا پیڑہ کڑاہی کے وسط میں رکھا، لیکن دِلی دور است۔

آدھی رات کے بعد کا وقت ہو چکا تھا اور ہم جیسے تیسے کھانا کھا کر تھک کر بیٹھ گئے، اگلے دن چکن کو ابالنے کا مشن! یہ ایک دلچسپ معاملہ تھا جو ہر لمحہ نئی مزاحیہ کہانی پیدا کر رہا تھا، کھانا تو پک گیا تھا لیکن سمجھ نہ آیا کہ یہ آخر کیا بن گیا ہے، ثناء اللہ نے بڑی شان کے ساتھ تین انڈے توڑ کر شوربے میں ڈال دیے اور بڑی مہارت سے اسے عربی کھانے کا نام دے دیا، سب کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں، لیکن ہنسی بھی چھپ نہ سکی، اگلے دن بعد انتظامیہ نے اعلان کر دیا کہ مشترکہ میس ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے، سامان سب نے آپس میں بانٹ لیا اور بقول شاعر:

"جاؤ اپنا اپنا پکاؤ اور اپنا اپنا کھاؤ!"

Check Also

Youm e Pakistan Se Difa e Pakistan Tak

By Shahid Nasim Chaudhry