Bolti Aankhen Afsane Sunati Hain
بولتی آنکھیں افسانے سناتی ہیں

یولیا کی بک بک سننے کی بجائے ہم نے طے کیا کہ باہر جا کر ناشتہ کرتے ہیں، اجنبی شہر میں انجان رستوں پر خجل ہوتے بھوک نے دماغ کی بتی گُھما دی تھی، راستے ہم سے یوں روٹھے ہوئے تھے جیسے ہم نے ان کی جائیداد میں حصہ مانگ لیا ہو، جتنا بھی گھومتے، پھر اسی چرچ والے چوک پر آ کھڑے ہوتے، تھک ہار کر ہم وہیں بیٹھ گئے، ایک راہگیر کو روکا اور قریبی ریسٹورنٹ کا پتہ پوچھا، اُس نے بڑے آرام سے خزانے کا پتہ بتا دیا، "زیلونی بازار" یہ قریب تھا، لہذا طے پایا کہ چلو، آج قسمت کو سبزیوں پر ہی آزماتے ہیں۔
زیلونی بازار پہنچ کر حیرت کا جھٹکا لگا، بہت بڑا، صاف ستھرا اور ترتیب، ابھی آنکھیں بازار کی دلکشی پر حیران ہو رہی تھیں کہ دائیں جانب سے شاشلک کی اشتہا انگیز خوشبو نے ہمیں جادو کی طرح اپنی طرف کھینچ لیا، بھوک نے معدے میں نقارہ بجایا "پہنچ گئے، پہنچ گئے، مطلوبہ منزل پر پہنچ گئے"۔
سفید، بے داغ ایپرن پہنے، بالوں کو ربڑ بینڈ سے پیچھے باندھے خوب صورت رشین سیلز گرل ایک ہاتھ سے پنکھا جھلتی کوئلے دہکا رہی تھی، اس کی کارکردگی سے اندازہ ہوا کہ کوئلوں کی آگ سنبھالنا بھی آرٹ ہے، دوسرے ہاتھ میں سیخ تھامے شاشلک کو اوپر نیچے یوں ترتیب دے رہی تھی جیسے رقص کی ریہرسل کر رہی ہو، خاص بات یہ کہ لپ اسٹک کے بغیر بھی گلابی ہونٹ صبح کی کلیوں کی مانند دمک رہے تھے! چمکتی نیلی آنکھوں نے کبابوں کی خوشبو کو بھی چند لمحوں کے لیے مات دے دی، شاشلک سٹال بھوک اور جذبات کا ڈرامائی کلائمیکس تھا، میں نے معصومیت سے پوچھا، "یہ کون سا گوشت ہے؟"
سیلز گرل بڑے اطمینان سے بولی، "مٹن!"، اُس وقت عقل نے بھوک کے سامنے ہتھیار ڈال رکھے تھے لہذا قیمت پوچھنے کی زحمت کئے بغیر تین شاشلک کا آرڈر دے ڈالا، اُس نے ایک دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ ہلکا سا سر ہلایا اور پچھلی طرف رکھی میز و کرسیوں کی طرف اشارہ کیا، افتی نے اُدھر قدم بڑھائے، لیکن میرے قدم وہیں زمین پر جُڑ گئے، رانا کاشف نے بھی وفاداری نبھاتے ہوئے قدم روک لیے۔
وہ بظاہر ایک عام لڑکی لگ رہی تھی، جیسے شاشلک بیچنا اُس کیلئے روزمرہ کام ہو، لیکن اُس کے چہرے پر ایک گہرا سکوت تھا، میری چھٹی حِس بتا رہی تھی کہ اس کے دل کی گہرائیوں میں کوئی ادھوری کہانی دفن تھی، وہ کوئلے دہکانے میں مشغول لیکن میں اُس کے چہرے کی تحریر پڑھنے کی ناکام کوشش میں مبتلا تھا، شاشلک سے زیادہ میں اس کی کہانی سننے کا متمنی تھا، نظریں جھکائے کوئلے دہکاتے اس نے اچانک پلکیں اُٹھا کر ہماری طرف دیکھا، آنکھیں چار ہوئیں، جھیل جیسی گہری نیلی آنکھوں میں ایسا حُزن و ملال تھا کہ ایک لمحے کے لیے جیسے وقت تھم گیا، سارا بازار دھند میں ڈوب گیا اور ہم اُس نظر کی قید میں آ گئے۔
رانا کاشف کے دل سے ایک فلسفیانہ فقرہ برآمد ہوا، "کسی ناکام محبت کا درد ان آنکھوں میں پوشیدہ ہے۔ " اڑے سائیں، یہ کیا کہہ دیا؟ جیسے ہی یہ الفاظ محترمہ کے کانوں تک پہنچے، فقرہ اُس کے دل پر ایٹم بم کی طرح گِرا، پنکھا جھلتے ہاتھ ساکت ہوگیا اور آنکھوں کے کناروں پر نمی کی جھلک اُبھر آئی، نتائج بتا رہے تھے کہ ایک جملے نے ضبط کا بند دروازہ کھول دیا اور اندر چھپے سارے زخم بہہ نکلے، وہ لمحہ محض دو یا تین سیکنڈ پر محیط تھا، لیکن اُس کی سانس کی تھرتھراہٹ، سسکی کی مدھم گونج، سب کچھ بہت واضح تھا، ہم نے ایک لو اسٹوری کی آخری قسط میں قدم رکھ دیا تھا، اُس پل وہ سیلز گرل نہیں، بلکہ سینڈریلا لگ رہی تھی جس کا جوتا کسی اور لڑکی کے پاؤں میں فِٹ ہوگیا اور شہزادہ کہیں دُور جا چکا تھا، ہمارے دلی جذبات اور کوئلوں کا دھواں ایک ساتھ بلند ہو رہے تھے۔
بقول استاد نصرت فتح علی خاں۔۔
یہ بولتی آنکھیں افسانے سناتی ہیں
رکھتی ہیں زباں جیسے اے یار تیری آنکھیں
یک لخت کوئلوں نے ناخوشگوار دُھواں اُگلا، وہ دلکش اداکاری کے انداز میں دھویں سے بچنے کی کوشش کرنے لگی لیکن نامعقول دُھواں اس کی آنکھوں میں چلا گیا تھا، ہماری نظریں بھانپ چکی تھیں کہ یہ آنسو صرف دُھویں کی دین نہیں ہیں، بلکہ دل کے کسی گہرے زخم کی بارش تھی، شاشلک بیچنے والی لڑکی زمینی جنت کی حور تھی جو قسمت کی ستم ظریفی سے زیلونی بازار میں کوئلوں کی آگ دہکا رہی تھی، ورنہ بھلا کم سن عمر کی رشین لڑکیاں کہاں کوئلوں کے پاس کھڑی ہوتی ہیں، وہ تو ناز و ادا کے تیر چلا کر دلوں کو بھسم کرنے میں ماہر سمجھی جاتی ہیں! یہ لڑکی تو کسی اور ہی رومانوی داستان کی نائکہ لگ رہی تھی جس میں پہلا پیار اور بے وفائی کے سارے رنگ گُھلے ہوئے تھے۔
ہم اُس کے دل کے زخموں کی گہرائی ماپ ہی رہے تھے کہ اُس نے ایک بار پھر کرسیوں کی طرف اشارہ کیا، گویا تہہ دل سے کہہ رہی ہو، "جاؤ، میرے زخموں کی گہرائی ماپنے کی بجائے، وہاں جا کر تشریف رکھو۔ " اُس خاموش "ہدایت" میں ایسا دبدبہ تھا کہ ہمیں مجبوراً اُس حکم کی تعمیل کرنا ہی پڑی۔
ہم جیسے ہی کرسیوں پر بڑی شان سے بیٹھے، افتی نے چھوٹتے ہی سوال داغ دیا، "کچھ خاص نوٹ کیا؟"
میں نے گہرے فلسفیانہ انداز میں کہا، "ہاں، اُس کے چہرے پر ایک خاص کشش ہے لیکن آنکھوں میں گہرا دُکھ چھپا ہے"۔
رانا کاشف کھلکھلا کر ہنسا اور رومانی فضا میں کارٹون نیٹ ورک ڈال دیا، "چھوڑ یار، ناشتہ کرکے چلتے ہیں، یہاں ہر کسی کے ساتھ کوئی نہ کوئی کہانی وابستہ ہے، یہ زیلونی بازار کسی بلیک اینڈ وائٹ فلم کا سیٹ ہے، یہاں ہر شخص دل شکستہ ہے"۔
افتی نے بات کو مزید چٹپٹا بناتے کہا، "سیمی سے سیر و تفریح کرنے آئے تھے اور پھوپھی کی بیٹی سے ملاقات ہوگئی"۔ اس سے پہلے کہ دوست احباب قلبی وارداتوں کا تجزیہ کرتے شاشلک کے ہمراہ جذبات کی بھی چٹنی بناتے، غیبی مدد آن پہنچی اور سیلز گرل نے شاشلک، بریڈ اور سلاد لا کر ٹیبل پر شاہی دعوت جیسے انداز سے سجایا اور دھیمے لہجے میں پوچھا "مزید کچھ؟" اتنی سادگی اور معصومیت تھی اس سوال میں کہ دل کیا، کہ دوں، "ہاں، تمہاری ادھوری کہانی اور تین کپ کڑک چائے، چینی روک کر اور پتی ٹھوک کر، مستند ٹرک ڈرائیور والی ہدایت یافتہ چائے"۔ مگر میں نے ذرا سنجیدہ ہو کر گھاگ صحافی مانند اس فلمی ہیروئن کی زندگی کے پوشیدہ راز جاننے کیلئے کہا "اگر آپ برا نہ منائیں تو کیا ایک ذاتی سوال پوچھ سکتا ہوں؟"
لڑکی نے بڑی سنجیدگی سے میری آنکھوں میں دیکھا اور "پہلے شاشلک کھا کر بتاؤ، اس کے بعد سوال وجواب"۔ ایسا عقلمندانہ جواب دیا کہ میں خود کو ٹاک شو میں محسوس کرنے لگا، میرے دل نے کہا، "واہ بی بی، عقل اور حسن دونوں کیفیات کا حسین امتزاج ہو تم"۔
خیر، ہم نے شاشلک سے بھرپور انصاف کیا، بل ادا کرتے وہی سوال چھیڑ دیا، "کیا اب میں سوال پوچھ سکتا ہوں؟" لڑکی نے نیم دلی سے اثبات میں سر ہلایا، جیسے اجازت دے کر بھی کہہ رہی ہو، "پوچھ لو، مگر جواب تمہارے ہوش اڑا دے گا"۔
میں نے ایک گہرا سانس لیا اور پورے رومانوی انداز میں پوچھا، "تمہاری آنکھیں اتنی گہری کیوں ہیں؟" مجھے لگا کہ پس منظر میں محبتیں فلم کی پُراثر دھن چلے گی، لیکن لڑکی نے پلٹ کر ایسا باؤنسر مارا کہ میں لاجواب ہوگیا! الٹا سوال پھینک دیا، "تمہیں میری آنکھوں میں کیا نظر آتا ہے؟"
میں ہکّا بکّا رہ گیا، خود کو سنبھالتے اُس کی آنکھوں میں جھانکا، نیلگوں آنکھوں میں بظاہر خاموشی، مگر اندر کوئی طوفان، مدھم آواز میں میرے ہونٹوں سے پھسلا "درد" اور لڑکی نے ایک ایسی مسکراہٹ دی جو زخموں پر مرہم اور نمک دونوں کا کام کر رہی تھی۔
"تم نے شائد کبھی پیار نہیں کیا" سرد پڑتے کوئلوں پر پنکھا جھلتے ہلکی سی اداس مسکان اس کے لبوں پر نمودار ہوئی، یہ جملہ تھا یا جذباتی طمانچہ؟ میں وہیں منجمد ہوگیا، جیسے کسی نے کہہ دیا ہو، "بیٹا، تم ابھی اس کھیل میں نئے ہو"۔
میں نے اُس کی بات کی تصدیق کی، سر جھکا لیا جیسے محبت نہ کرنے کا اعتراف ایک جرم ہو، دل چاہا کہ مزید بات کروں، اُس کی اداسی کی گہرائی ناپوں، مگر اُس نے خود کو سنبھالتے ایٹم بم پھوڑ دیا "ان آنکھوں میں پیار کا درد بسا ہے"۔ میں مزید سوال کرنے والا تھا کہ افتی نے ڈرامے کے بیچ "کٹ" بول دیا، وہ ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کرتا اُٹھا اور بولا "کھانا اچھا تھا، چلو یار، اب چلتے ہیں"۔ چلتے چلتے پلٹ کر میں نے دیکھا کوئلے دہکاتے وہ نیم وا آنکھوں سے ہماری طرف ہی دیکھ رہی تھی، نالائق دوستوں کی عجلت کے باعث اُن اداس آنکھوں میں بسی پریم کہانی سننے سے ہم محروم رہ گئے تھے۔

