Friday, 06 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ashfaq Inayat Kahlon
  4. Hostel Mein Qayam Karna (1)

Hostel Mein Qayam Karna (1)

ہوسٹل میں قیام کرنا (1)

ویسے تو پورا لینن ہوسٹل نمبر 3 ایک تھیٹر تھا، ایک چھت تلے روز نئی فلم ریلیز ہوتی تھی، ایسے شاندار دماغ جو ہر روز نیا سکرپٹ تخلیق کرتے اور فلم بھی کھڑکی توڑ رش پکڑتی، فقط میوزک کی کمی رہتی تھی، اُس سال یونیورسٹی کا سب سے خوب صورت غیر ملکی لڑکا یا بچہ، میں بذات خود تھا، ہوسٹل کا ماحول بڑا مست تھا، وہاں موجود سٹوڈنٹس کی حرکات دیکھ کر مرحوم پہلوان کہتا تھا "اللہ کی قسم ان سے کبھی علاج نہ کرواؤں گا"۔ سب کا مشترکہ و متفقہ فیصلہ تھا کہ انہیں ڈاکٹر کی ڈگری مل جائے گی لیکن یہ کبھی انسان نہیں بن سکتے اور جب کبھی ملاقات ہوتی ہے تب بھی یہی رائے برقرار ہے۔

معظم ڈھلوں، عمران بشیر فرام ڈسکہ، فیصل شہزاد فرام گوجرانوالہ، عتیق مشتاق فرام ساہیوال اور مبین فرام لاہور کا ایک بہت اچھا گروپ تھا، سب ٹیلنٹ سے بھرپور اور زندہ دل، اچھا پڑھنے لکھنے والے، ہوسٹل میں معظم ڈھلوں خوب ماحول بناتا تھا، اس کے پاس سٹوڈیو ساؤنڈ سسٹم یعنی بہت بڑے سپیکروں والا پورا سیٹ تھا، ہر ویک اینڈ پر کوریڈور میں سپیکر رکھ کر میوزک پارٹی ہوتی تھی، سب لوگ جمع ہو کر الٹے سیدھے ہاتھ پاؤں چلاتے، معظم بذات خود بڑا کمال کا ڈانسر تھا، عتیق مشتاق بانسری نواز تھا یعنی بانسری کی دھن پر گانے سناتا، یہ پورا گروپ ثقافتی پروگراموں میں پیش پیش ہوتا تھا۔

جب نئے لوگ ملتے ہیں تب مزاج آشنائی کیلئے کچھ وقت درکار ہوتا ہے، جتنی جلدی ایک دوسرے کا مزاج سمجھ گئے اتنی جلدی اچھے دوست بن گئے ورنہ نیا کمرہ تلاش کرو، مزاج ناآشنائی کے باعث ایک دوسرے سے بات بے بات جھگڑے، مزاج برہم، لڑائی و علیحدگی اور پھر ایک دوسرے کو بدنام کرنا عام بات تھی، یونیورسٹی کنٹریکٹر میر حسین کشمیری اور اکبر جلال نے طلباء کو بیک وقت فیس ادا کرنے کی بجائے قسطوں میں بھی ادائی کی سہولت دے رکھی تھی جس کا بعض طلباء غلط فائدہ اٹھاتے تھے، ہوسٹل سے باہر اپارٹمنٹ میں قیام کی اجازت تھرڈ ایئر سے ملتی تھی لیکن بہت سے سٹوڈنٹس بیرونی اپارٹمنٹس میں مقیم تھے، ہوسٹل میں فی کمرہ سالانہ کرایہ برائے دو سٹوڈنٹس 200 ڈالر جبکہ فلیٹ میں کرایہ ملا کر 150 سے 200 ڈالر ماہانہ خرچہ لازم ہو جاتا تھا۔

ہر کمرے میں مقیم دونوں سٹوڈنٹس کا آپس میں پرائیویسی کو لیکر جھگڑا عام بات تھی، ہر کوئی ہوسٹل چھوڑ کر فلیٹ منتقل ہونا چاہتا تھا لیکن وسائل کی عدم دستیابی یا رشین زبان سے ناآشنائی باعث ایسا کرنے سے قاصر تھا، فلیٹ میں رہنے والوں کی ہوسٹل میں بہت عزت تھی، جب ہوسٹل سے سٹوڈنٹس کسی فلیٹ پر دعوت کو جاتے تو واپس آ کر چٹخارے لیکر بیان کرتے گویا یہ شان و شوکت میں اضافہ ہوتا تھا، ہوسٹل کی رونق اپنی جگہ لیکن زندگی کا اصل مزہ ہوسٹل سے باہر ہی تھا، فلیٹ میں ہر طرح کی سہولت دستیاب تھی، بہترین بیڈ روم، کچن، واشگ مشین وغیرہ، سب کا دل اپارٹمنٹ میں قیام کیلئے مچلتا تھا لیکن بھاری اخراجات کے پیش نظر یہ خواہش دل میں ہی رہ جاتی تھی۔

ہوسٹل میں مسجد نہیں تھی، نماز پڑھنے کیلئے باہر جانا پڑتا تھا، جامع مسجد شہر کی حدود سے باہر واقع تھی، نیلی ٹائلوں سے بنی یہ مسجد سادہ مگر فن تعمیر کا شاہکار تھی، مدنی، میں، فیصل شاہ، عمران اسلم کنگھی و دیگر چند دوست بس میں سوار ہو کر وہاں جمعہ پڑھنے جاتے تھے، جب سٹوڈنٹس زیادہ ہوئے تو مشترکہ تجویز پر مسجد کیلئے آواز اٹھائی گئی، یونیورسٹی ڈین محسن مرات نے مسجد کیلئے تیسرے فلور پر چار کمرے مختص کر دیئے، درمیانی دیواروں کو گرا کر ضروری ترمیم کے بعد مسجد کی شکل دی گئی اور نماز باجماعت کا اہتمام شروع ہوا، حافظ ڈاکٹر وقار باجوہ فرام گوجرانوالہ پیش امام مقرر ہوئے، مسجد میں پانچ وقت اذان اور باجماعت نماز کے ساتھ شب برات اور محفل میلاد کا اہتمام شروع ہوا، محفل میلاد کی ذمہ داری مدنی نے اپنے ذمہ لی اور بھرپور عقیدت سے اہمتام کیا، سُنی و وہابی امام کا جھگڑا بھی سامنے آیا تھا۔

طارق عبادالرحمن فرام بھکر بہت شریف انسان تھا، بہت سے سٹوڈنٹس اس سے پیسے ادھار لیتے اور پھر واپس نہ کرتے، وہ بیچارہ پیچھے پیچھے پھرتا رہتا، ماہِ رمضان میں وہ بڑے خشوع و خضوع سے نوافل پڑھ رہا تھا کہ مجھے اور عبدالرحمن کو شرارت سوجھی، جب وہ سجدے میں گیا تو اسے سجدے میں سے ہی اٹھا کر باہر کوریڈور میں رکھ دیا۔

تیسرے فلور پر زیادہ لڑکیاں، چوتھے فلور پر افغانی، پاکستانی پٹھان اور پانچویں فلور پر پنجابی زیادہ تھے، رات کے وقت کھڑکی کے پار داستان ڈسکو کلب کی رنگینیاں نظر آتی تھیں، میوزک کا شور بڑی دُور تک سنائی دیتا تھا، کلب کی رنگینیاں دیکھنے کو دل مچلتا تھا لیکن رشین زبان سے ناآشنائی باعث ہوسٹل میں دبکے رہتے، شعیب پسروری بڑا ملنسار بندہ تھا، بریک ٹائم میں ناشتہ اس کے کمرے میں مونگ پھلی والا مربہ، مارملیڈ اور بریڈ سے کرتے اور چائے پیتے، ہم تقریباََ بیس نئے لڑکے رات کے وقت اس کے کمرے میں جمع ہو جاتے، چھت کے وسط میں ایک گول گھومنے والی ڈسکو لائٹ نصب کی، بتیاں بجھا کر داستان ڈسکو سے آنے والی آوازوں پر اچھل کود شروع کر دیتے، رقص وغیرہ کوئی نہیں جانتا تھا بس ایسے ہی الٹے سیدھے ہاتھ پیر چلاتے رہتے، خوب ہلا گُلا ہوتا تھا۔

ڈاکٹر نیئر عمران شاہ نے اپنے کمرے کو بطور ڈیرہ بنا رکھا تھا، بڑا قالین بچھا کر، ٹی وی، وی سی آور، ریسیور، ڈش انٹینا اس دور کی بہت بڑی تفریح تھی، وہاں میلہ لگا رہتا، لنگر چل رہا ہوتا، ہر خاص و عام کیلئے مرجع خلائق، کرکٹ میچ دیکھتے، سیٹیاں بجاتے، یہ بندہ یاروں کا یار ہے۔

ہوسٹل میں کمرے کی صفائی پر بہت سختی کی جاتی تھی، ہر ہفتے ایک سٹوڈنٹ کمیٹی کمرے چیک کرتی، تب سٹوڈنٹس ہیٹر چھپا لیتے، جس کا کمرہ گندہ ہوتا اسے جرمانہ کی سزا ملتی، کمرے کا گند وغیرہ ایک بیگ میں ڈالتے اور پھر نیچے جا کر بڑے ڈرم میں پھینکتے، ہوسٹل کی عقبی سمت پر بڑا خالی میدان تھا، جس کے پار دائیں ہاتھ یونیوسٹی کی عمارت اور ڈیپارٹمنٹ تھے، کئی شرارتی سٹوڈنٹ کوڑے والا بیگ اٹھاتے، ہاتھ گھما کر باہر پھینک دیتے، ہوسٹل کی کمانڈنٹ بڑھی خرانٹ تھی، وہ جب ہوسٹل کے گرد چکر لگاتی اور کوڑے والا بیگ دیکھتی تو بہت شور مچاتی، دوستوں نے بتایا تھا کہ یہ راجہ سرمد کی فین تھی، اس کی خوب صورتی بتاتی تھی کہ جوانی میں مس سیمی رہی ہوگی۔

ایک واقعہ حشمت لغاری فرام ڈی جی خان نے سنایا، اس کی زبانی "ہم میڈم سلطنت کی کلاس میں تھے کہ کہیں سے اچانک ایک چوہا نمودار ہوا، میڈم کی چیخیں بلند ہوئیں اور وہ ٹیبل پر چڑھ گئی، آوازیں سن کر کمانڈنٹ دوڑی چلی آئی، چوہا دیکھ کر اس نے بھی چیخیں ماریں اور دوڑ لگا دی، اتفاق سے چوہا بھی اس کے پیچھے ہو لیا، وہ چیخیں مارتی کوریڈور میں دوڑ رہی تھی، اتفاق سے اس رات ہمارے کمرے میں بھی ایک چوہا آن نکلا، جوتے کا نشانہ باندھ کر مارا جو سیدھا چوہے کو جا لگا اور چوہا وہیں لم لیٹ ہوگیا، ایک شرارت سوجھی، ایک گفٹ باکس خریدا، چوہے کو اچھی طرح گفٹ ریپر میں پیک کرکے گفٹ باکس کے اندر رکھا، اس گفٹ باکس کو لال ریپر سے سجایا، کمانڈنٹ کا نام اس پر لکھا، جب اس کے کمرے کے پاس سے گزرے تو وہ دکھائی نہ دی، نظر بچا کر اس کی ٹیبل پر رکھ دیا، دوسرے رشین وارڈن کی نظر گفٹ باکس پر پڑی، جب کمانڈنٹ آئی تو اسے بتایا، گفٹ باکس دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئی، خوشی و تجسس سے اسے کھولا، جب ریپر اتارا تو مرا ہوا چوہا دیکھ کر اس کی چیخیں پورے ہوسٹل میں گونجیں، نتیجہ اسے بخار ہوگیا تھا اور وہ دو دن غائب رہی تھی"۔ یہ واقعہ ہم مزے لیکر سنتے تھے۔

فیصل شہزاد فرام گوجرانوالہ بڑے اعلیٰ درجے کا گلوکار تھا، یونیورسٹی کے ایک فنکشن پر اس کا گانا "پہلا نشہ پہلا خمار نیا پیار ہے نیا انتظار، کرلوں میں کیا اپنا حال اے دل بیقرار"۔ بڑا مشہور ہوا اور خوب داد پائی تھی، کمال کا سُر تال اس بندے کی آواز میں تھا، اس کا ڈائیلاگ تھا "انٹرٹینمنٹ، انٹرٹینمنت، انٹرٹینمنٹ"۔ یہ ڈائیلاگ اور اس کا انداز مجھے بڑا پسند تھا۔

Check Also

Youm e Yakjehti e Kashmir

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi