Friday, 09 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ashfaq Inayat Kahlon
  4. Malik Yusuf Ke Dramay (2)

Malik Yusuf Ke Dramay (2)

ملک یوسف کے ڈرامے (2)

ایک صبح ملک یوسف کو زیلونی بازار جبکہ مجھے کلاس کو جانا تھا، کمرے کی چابی میں اپنے ساتھ لے گیا، اتفاق سے میڈم وکٹوریہ نے ناساز طبع کے باعث کلاس جلدی ختم کردی، اورنگزیب مجھے ساتھ لیکر ایک افغانی کے فلیٹ، واقع عقب پلوشد تھیٹر ایریا میں گئے، وہاں کافی دیر بیٹھے، اورنگزیب واپسی کا نام نہ لے، اسے بتایا "کمرے کی چابی میرے پاس ہے اور ملک یوسف انتظار کر رہا ہوگا"۔ طویل وقت گذار کر واپس آتے راستے میں اورنگزیب شروع ہوگیا "یہ اپارٹمنٹ ہمارا ہے، فلاں بھی اور فلاں بھی"۔ میں نے کہا "وہاں دوسرے لوگ رہتے ہیں، تمہارا فلیٹ کیسے ہوگیا؟" میرے الفاظ اسے بہت چبھے تھے، لمبی لمبی چھوڑنا اور نئے آنے والوں کو دبانے کی کوشش کرنا اس کی عادت تھی، بعد میں اس نے بغض بھی بہت نکالا، جب واپس آئے تو عصر کے چار بج چکے تھے اور ملک یوسف بہت ناراض تھا۔

لیاقت خان کے کمرے میں عزیر اچکی نے ملک یوسف کو اپنے فلیٹ پر آنے کی دعوت دی، شام کو وہاں اس کی گرل فرینڈ الونا (بعد میں اس کی بیوی بنی) بھی موجود تھی، یہ بڑا دلچسپ کیریکٹر تھی، دونوں کے مابین اکثر لڑائی جھگڑے ہوتے، جھگڑوں کا سبب الونا کا دوسرے لڑکوں سے بات چیت کرنا تھا جو عزیر اچکی کو ناگوار گزرتا تھا، ملک یوسف نے لذیذ آلو گوشت بنا کر پیش کیا، الونا نے کچھ زیادہ تعریف کر دی، ملک یوسف نے مترجم کی مدد سے الونا کو ایسا الجھایا کہ وہ بھی اس کی گرویدہ ہوگئی، اس کی باتوں پر ہنس ہنس لوٹ پوٹ ہوتی، ملک نے اسے حکم دیا کہ میری انگلیوں کے کڑاکے نکالو، الونا نے اپنے نرم و ملائم انگلیوں کو اس کی طاقتور انگلیوں میں پھنسا کر زور زور سے جھٹکے مارے، اسے چِڑیا اُڑی کوا اُڑا گیم سمجھائی اور دونوں کھیلنے لگے، میں کن اکھیوں سے دیکھا کہ عزیر اچکی کے تیور بدل رہے تھے۔

ایک دن ہم "سنترم سنترم" ایڈونچر کرکے ہوسٹل کے سٹاپ پر اترے تھے کہ درخت کے نیچے الونا روتی نظر آئی، معلوم ہوا کہ عزیر اچکی کے ساتھ جھگڑا ہوا ہے، ملک نے اُسے بُلا بھیجا، وہ نیچے آیا، بہت غصے میں تھا، بولا "یہ مر جائے، جہاں دل چاہے جائے لیکن میری جان چھوڑے"۔ ملک نے اسے سائیڈ پر لے جا کر نجانے کیا پھونک اس کے کان میں ماری کہ عزیر نے الونا سے سوری بولا، بعد میں بھی جھگڑوں کی خبریں آتی رہیں لیکن سوری کہلوانے والا کام ملک یوسف نے ہی کیا تھا۔

دن کو میں کلاس میں جاتا اور شام کو ملک یوسف کے ہمراہ سامان لیکر عزیر اچکی کے فلیٹ پر چلے جاتے، اورنگزیب بھی ہمارے ساتھ ہوتا تھا، اگر ہم نہ جاتے تو عزیر اچکی ضد کرکے ہمیں اپنے ساتھ لے جاتا، ایک مرتبہ ملک یوسف نے کھانا پکانے کے بعد سر درد کی اداکاری شروع کر دی، الونا نے اس کا سر بھی دبایا، میری نظروں نے بھانپ لیا کہ ملک یوسف کو الونا کے ساتھ اتنا چہکتا دیکھ کر سب پٹھانوں کے تیور بگڑ گئے تھے، ہوسٹل واپس آ کر اس خدشہ کا اظہار بھی کیا تھا۔

ایک رات اورنگزیب کے کمرے میں دائرہ بنا کر ملک یوسف کی تقریر سنتے اور داد دیتے رہے، "اگر پاکستان میں کوئی کام ہو تو بتانا، لاہور والا کوما قصائی جو راوی پُل پر ٹول ٹیکس کے ٹھیکے لیتا ہے، وہ بھی اپنا پانی بھرتا ہے، میں ایک مرتبہ بیس بندے لیکر اس کے ڈیرے پر گیا تھا لیکن وہاں پتھر کے بنے بس دو شیر ہی نظر آئے، میری فائرنگ کے جواب میں کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ سامنے آئے، میں دو گھنٹے انتظار کرکے واپس فیصل آباد آگیا"۔ تب کوما قصائی بدمعاشی کی دنیا کا بہت بڑا نام تھا، ایک سٹوڈنٹ بندہ جب ایسی باتیں کسی کے منہ سے ٹاپ لیول پُر اعتماد انداز سے سنتا تو ویسے ہی مرعوب ہو جاتا، کئی لڑکوں نے ملک یوسف کو دعوت دی "آپ نے پاکستان میں ہمارے گھر ضرور ملنے آنا ہے" اور ملک صاحب ایک منجھے ہوئے ڈان کی طرح مسکرا کر اسے آشیرباد دیتے، ایک ماہر بازیگر کی طرح فقط وہ منظر دکھاتا جو مدمقابل دیکھنا چاہتا تھا۔

ملک یوسف جلد سونے کا عادی تھا، ہم سونے کیلئے لیٹے ہی تھے کہ شور مچ گیا ایک نئے پاکستانی سٹوڈنٹ نے لڑکی کو چھیڑا تو اسے مار پڑی ہے، بوقت صبح معلوم ہوا کہ ہوسٹل کے بیرونی دروازے کے پاس کھڑی الونا نے نئے سٹوڈنٹ کو دیکھ کر ویسے ہی اس کا نام پوچھ لیا، دونوں کو باتیں کرتا دیکھ کر پاس کھڑا ایک پٹھان بپھر گیا، اس نے شور مچا کر پٹھان جمع کئے اور نووارد کو مارنا شروع کر دیا، درحقیقت بات کا بتنگڑ بنایا گیا تھا، افغانی و پٹھان اکٹھے ہو کر اکیلے پنجابی کی درگت بنا دیتے تھے، تہذیب سے دور کچھ لوگ حقیقی معنوں میں جنگلی جانور ہیں۔

ایک دن اورنگزیب کے ساتھ دعوت پر گئے، میزبان سابق افغانی فوجی اور بزنس ویزہ پر آئے تھے، نمکین گوشت سے تواضع ہوئی، تعارف کے بعد میں نے محسوس کیا کہ وہ لوگ پنجابی کا سن کر منہ بنائے بیٹھے تھے، میں بہانے سے اٹھ کر باہر چلا گیا، جب واپس آیا تو کیا منظر دیکھا کہ وہ دونوں میزبان ملک یوسف کے دائیں بائیں صوفے پر بیٹھے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر بلند و بالا قہقہوں سے ہنس رہے تھے، ملک یوسف ان کو بھی اپنا گرویدہ بنا چکا تھا، ایسا شکنجے میں کسا کہ دوسرے دن وہ لوگ خود پکا پکایا کھانا لیکر ہوسٹل پہنچے اور ملک یوسف کوکھلایا بلکہ اگلے دن کی پھر دعوت دیدی، میں ایک مرتبہ ہی رج چکا تھا لہذا معذرت کرلی لیکن دوسرے دن اورنگزیب کے مجبور کرنے پر ساتھ چل پڑا، ملک یوسف آگے آگے اور ہم شامل باجہ کی طرح پیچھے پیچھے، بہترین دعوت کے بعد ہمارے لئے پہلے سے ٹیکسی کا بندوبست کر رکھا تھا جس نے ہمیں ہوسٹل ڈراپ کیا، میں سوچ رہا تھا کہ یہ ملک یوسف کیا بلا ہے۔

سب پٹھان اسے ملک یوسف خان پکارنے لگے، ہم کلاس میں ہوتے اور دوپہر کا کھانا ملک یوسف، اورنگزیب کے کمرے میں اکیلے پکاتا، میں اکثر دیکھا کہ وہ پہلے پہل دروازہ کھلا رکھتا تھا لیکن پھر بعد میں دروازہ بند رکھنے لگا تھا، ہر شام کھانے کے وقت دعوت ہوتی اور میں بھی ساتھ جاتا، مجھے حکم تھا کہ "تم نے خاموش رہنا ہے"۔ اندرونی کہانی تو مجھے معلوم تھی کہ ملک صاحب ایک بیل والے ملک ہیں، سٹوڈنٹس کے آپس میں جھگڑے ہوتے تو بطور سرپنچ ملک یوسف فیصلہ کرتا، جس کے خلاف فیصلہ ہوتا بعد میں اسے چکنی چُپڑی باتوں سے بہلا لیتا، انداز ایسا کہ اگلا بندہ انکار نہ کر سکتا، معترض کا ماتھا چومنے لگتا، ہم ہوسٹل کے کسی کاریڈور میں ہوتے یا باہر گھومتے ملک یوسف خان کیلئے سلام صاحب، سلام صاحب والا ماحول بن چکا تھا۔

ایک مرتبہ بیٹھے بیٹھے دو پٹھان آپس میں جھگڑ پڑے، ملک یوسف کو غصہ چڑھ گیا، "تم لوگوں نے میری موجودگی کا لحاظ بھی نہیں کیا، میرے ہوتے کوئی بندہ دوسرے پر ہاتھ نہ اٹھائے، جس نے بھی یہ غلطی کی وہ اپنا بندوبست یہاں بھی کرلے اور پاکستان میں بھی"۔ وہ دونوں آپس کی لڑائی بھول کر ملک یوسف کو منانے لگے، ایک فریق نہایت محبت سے پھل پیش کر رہا تو دوسرا ڈرائی فروٹ، ایک دو مرتبہ تو سٹوڈنٹس کو ملک یوسف کے ہاتھ پاؤں دباتے اور سر میں تیل کا مساج کرتے بھی دیکھا، بہرحال وہ اب تمام پٹھانوں کا مشترکہ ہیرو تھا، بندے کو استعمال کرنے کا فن بہت اچھی طرح جانتا تھا، بندے کو انگوٹھے پر چڑھاتا اور انگلیوں پر نچاتا ہوا چھوٹی انگلی سے نیچے اتار دیتا، بندے کی نفسیات کو بہت جلد پڑھ لیتا تھا۔

ایک دن کمرے میں ملک یوسف کو پوچھا "آپ کا تجربہ ہم سے زیادہ ہے، یہ بتائیں یہ پٹھان مہمان نوازی والی روایت کیا ہے؟" ملک نے بڑی وضاحت سے بتایا "یہ پرانے زمانے کی بات اور اب فقط ایک کتابی قصہ ہے، اب مفادات طے کرتے ہیں کہ کس کی کس حد تک مہمان نوازی کرنی ہے"۔ میں اسے پوچھا "پٹھان لوگ بات بات پر بندوق نکالتے ہیں یہ کیا چکر ہے"۔

اس نے بتایا "ہر علاقے کی مخصوص ثقافت، رسم و رواج ہوتے ہیں، اٹک کے پار لاقانونیت کے سبب جنگلی اور قبائلی ماحول ہے، پہاڑ ہونے باعث ذریعہ معاش بہت کم دستیاب اور ذرائع آمد و رفت بہت خراب ہیں، ایسی تکالیف ایک باغی معاشرے یا اکھڑ مزاج لوگوں کو جنم دیتی ہیں، ایسے میں ڈرگز اور اسلحہ کی تجارت سے بندہ راتوں رات بہت اچھی آمدن حاصل کرلیتا ہے، پنجاب سے مفرور وہاں پناہ حاصل کرنے جاتے تھے، لیکن یہ بات سراسر جھوٹ ہے کہ مقامی لوگ انہیں مہمان بنا کر رکھتے تھے، لمبے عرصے تک پناہ کے عوض لمبی رقمیں بٹوری جاتی تھیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے، جو اشتہاری رقم نہ دیتا اس کی یہ خود مخبری کر دیتے یا اس کے مخالفین سے تگڑی رقم لیکر قتل کر دیتے تھے، یا اپنے مخالفین کو قتل کرنے کا ٹاسک دیتے کہ اپنا خرچہ اس طرح پورا کرو"۔

Check Also

Haqeeqaten (4)

By Babar Ali