Wednesday, 01 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ashfaq Inayat Kahlon
  4. Millenium Ki Raat

Millenium Ki Raat

ملینئم کی رات

سارا سیمی پلاٹنسک شہر ملینئم نائٹ کیلئے متجسس تھا لیکن (Y2K) کی افواہ پھیلی تھی کہ ایٹمی میزائیلوں کے سوفٹ ویئر میں جونہی یکم جنوری 2000 کی تاریخ تبدیل ہوگی یہ خود بخود فائر ہو کر ساری دنیا تباہ کر دیں گے، شام تک ٹی وی پر خبر نشر ہو چکی تھی کہ اس مسئلے کا حل تلاش کر لیا گیا ہے، نتیجہ سڑکوں پر رش بڑھ گیا، صبح کے وقت جونی آیا تو میں اس کے ساتھ باہر چلا گیا، سڑک پر سے چار رشین لڑکیاں، پنجابی والا محاورہ "رج کے سوہنی" نظر آئیں، خوب بن ٹھن کر آئی تھیں، ان سے راہ و رسم بڑھی، ان کی سربراہی میں ایک کیفے بار میں داخل ہوئے، وہ شور مچا کر شیمپئن مانگیں، ہم انکار کریں۔

ایک گول مٹول میرے قریب آ کر بیٹھی، مجھے باتوں میں لگا کر میری قمیض والی جیب سے ہزار تنگے کا نوٹ اُچک لی، باقیوں نے تالیاں بجا کر اُسے داد دی اور بوتل خریدی، جو چاروں لڑکیوں نے پی، ہم دونوں نے اجتناب کیا، وہ پی رہی تھیں اور انہیں دیکھتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ ان چار پریوں میں سے کس کو پاکستان لیکر جاؤں، مگر بوتل ختم ہی چاروں ایسے بھاگیں جیسے بلی کو دیکھ کر چوہے بھاگتے ہیں، یہ سرمایہ کاری بیکار گئی تھی، باپ کا مال غلط لوگوں پر خرچ کر دیا تھا، قصہ مختصر فقط ایک نصیحت کے بعد اِدھر اُدھر آوارہ گردی کرکے ہم واپس آگئے۔

شام کے وقت میں باہر جانے کیلئے تیار ہوا تو مدنی نے بتایا "آج کچھ دوستوں نے پلوشد پر جانا ہے اور تم بھی ہمارے ساتھ ہو"۔ میں عذر پیش کیا "سردی بہت ہے"۔ مدنی اپنے مخصوص ڈپلومیٹ لہجے میں بولا "روز ہی سردی ہوتی ہے، کیا آج کوئی نئی سردی ہے؟" میں پھر عذر تراشا "ٹی وی پر بتا رہے تھے کہ مائنس 40 تک درجہ حرارت گرے گا"۔ مدنی ہنسا "یہ بھی ایک نیا تجربہ ہوگا، دیکھتے ہیں کہ ٹمپریچر زیاہ سے زیادہ کتنا گر سکتا ہے"۔ لیکن میں پکڑائی دینے کے موڈ میں نہیں تھا "یار یقین کر، سردی بہت ہوگی، اگر کوئی بیمار ہوگیا تو مصیبت بن جائے گی"۔ مدنی بولا "تم فکر مت کرو"۔ مدنی کی ضد پر مجھے ہتھیار ڈالنے پڑے، مدنی نے تجویز دی "زیادہ دُور نہیں جائیں گے، پلوشد پر رونق میلہ دیکھیں گے، جب سردی زیادہ ہوئی تو واپس لوٹ آئیں گے اور ویسے بھی اگر تم نہ گئے تو گینگ لیڈر کی کمی محسوس ہوگی"۔ واضح ہو کہ یہ سب میڈیکل انگریزی سیکشن کے سٹوڈنٹ تھے اور ابھی تک فقط گزارے لائق رشین زبان بول سکتے تھے جبکہ میں تب تک بہت روانی کے ساتھ رشین بولتا تھا۔

رات گیارہ بجے ہم چند دوست، مدنی، فیصل شاہ، عمران اسلم کنگھی، (وجہ شہرت ہر وقت بالوں کا الجھے رہنا) ناصر چھوٹو، کامران قدیر اور شجاع، سب خوب تیار ہو کر اکٹھے نکلے، سردی کی شدت ناقابل برداشت تھی لیکن بقول مدنی "یہ ملینئم نائٹ دوبارہ واپس نہ آئے گی، یہ ایک صدی کے بعد ہی ممکن ہوگا"۔ یہ رات امر کرنے کی خاطر دوستوں کا اصرار قبول کیا تھا، پلوشد پر ہر طرف رنگ و نُور تھا، سجے ہوئے تھیٹر پر ثقافتی طائفہ رقص کر رہا تھا، رش بہت تھا، عورتیں اپنے چھوٹے بچے بھی ہمراہ لائی تھیں، ایک سٹال سے ہم نے گرم بلیک کوفی خریدی اور گھوم پِھر کر میلہ دیکھنے لگے، جب بارہ بجنے میں ایک منٹ باقی رہ گیا تو تمام بتیاں گُل کرکے بڑی ٹی وی سکرین پر کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوا، سب دم سادھے چُپ ہوگئے، کاؤنٹ ڈاؤن دس تک پہنچا تو ساتھ ہی عوام بھی ہم آواز ہوگئی، دیست (10)، دیویت (9)، ووسم (8)، سِم (7)، ششت (6)، پیات (5)، چتیری (4)، تری (3)، دُوا (2)، ادِن (1)، نول (0)۔

آسمان پر ہر طرف آتش بازی کا اہمتام، رنگ برنگ گولے بلندی پر جا کر پھٹتے اور مختلف مناظر پیش کر رہے تھے، ہم سب دوستوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر نئے سال کی مبارک دی، ہر طرف ووڈکا کی بوتلیں کُھل چکی تھیں لیکن ہم سب پرہیز پر عمل پیرا تھے، دس منٹ تک آتش بازی کے بعد موسیقی و رقص کا دور شروع ہوا، کچھ مرد و زن ایک بڑا دائرہ بنائے ناچ رہے تھے، جو شامل ہونا چاہے، وہ آگے آئے، کسی کی بھی بانہوں میں بانہیں ڈال کر جھومو، جھومتے جھومتے ایک چکر پورا کرو اور اگلے کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر جھومتے ہوئے بڑا دائرہ پورا کرو، دوستوں نے مجھے آگے کر دیا کہ تُو بھی چل، پہلا چکر ٹھیک سے مکمل کیا، کئی افراد کے منہ سے الکوحل کے بھبھکے نکل رہے تھے، دوسرے چکرکے وسط میں گھومنے کی دیر تھی کہ ایک رشین لڑکی میری بغل سے ٹکرائی اور دھڑام سے زمین پر گر گئی، میں نے اپنی چوٹ کو بُھول کر اسے سیدھا کیا، موصوفہ نے حد سے زیادہ پی رکھی تھی، ایک بات آج تک مانتا ہوں کہ مدنی بہت حوصلہ مند بندہ ہے، گھبراتا نہیں تھا، ورنہ اکثر ایسی صورت حال میں عوام دوڑ لگا دیتی تھی، وہ مدد کو پہنچا، موصوفہ ٹھیک سے چل نہ پا رہی تھی، اسے دائرے سے نکال کر سہارا دیکر ایک بنچ پر بٹھایا اور باقی دوستوں کو اشارہ کیا کہ آپ گھوم پھر کر میلہ دیکھو۔

جب محترمہ نے سر سے اُونی ٹوپی اتاری تو اُف خدایا، یا رب تیری شان، بلا شبہ اگر اُسے مقابلہ حُسن میں بھیجتے تو ضرور پہلا انعام حاصل کرتی، سنہرے لمبے بال، اندھیرے میں بھی چمکتی آنکھیں، اگر اس نے ووڈکا کا گھونٹ نہ لگایا ہوتا تو ضرور دوستی کی پیشکش کرتا، قصہ مختصر سارے کا سارا سابقہ و موجودہ سوویت یونین حُسن دو آتشہ سے بھرا پڑا ہے، کوہ قاف کی پریاں یہی تو ہیں، انہی کے بارے بچپن میں کہانیاں سُنتے تھے، لوگ کہتے ہیں کہ فلاں جگہ کا حُسن مثالی ہے جیسے مصر یا لبنان کا، میں ان دو قومیتوں کے ساتھ بہت عرصہ کام کیا ہے، رنگ گورا ہونا حُسن نہیں ہوتا، نین نقش بھی اہمیت رکھتے ہیں اور ان سے بھی بڑھ کر گفتگو کے آداب، کسی بھی مصری کے ساتھ بات چیت کرو، وہ فقط دیکھنے کی حد تک خوب صورت ہوگی، منہ کھولتے ہی اصلیت نظر آ جائے گی۔

حلق سے کانوں کے پردے پھاڑنے والے گائے جیسا سُر تال، کوئی بھی صاحب ذوق دو منٹ سے زیادہ ان سے ہم کلام ہونا برداشت نہیں کر سکتا اور ہاتھ جوڑ کر منہ بند رکھنے کی درخواست لازمی کرتا ہے، مصری لوگوں کو خوب صورت ان اوورسیز پاکستانیوں نے مشہور کیا جو ستر اور اسی کی دہائی میں پہلی مرتبہ بھٹو کی مہربانی سے حاصل شُدہ پاسپورٹ پر مڈل ایسٹ مزدوری کرنے گئے، دہقان پیشہ یا کام سے فرار کے متلاشی لوگوں نے جب پہلی مرتبہ مصریوں کا گورا رنگ دیکھا تو یہی ان کی دنیا کا آخری کنارہ تھا، حالانکہ مجھے یہ زیادہ تر گائے بھینس ہی لگتی تھیں، میرے ایک مصری کولیگ وائل نے بتایا تھا کہ مصری لوگ اصل عرب النسل نہیں ہیں، یہ صدیوں پر محیط رومی، فرنچ اور یونانی لوگوں کا مکسچر ہیں، اصل مصری لوگ گاؤں کے رہائشی اور خال خال ہی ملتے ہیں جن کو صعیدی یعنی بلندی پر رہنے والے پہاڑیئے پکارا جاتا ہے لیکن ان میں سے بھی بہت سارے غیر ملکیوں کی پیوند ہیں۔

اس دراز قامت لڑکی کا نام کسینیا تھا، اس کے اوسان بحال ہونے تک دوست بھی میلہ دیکھ کر واپس آ چکے تھے، سب کا تعارف کروایا، وقت گزرنے کا احساس ہوا، رات بھی گہری ہو رہی تھی لہذا بائے بائے بول کر چل دیئے، راستے میں دوست مجھے چھیڑ رہے تھے، "واہ یار تیری قسمت"، "کاش کوئی ہم سے بھی ٹکرائے"، "ہم تو ترس گئے ہیں کہ سوہنی نہ سہی کوئی بدصورت ہی ٹکرائے"، "اس کا نمبر یاد سے لینا تھا"، "اس کا نمبر مجھ سے بھی شیئر کرنا، دعائیں دوں گا"، "اسے فون کرکے پوچھو اگر کوئی قریبی سہیلی فری ہے"۔

مدنی نے تب ہنسی مذاق میں میرے بارے ایک تبصرہ تھا "تم کہیں بھی جاؤ، تمہاری معصوم شکل دیکھ کر کوئی نہ کوئی لڑکی تم سے ٹکرا جاتی ہے"۔ ہم سب اس تبصرے پر بہت ہنسے تھے لیکن بعد ازاں یہ تبصرہ سچ ثابت ہوا، جب سردی کی شدت سے دانت کپکپانے لگے تو واپس ہوسٹل کی راہ لی۔

Check Also

Hieroglyphics

By Ayaz Khawaja