Trump, Shutr e Be Mahar
ٹرمپ، شترِ بے مہار

امریکی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسا نام بن چکا ہے جو صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے حیرت، تشویش اور اضطراب کا باعث ہے۔ ان کے حالیہ بیانات اور اقدامات یہ واضح کرتے جا رہے ہیں کہ وہ واقعی امریکہ کے لیے وہی کردار ادا کرنے جا رہے ہیں جو کبھی سوویت یونین کے لیے میخائل گورباچوف نے ادا کیا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ گورباچوف نے اصلاحات کے نام پر ایک سلطنت کو اندر سے کمزور کیا، جبکہ ٹرمپ طاقت، غرور اور انا کے بل بوتے پر امریکہ کو خود اپنے ہی ہاتھوں عدم استحکام کی طرف دھکیلتے دکھائی دیتے ہیں۔
وینزویلا کے معاملے کو ہی لے لیجیے۔ ایک خودمختار ملک کے منتخب صدر اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیڈروم سے اغوا کرنے کی کہانی، پھر خود کو وینزویلا کا قائم مقام صدر تسلیم کر لینا اور اس ملک کے تیل کو اپنی جاگیر سمجھنے کا طرزِ فکر یہ سب کچھ بین الاقوامی قوانین، اخلاقیات اور سفارتی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ دنیا نے اس پر کیا ردِعمل دیا، سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ واقعی اسی راستے پر چل رہا ہے جہاں طاقت کو قانون اور خواہش کو اصول بنا لیا گیا ہو؟
ٹرمپ کی نظر صرف وینزویلا تک محدود نہیں رہی۔ میکسیکو کے ساتھ دیوار، گرین لینڈ کو خریدنے کی خواہش اور اب تو کینیڈا جیسا قریبی اتحادی بھی ان کے نشانے پر ہے۔ یہ کہنا کہ "کینیڈا امریکہ کی اکاون ویں ریاست بنے گا اور کینیڈین عوام اس فیصلے پر خوش ہوں گے"، محض سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک ایسی ذہنیت کی عکاسی ہے جو دنیا کو شطرنج کی بساط سمجھتی ہے اور ممالک کو مہرے۔
یہاں پاکستانی فلمی دنیا کا وہ مشہور گیت یاد آتا ہے:
"انوکھا لاڈلا، کھیلن کو مانگے چاند"
ٹرمپ واقعی دنیا کا وہی انوکھا لاڈلا بن چکا ہے جسے ہر وہ چیز چاہیے جو اس کی خواہش میں آ جائے، خواہ وہ کسی اور کی ہو، کسی ملک کی ہو یا کسی قوم کی خودمختاری ہو۔
کراچی کی سیاست میں ایک زمانے میں ایک جماعت کے رہنما کا ایک مخصوص جملہ بڑا مشہور تھا۔ جس شخص کو وہ ناپسند کرتے، اس کے بارے میں کہتے: "کل مجھے اس کی فاتحہ پڑھنی ہے" اور حیرت انگیز طور پر اگلے دن اس کے گھر کے باہر سفید ٹینٹ لگا ہوتا، لوگ بیٹھے مرحوم کے اوصاف بیان کر رہے ہوتے کہ "بہت اچھے انسان تھے"۔
آج عالمی سیاست میں ٹرمپ بھی کچھ اسی انداز میں کردار نبھا رہے ہیں۔ جس ملک، ادارے یا معاہدے کو وہ ناپسند کرتے ہیں، اس کے سیاسی جنازے کی تاریخ خود ہی مقرر کر دیتے ہیں۔
اگر ٹرمپ کو فلمی کرداروں میں ڈھالا جائے تو وہ مولا جٹ کے نوری نتھ (مصطفیٰ قریشی)، پڑوسی ملک کی شہرۂ آفاق فلم شعلے کے گبر سنگھ، یا 1995 کی ہالی ووڈ فلم DESPERADO کے ولن بوچو (Bucho) سے کم نظر نہیں آتے۔ ایک ایسا کردار جو اپنی طاقت کے نشے میں ہر حد پار کرنے کو تیار ہو، جسے نہ قانون کا خوف ہو اور نہ انجام کا احساس۔
لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت کا غرور ہمیشہ دیرپا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی شان بھی نرالی ہے۔ وہ چاہے تو دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے سب سے طاقتور انسان سے ہی اس کے زوال کا سامان پیدا کر دے۔ جیسے فرعون کے گھر میں، اس کی قابلِ احترام زوجہ حضرت آسیہؓ کے ذریعے، حضرت موسیٰؑ کی پرورش کروائی گئی وہی موسیٰؑ جو آگے چل کر فرعون کے اقتدار کے خاتمے کا ذریعہ بنے۔
آج امریکہ کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم، نسلی کشیدگی، ادارہ جاتی کمزوری اور عالمی سطح پر تنہائی اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ ٹرمپ کا دور محض ایک شخص کا دور نہیں بلکہ ایک پورے نظام کے امتحان کا نام ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ کب تک اقتدار میں رہیں گے، اصل سوال یہ ہے کہ ان کے بعد امریکہ کی شکل کیا ہوگی؟
تاریخ کا ایک بے رحم اصول ہے: جب طاقت عقل سے آزاد ہو جائے تو زوال مقدر بن جاتا ہے۔ ٹرمپ شاید خود کو تاریخ کا فاتح سمجھتے ہوں، مگر بعید نہیں کہ آنے والی نسلیں انہیں اس شخص کے طور پر یاد رکھیں جو امریکہ کے لیے گورباچوف ثابت ہوا فرق صرف یہ ہوگا کہ یہاں سامراج باہر سے نہیں، اندر سے ٹوٹا۔

