Tibbi Dehshat Gardi Aur Maghrabi Media
طبی دہشت گردی اور مغربی میڈیا

میں اس سے قبل "روحانی دہشت گردی اور مغربی میڈیا" کے عنوان سے ایک کالم لکھ چکا ہوں، جس میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ کس طرح طاقتور بیانیے کمزور آوازوں کو دبا دیتے ہیں۔ آج جس موضوع پر قلم اٹھایا جا رہا ہے، وہ اس سے بھی زیادہ سنگین اور تشویشناک ہے اور وہ ہے "طبی دہشت گردی" ایک ایسی دہشت گردی جو بم اور بندوق سے نہیں بلکہ سفید کوٹ، اختیار اور اعتماد کی آڑ میں کی جاتی ہے۔
حالیہ دنوں میں برطانیہ میں سامنے آنے والی ایک تحقیق نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ وکٹ شائر پولیس اور اسکائی نیوز کی رپورٹس کے مطابق، پانچ سو سے زائد افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانوی فوجی میڈیکل معائنوں کے دوران ان کے ساتھ جنسی بدسلوکی یا غیر اخلاقی سلوک کیا گیا۔ یہ واقعات چند برسوں تک محدود نہیں بلکہ بعض شواہد کے مطابق 1970 کی دہائی سے 2016 تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ انکشاف اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا یہ محض ایک قومی اسکینڈل ہے یا ایک عالمی مسئلے کی جھلک؟
حقیقت یہ ہے کہ طبی معائنے کے دوران جنسی بدسلوکی کوئی نیا یا کسی ایک ملک تک محدود رجحان نہیں۔ یہ طاقت، اختیار اور خاموشی کے اس گٹھ جوڑ سے جنم لیتی ہے جہاں مریض یا امیدوار خود کو کمزور اور معائنہ کرنے والے کو مکمل بااختیار محسوس کرتا ہے۔ جب اعتماد کو ہتھیار بنا لیا جائے تو یہ صرف اخلاقی انحطاط نہیں بلکہ کھلی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور سنگین فوجداری جرم بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے محض "بدسلوکی" نہیں بلکہ طبی دہشت گردی کہنا زیادہ درست ہے۔
برطانیہ کا کیس اس لیے نمایاں ہو کر سامنے آیا کہ وہاں میڈیا نسبتاً آزاد ہے، رپورٹنگ کے نظام میں شفافیت موجود ہے اور متاثرین کو کسی حد تک بولنے کا موقع میسر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعداد و شمار منظرِ عام پر آئے اور ریاستی ادارے دفاعی پوزیشن میں نظر آئے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ یہی مغربی میڈیا، جو دنیا کو انسانی حقوق کے اسباق پڑھاتا ہے، اکثر ایسے معاملات کو عالمی سطح پر اسی شدت سے اجاگر نہیں کرتا جس شدت سے وہ مشرقی یا مسلم دنیا کے واقعات کو اچھالتا ہے۔ یہاں سوال جرم کا نہیں، بیانیے کے کنٹرول کا ہے۔
اگر امریکہ کی طرف نظر دوڑائی جائے تو وہاں بھی فوج اور صحت کے نظام میں جنسی بدسلوکی کے واقعات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ امریکی فوج کی اپنی رپورٹس کے مطابق ہر سال ہزاروں شکایات درج ہوتی ہیں جن میں جنسی ہراسانی اور زیادتی شامل ہے۔ متعدد فوجی ڈاکٹروں اور طبی اہلکاروں کے خلاف فوجداری کارروائیاں ہو چکی ہیں، بعض کو سزائیں بھی دی گئیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان معاملات کو اکثر انفرادی واقعات بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ ادارہ جاتی ذمہ داری پر کم ہی بات ہوتی ہے۔
یورپ کے دیگر ممالک، جیسے جرمنی، فرانس، اسپین اور اسکینڈینیوین ریاستوں میں بھی فوجی اور سویلین اداروں میں جنسی بدسلوکی کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ اگرچہ بظاہر ان کیسز کی تعداد کم دکھائی دیتی ہے، مگر ماہرین کے مطابق اصل وجہ کم رپورٹنگ، سماجی دباؤ اور ادارہ جاتی خاموشی ہے۔ بہت سے متاثرین خوف، شرم یا مستقبل کے خدشات کے باعث کبھی سامنے ہی نہیں آ پاتے۔
عالمی سطح پر اقوامِ متحدہ کے امن مشنز بھی اس الزام سے مبرا نہیں رہے۔ افریقہ اور کیریبین میں تعینات بعض امن دستوں پر خواتین اور حتیٰ کہ بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔ یہ اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب وردی، طاقت اور اختیار احتساب سے آزاد ہو جائیں تو وہ "تحفظ" کے بجائے "خوف" کی علامت بن جاتے ہیں۔
اسلام اس پورے طرزِ عمل کی غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اسلام میں انسانی جسم کی حرمت، عزتِ نفس اور رضامندی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کسی انسان کو جسمانی یا ذہنی تکلیف دینا حرام ہے۔ طبی معائنہ ہو یا علاج، اسلام میں اس کے لیے واضح اخلاقی حدود مقرر ہیں۔ بلا ضرورت جسم کو چھونا، خلوت میں معائنہ کرنا، یا اعتماد کا غلط استعمال کرنا صریحاً حرام اور قابلِ سزا جرم ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق طاقتور کو کمزور کے سامنے جواب دہ ہونا ہی اصل عدل ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ برطانیہ کا حالیہ انکشاف محض ایک اسکینڈل نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک وارننگ ہے۔ یہ یاد دہانی ہے کہ جنسی بدسلوکی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کا حل بھی عالمی سطح پر شفافیت، احتساب، اسلامی و اخلاقی اقدار اور متاثرین کی آواز کو مرکزیت دینے میں ہی پوشیدہ ہے۔
خاموشی جرم کو طاقت دیتی ہے، جبکہ سچ کا سامنا ہی اصلاح کی پہلی سیڑھی ہے۔

