Friday, 02 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ashfaq Inayat Kahlon
  4. Malik Yusuf Ke Dramay (1)

Malik Yusuf Ke Dramay (1)

ملک یوسف کے ڈرامے (1)

ملک یوسف فرام فیصل آباد صحیح معنوں میں رنگ باز انسان تھا، گہری سانولی رنگت، بھاری بھرکم ڈیل ڈول، کھانا پکانے کا ماہر اور اس سے بھی بڑھ کر گفتار کا غازی، باتوں باتوں میں ہی بغیر کوئی پراڈکٹ دکھائے مدمقابل کو بیچنے اور اس کو یہ یقین دلانے کا ماہر تھا کہ تم کو بہت نفع ہوگا، یہ صحیح معنوں میں وہ بندہ تھا جو قطب شمالی پر فریزر سے بھرا ٹرک بیچ سکتا تھا۔ پہلے بھی سائپرس، فرانس اور برطانیہ سے ہو کر واپس آیا تھا، اب عرصہ دراز سے یونان میں سیاسی پناہ لئے بیٹھا ہے، یہ سیاسی پناہ والا کام اس نے کیسے کیا ہوگا یہ سمجھ سے بالاتر ہے لیکن بہت استاد چیز تھا، بندے کو باتوں میں شیشے میں اتار لیتا اور اپنا کام نکال کر لات مار کر خود غائب ہو جاتا تھا۔

ہوسٹل میں ہمارے کمرے کے سامنے ایک افغانی پٹھان اورنگ زیب کا کمرہ تھا، یہ عمر میں مجھ سے بڑا تھا، پچیس سے اٹھائیس سال، منحنی صحت، گال پچکے، چرسی لگتا تھا، یہ کسی دوسرے ملک سے بھی ہو کر آیا تھا، اس کے ساتھ عارف کشمیری بطور روم میٹ، عارف خود کو انڈین کشمیر کا بتاتا تھا لیکن بٹل ایریا یعنی پاکستانی کشمیر کا تھا، ساری عمر یہ بات صیغہ راز رہی کہ وہ کس خطے سے تعلق رکھتا ہے، چند سال پہلے جب اس کی فیس بک پر ایک پوسٹ دیکھی، بٹل ہسپتال میں جاب کرتے تب معلوم ہوا کہ اندر سے پکا کھلاڑی تھا، دو سال قبل خالق حقیقی سے جا ملا ہے، پاکستان اور پنجاب کو بہت گالیاں دیتا تھا، عارف سے بہت گِلے شِکوے تھے لیکن رب کی رضا کیلئے معاف کر دیا تھا۔

اورنگزیب نے مجھے پیشکش کی "تم میرے کمرے میں شفٹ ہو جاؤ اور عارف کشمیری کو نکال دیتا ہوں"۔ میں صورت حال کا معائنہ کر چکا تھا لہذا معذرت کر دی، اس کا کمرہ افغانی و پاکستانی پٹھانوں کا حجرہ تھا اور عارف اکثر بآواز بلند کُڑھتا ہی رہتا تھا، دونوں کی آپس میں بہت لڑائی ہوتی تھی، عارف کا یہ مطالبہ "تیرے مہمان ہر وقت کھانے پر آتے ہیں، میس کا بِل زیادہ بنتا ہے لہذا تم زیادہ پیسے دو، میں ہرگز ان کے کھانے کے پیسے نہیں دوں گا"۔ دونوں ہی دماغی مریض تھے، ہمارے کمرے آمنے سامنے ہونے کے باعث ہر روز ان کی چک چک سنتے تھے۔

ہوسٹل میں افغانی پاکستانی، پنجابی پٹھان کا تعصب بہت تھا، کئی ایک شکلوں سے سٹوڈنٹ تو بالکل نہیں لگتے تھے، بلکہ قانون سے بھاگے ہوئے تھے، بعد میں واقعی ایسی خبریں سننے کو ملیں کہ یہ لوگ مفرور ہیں اور سٹوڈنٹ ویزہ کی آڑ میں پاکستانی پاسپورٹ کا استعمال کرکے یہاں آئے تھے، چونکہ ان لوگوں کا پڑھنے لکھنے سے کوئی تعلق نہ تھا لہذا یہاں بھی دوسروں کو دبانے کی کوشش کرتے اور ہوسٹل کا ماحول خراب کرتے تھے، ایسے لوگ دوسروں کو متاثر کرنے کیلئے ایک جملہ بڑا فحش انداز میں بولتے تھے "ام پیتا اے، کھاتا اے اور چودتا اے"۔ دونوں پارٹیوں کی آپس میں کئی مرتبہ بھیانک قسم کی لڑائیاں ہوئی تھیں۔

میری وہاں موجودگی کے دوران بھی کئی لڑائیاں ہوئیں اور بعد میں بھی، میری واپسی کے بعد دریا کنارے ان دونوں پارٹیوں کی بہت بھیانک لڑائی ہوئی تھی، پولیس ملوث ہوئی، پندرہ سٹوڈنٹس کے پاسپورٹ پر ڈیپورٹ کی مہر لگی، اب مسئلہ یہ تھا کہ زیادہ تر میڈیکل آخری سال کے سٹوڈنٹ تھے، ڈین محسن مرات نے معافی تلافی کروا دی لیکن سب کو وارننگ دیدی کہ آئندہ جو بھی لڑائی کرے گا وہ خود ذمہ دار ہوگا، اس دھمکی کے بعد بہت سکون ہوگیا تھا، یونیورسٹی کا کوئی بھی سٹوڈنٹ میری رائے سے اختلاف کر سکتا ہے لیکن جو واقعات رونما ہوئے تھے ان کی سچائی سے انکار نہیں کر سکتا، میں نے جو مشاہدہ کیا وہ لکھ دیا ہے۔

ملک یوسف نے اورنگزیب کو کیسے شیشے میں اتارا یہ مجھے معلوم نہیں، ابھی تک ہم گذارہ کر رہے تھے اور کھانا پکانے کیلئے کوئی ہیٹر یا چولہا نہیں خریدا تھا، ملک یوسف شام کو کھانے کا سامان اٹھا کر اورنگ زیب کے کمرے میں چلا گیا اور کھانا پکا کر لے آیا، ہاتھ سے پکی روٹیاں بھی تھیں، دیسی کھانا جب ملا تو خوش ہو کر کھایا، اگلے دن اورنگزیب کے کمرے میں ہی سب نے مل کر کھایا۔

ملک یوسف کی کھانے پکانے والی صلاحیت سے متاثر ہو کر مشترکہ فیصلہ ہوا کہ وہ سب کا کھانا پکایا کرے گا، وہاں عزیر نامی مردان کے پٹھان لڑکے سے ملاقات ہوئی، سیکنڈ ایئر سٹوڈنٹ، آنکھوں پر عینک لگاتا، رشین میں عینک کو اچکی بولتے، لہذا عزیر اچکی نام مشہور ہوگیا، اب تک جتنے پٹھان لڑکوں سے تعارف ہوا بظاہر یہ سب سے معتدل انسان نظر آنے کی کوشش کرتا لیکن اندر سے سخت متعصب و منافق تھا۔

عبدالوہاب خان کی خوش خوراکی بہت مشہور تھی، قد بھی چھ فُٹ، خان صاحب کھانا کھا کر کمرے سے جونہی باہر نکلتے، کسی دوسرے کمرے سے کھانے کی خوشبو یا "آؤ کھانا کھاؤ" کی صدا کان میں پڑتی تو دوبارہ سے معدے کو کشٹ ضرور دیتے تھے، مجھ سے رابطے میں تھا لیکن جب سے شادی ہوئی اس نے مجھے بلاک کر دیا، بدر منیر، اعجاز خان سواتی، انوار الحق، اسحاق خان، شفیق مردان والا، شہریار خان و دلاور بنوں والے، سلمان شاہ، شکیل آفریدی، یہ چند گنے چُنے اچھے پڑھنے لکھنے والے سٹوڈنٹ تھے جو لسانی و صوبائی تعصب سے مبرا تھے۔

کئی ایک کو دیکھ کر سوچنا پڑتا تھا کہ ان کو سٹوڈنٹ ویزہ کس میرٹ پر ملا ہوگا، اکثریت نارمل سٹوڈنٹ یا نارمل سے کم درجے کے تھے جو میرٹ پر پورا نہ اتر سکے لیکن والدین کی سرمایہ کاری میسر ہونے باعث بیرون ملک سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنے نہیں بلکہ خریدنے آئے تھے، سابقہ سوویت ریاستیں معاشی مشکلات سے دوچار تھیں، سٹوڈنٹ کا میرٹ وغیرہ دیکھنے کا رواج نہیں تھا، پیسہ پھینک تماشہ دیکھ والی صورت حال تھی، اکثریت کی حرکتیں دیکھ کر ایک عمومی رائے تھی کہ یہ لوگ ڈاکٹر بن جائیں گے لیکن انسان کبھی نہیں بن سکتے، فرسٹ بنچ پر بیٹھا سٹوڈنٹ کسی مسئلہ کا حل بتا سکتا ہے لیکن اس مسئلہ کا سامنا آخری بنچ پر بیٹھا سٹوڈنٹ کر سکتا ہے، یہ عملی مثال وہاں دیکھی، امریکہ و یورپ کی ویزہ پالیسی سخت ہونے باعث کچھ جرائم پیشہ بھی سٹوڈنٹ ویزہ کی آڑ میں چلے آئے تھے اور اپنے ایڈونچرز کی کہانیاں بڑے شوق سے سناتے تھے جبکہ درحقیقت وہ ماحول خراب کرنے کے ذمہ دار تھے، ان کا مقصد دوسروں کو دبا کر رکھنا ہوتا تھا، بعد میں میری بھی کچھ لڑائیاں ٹھیک ٹھاک قسم کی ہوئی تھیں۔

افغانیوں و پٹھانوں کا پنجابیوں کے ساتھ معاملہ بغیر بات غرانا، مکے دکھانا، دانت پیس کر بات کرنا، جب کوئی ٹکر کا بندہ ملے تو پھر برف کی طرح ٹھنڈے ہو جاؤ اور "ٹی سی" کی انتہا کر دو، ملک یوسف نے اپنی چرب زبانی کا ایسا جادو چلایا کہ پٹھان لوگ اس کے نام کے ساتھ "خان" لقب کا اضافہ کرکے پکارتے، ملک یوسف خان۔

غیرت خان میڈیکل کے آخری سال میں یعنی سب سے پرانا پاکستانی سٹوڈنٹ، بطور ہوسٹل مانیٹر اور اعزازی کمانڈنٹ بھی تھا، سٹوڈنٹس کے مسائل اکثر وہی حل کرواتا تھا، سب سٹوڈنٹ اس کی بہت عزت کرتے، نئے سٹوڈنٹ کو مدد کیلئے غیرت خان کی طرف دیکھنا پڑتا، لیکن اندر سے پکا متعصب تھا، جہاں پنجابی و پٹھان کا معاملہ ہوتا، یہ آنکھ بند کرکے پٹھان کی حمایت کرتا اور پنجابی کو نشانہ بناتا تھا۔

پہلے ہی دن ملک یوسف نے ایسا شاندار کھانا پکایا اور اپنی چرب زبانی کا وہ جادو دکھایا کہ سب پٹھان عش عش کر اٹھے، میں نوٹ کیا کہ انہیں خطہ پنجاب بالخصوص لاہور سے خدا واسطے بیر تھا، وہاں موجود سب افغانی نما پاکستانی فاٹا کے ایریا سے تعلق رکھتے تھے، جہاں آج بھی لاقانونیت عروج پر ہے، ڈرگز، اسلحہ وغیرہ کا ذکر بمع فخر ہوتا تھا۔

وہاں ایوب آفریدی کا ذکر سُنا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ اس نے جعلی امریکن ویزہ اور ڈالرز چھاپنے کی مشین بنوائی اور امریکی سفارت خانے میں سے اصلی مشین غائب کرکے وہاں اپنی جعلی مشین رکھوا دی تھی، واللہ اعلم بالصواب، ایسا ممکن ہی نہیں کہ ڈالر چھاپنے کی مشین کسی امریکن سفارت خانے میں موجود ہو لیکن وہ لوگ اس کا ذکر بطور ہیرو کرتے تھے، ایک دن میرے ذہن میں خیال آیا کہ پنجاب میں دیکھا ہے کہ افغانی لوگ اپنی لڑکیاں بعوض حق مہر بیچ دیتے اور کبھی پلٹ کر خبر بھی نہیں لیتے، میں ذاتی طور پر ایسے دو افراد کو جانتا تھا جو فاٹا سے پٹھان لڑکی کو رقم کے عوض بیاہ کر لائے تھے، اس بات پر سب کا پارہ ہائی ہوگیا اور مجھے خوب الٹی سیدھی سُننے کو ملیں، لڑائی کا ماحول بن گیا تھا، پھر مجھے کہنا پڑا کہ ہر معاشرے کی خوبیوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ بُرائیاں بھی ہوتی ہیں، آپ لوگوں کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ بیٹی بیچنے والی روایت موجود ہے۔

Check Also

Dhaka Mein Ayaz Sadiq Aur Jay Shankar Musafha Ki Halchal

By Nusrat Javed