Narmi Aur Hikmat, Tableegh Ka Sunehri Usool
نرمی اور حکمت، تبلیغ کا سنہری اصول

خاندانوں کی روایات اور خاندانی مزاج انسانی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ گوہرآباد میں ہمارا خاندان اصول پرستی اور سخت مزاجی کے لیے معروف ہے۔ ہمارے دادا جان ایک مضبوط اور اصولی شخصیت کے حامل تھے، انہی اصولوں کی خاطر زندگی بھر تکالیف اٹھائی لیکن کبھی کسی کے سامنے جھکے نہیں اور نہ ہی کمپرومائز کیا اور یہی سختی ہمارے والد محترم، تایا جان عذر خان اور چچا مولانا موسی ولی خان کے مزاج میں بھی نمایاں ہے۔ اس خاندانی اثر کے تحت ہم میں بھی فطری سختی دُر آئی ہے، تاہم تدریس اور تبلیغ دین اور تحریر و تقریر میں میرا ذاتی طریقۂ کار ہمیشہ نرمی اور شفقت پر مبنی رہا ہے اور اس سے بڑے فوائد حاصل ہورہے ہیں۔
گزشتہ پندرہ سال سے تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوں اور اس دوران میرا کوئی شاگرد، چاہے وہ مدرسے کا ہو یا کالج کا، مجھ سے ناراض نہیں ہوا۔ میں طلبہ کے ساتھ دوستانہ تعلق رکھتا ہوں اور ہمیشہ ان سے جڑے رہنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میرے تلامذہ کی اکثریت مجھے سے رابطے ہے۔
یہی اصول سوشل میڈیا اور تبلیغی و ابلاغی سرگرمیوں میں بھی اختیار کیا ہے کہ سختی کی بجائے نرمی اور دلائل سے کام لیا جائے۔ ہر ایک کی رائے اور بیانیہ کا احترام کے ساتھ، اپنی بات بھی منوائی جائے۔
رمضان المبارک کے آخری عشرے میں سہہ روزہ لگانے کا معمول رہا ہے۔ اس بار بھی ایک تجربہ ہوا جو غور و فکر کا باعث بنا۔ گلگت کے ایک پوش علاقے میں تشکیل ہوئی، جہاں مسجد کے نمازیوں کی اکثریت تبلیغی جماعت کے ساتھ جُڑنے سے کتراتی تھی اور کچھ شکوک و شبہات رکھتی تھی۔ اتفاقاً، خطیب صاحب نے، جمعۃ الوداع کے بیان کی ذمہ داری مجھے دی۔ میں نے "حقوق القرآن" پر گفتگو کی، قرآن کریم کا تیسرا حق تدبر اور تفسیرِ قرآن کی ضرورت کو خوب اجاگر کیا اور اردو کی معتبر تفاسیر کے حوالے دیے اور ہر تفسیر کی مختصر اہمیت اور ذوق کا ذکر بھی کیا اور مفسرین کے کام کو سراہا۔
میرے اس بیان کا حیرت انگیز اثر ہوا کہ اگلے ہی مرحلے کئی ذمہ دار افراد بیان میں بیٹھنے لگے اور مجھ سے مکالمہ بھی کرتے رہے، یوں تبلیغی سلسلے میں دلچسپی بڑھ گئی۔ اس تجربے نے ایک اہم نکتہ واضح کیا کہ تبلیغ دین میں سختی اور شدت سے زیادہ نرمی اور حکمت کی ضرورت ہے۔
تبلیغ میں حکمت اور نرمی کی قرآنی اور نبوی تعلیمات ہم سب کے سامنے عیاں ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اُدُعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالُحِكُمَةِ وَالُمَوُعِظَةِ الُحَسَنَةِ وَجَادِلُهُم بِالَّتِي هِيَ أَحُسَنُ" (النحل: 125)
ترجمہ: "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے ایسے طریقے سے بحث کرو جو بہترین ہو"۔
یہ آیت تبلیغ کے بنیادی اصول واضح کرتی ہے کہ حکمت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ دین کی دعوت دی جائے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت میں بھی یہ نرمی اور حکمت نمایاں نظر آتی ہے۔ جب آپ ﷺ کو طائف میں اذیت دی گئی، تب بھی آپ نے ان لوگوں کے حق میں دعا کی اور سختی اختیار نہیں کی۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: "إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفُقَ فِي الأَمُرِ كُلِّهِ" (صحیح البخاری: 6024)
ترجمہ: "بے شک اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے"۔
تبلیغی جماعت ایک عظیم دینی تحریک ہے، مگر بعض مواقع پر ہمارے ساتھی غیرضروری سختی برتتے ہیں، جو لوگوں کو قریب کرنے کی بجائے دور کردیتی ہے۔ بعض اوقات مخصوص نظریاتی لیبل لگا کر دوسروں کو دین سے خارج سمجھا جاتا ہے، جو نہ صرف غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے بلکہ تبلیغی اثر کو بھی کمزور کرتا ہے۔ تبلیغ میں سختی کی بجائے محبت، نرمی اور انبیاء کے اسلوب کو اپنانا زیادہ مؤثر ہوگا۔
اللہ کے نبی موسیٰؑ کو فرعون جیسے ظالم بادشاہ کے پاس بھیجا گیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "فَقُولَا لَهُ قَوُلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوُ يَخُشَىٰ" (طٰہٰ: 44)
ترجمہ: "اس سے نرم بات کرنا، شاید وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈر جائے"۔
جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو فرعون جیسے ظالم بادشاہ کے سامنے نرمی اختیار کرنے کا حکم دیا تو ہمیں عام لوگوں کے ساتھ کس قدر نرمی برتنی چاہیے؟ اس کا ہمیں بخوبی اندازہ ہونا چاہیے۔ تبلیغ کے کام کو ایک روٹین ورک سمجھ کر، محض فارمیلٹیز پوری کرکے، اس کی اثرنگیزی کو ختم نہ کیا جائے اور نہ ہی اس کو محدود کیا جائے۔
تبلیغ کام اور دعوت دین میں بہتری کے لیے عام داعی حضرات کے لیے چند تجاویز ذہن میں آرہی ہیں، ان پر عمل کرنے سے بہتری کی راہیں کھل جائیں گی ان شا اللہ۔
1۔ نرمی اور حکمت اپنائیں:
سختی اور طنز کے بجائے نرمی اور محبت کے ساتھ دعوت دی جائے۔ دوسروں کو کم تر سمجھنے سے کبھی بھی کام میں بہتری نہیں آسکتی، ہمارے تبلیغی ساتھی تو اس عالم کو بھی کم تر اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس نے جماعت میں سال نہ لگایا ہو۔ تبلیغ کا کام محبت کا متقاضی ہے اور یہ محبت بھی عمومی انسان سے ہو نہ کہ مخصوص لیبل لگانے والو سے۔ داعی کو اس کا خاص خاص رکھنا چاہیے۔
2۔ قرآن و حدیث پر مبنی بیان:
تبلیغی بیانات میں غیرضروری قصے کہانیوں کے بجائے قرآن و حدیث کے دلائل کو ترجیح دی جائے۔ مجھے بیسویں بار جماعت کے ساتھیوں سے انتہائی غیر ضروری بلکہ بعض قصے کہانیاں تو واضح دینی تعلیمات و عقائد کے خلاف سننے کو ملی ہیں۔ اس عمل سے بھی سامعین میں پڑھا لکھا اور صاحب مطالعہ شخص تبلیغی کام کے قریب ہونے کی بجائے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ حالات یہ پیدا ہوئے ہیں کہ لوگ فضائل اعمال و صدقات کی احادیث پر گفتگو کرنے لگے ہیں تو آپ مسجد میں کھڑے ہوکر مافوق الفطرت اور تکوینی امور والی باتیں کرنے لگیں گے اور انہیں ہم جیسے عام انسانوں سے ثابت کرنے کے دلائل اور قصے کہانیاں تراشیں گے تو لوگ قریب ہونے کے بجائے دور ہونگے۔
3۔ مختلف دینی مسالک کے افراد کو قریب کریں:
تبلیغی جماعت کے ساتھیوں کو چاہیے کہ اپنے دائرے کو وسیع کرے اور دیگر اہلِ علم و فکر کو بھی اپنے ساتھ جوڑے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مسجد اور محلے میں موجود دیگر مکاتبِ فکر و خیال کے افراد کو طنزیہ انداز میں دیکھا جائے اور ان پر ہرحال میں اپنا لیبل چسپاں کریں۔ اس ہتھک آمیز رویے سے باہر نکل کر براڈ مائنڈ ہوکر دین بتلایا جائے تو لوگ جُڑیں گے ورنا ٹوٹنا بلکہ لوگوں کو دور ہونا لازم ہے۔
4۔ عملی زندگی میں دین کا نمونہ پیش کریں:
محض گفتار کی بجائے کردار کے ذریعے دین کی خوبصورتی پیش کی جائے تو بھی کام بنے گا۔ تبلیغی جماعت میں اکرام مسلم اور اعمال صالحہ پر زور دیا جاتا ہے اور عمومی طور اعمال صالحہ اور اکرام مسلم میں، تبلیغی ساتھیوں میں کمزوری پائی جاتی ہے۔ ان کے ہاں مسجد میں آنا عمل صالحہ اور تبلیغی جماعت کو کھانا کھلانا اکرام مسلم کہلاتا ہے، حالانکہ اعمال صالحہ اور اکرام مسلم کا مفہوم اور مطلب بہت وسیع ہے نہ کہ یہ دو باتیں۔ اکرام مسلم سے ایک قدم بڑھ کر اکرام انسان کرنا ہوگا تب انسان دین کے ساتھ بھی جڑیں گے اور جماعت کے ساتھ بھی۔
ہمارے تبلیغی جماعت کے ساتھیوں کو چاہیے کہ نرمی، حکمت اور عملی نمونہ اختیار کریں، تو دین کی دعوت زیادہ موثر ثابت ہوگی اور لوگ بگڑنے کی بجائے جڑنے لگیں گے۔ اللہ ہمیں نرمی، حکمت اور بصیرت کے ساتھ دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔