Sunday, 22 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. Qaumi Khel Ka Faisla Kun Mor

Qaumi Khel Ka Faisla Kun Mor

قومی کھیل کا فیصلہ کن موڑ

پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جس کا قومی کھیل ہاکی ہے، مگر ہماری قوم کی ترجیحات کچھ اور ہی دکھائی دیتی ہیں۔ ہم وہ کھیل کھیلنے کو ترجیح دیتے ہیں جو ہمارے آقاؤں نے بنایا، یا وہ کھیل جو ہمارے سابق حکمران اور گورے عہدیدار کھیلتے تھے۔ جی ہاں، میرا اشارہ کرکٹ کی طرف ہے، جسے برطانیہ نے ایجاد کیا اور جسے آج بھی وہاں "روایتی قومی کھیل" سمجھا جاتا ہے۔

کرکٹ صدیوں سے اسکولوں، کالجوں اور کلبوں میں کھیلتی آئی ہے۔ میڈیا اور اسپانسرشپ کا مضبوط نظام ہے اور ہر کھلاڑی کو معاشرتی طور پر عزت دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، ہمارا قومی کھیل ہاکی کبھی دنیا کے لیے پاکستان کی پہچان تھا۔ پاکستان نے ہاکی میں تین اولمپک گولڈ میڈلز (1960,1968,1984)، چار ورلڈ کپ ٹائٹلز (1971,1978,1982,1994) اور متعدد ایشین گیمز اور چیمپئنز ٹرافی کے اعزازات جیتے۔ ان دوروں میں ہمارے کھلاڑی دنیا کے لیے رول ماڈل تھے۔

لیکن رفتہ رفتہ ہاکی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کی آپس کی لڑائی میں سب سے زیادہ نقصان کھلاڑیوں کو ہوا۔ اس دفعہ آسٹریلیا کے دورے نے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔

پاکستان ہاکی ٹیم نے حال ہی میں FIH پرو لیگ میں حصہ لیا۔ ٹیم کو لاہور سے 2 فروری 2026 کو روانہ ہونا تھا، لیکن ویزا اور انتظامی تاخیر کے باعث پرواز 5 فروری 2026 تک ملتوی رہی۔ ٹیم نے 7 فروری 2026 کو ہوبارٹ، آسٹریلیا میں پرو لیگ ایونٹ شروع کیا۔ 6 سے 14 فروری تک ٹیم نے مختلف انتظامات کے تحت رہائش اختیار کی، جس دوران کھلاڑیوں کو کئی احتجاجات اور رہائش کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

اس دوران پاکستان نے آسٹریلیا اور جرمنی کے خلاف چار میچز کھیلے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ ٹیم نے ایک بھی میچ نہیں جیتا، جبکہ انتظامی مسائل نے کھلاڑیوں پر اضافی دباؤ ڈالا۔ یہ سب تنظیمی اور انتظامی ناکامی تھی، نہ کہ کھلاڑیوں کی غلطی۔

کھلاڑیوں نے کھل کر شکایات کیں کہ ہوٹل کی بُکنگ درست نہ ہوئی، سڑکوں پر انتظار، کم معیار کی رہائش، اپنا کھانا بنانا، حتیٰ کہ برتن دھونے پڑے۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ اور ہاکی فیڈریشن ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں کہ ٹکٹ، ویزا، ہوٹل اور الاؤنس کے انتظامات درست نہیں کر سکے۔ لاہور پہنچنے پر کپتان عماد بٹ نے کھل کر کہا کہ حالات بہت خراب تھے اور ٹیم کا مورال شدید متاثر ہوا۔

حکومت نے انکوائری کا حکم دیا اور وزیر اعظم نے تمام حقائق جاننے کے لیے تفتیش کا اعلان کیا۔ اس کے بعد فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی نے استعفیٰ پیش کیا اور محی الدّین احمد وانی کو ایڈ ھاک صدر کے لیے نامزد کیا گیا۔

اب کھیل کے حالات بدلنے لگے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور طاقتور سیاسی شخصیت محسن نقوی نے خود ہاکی کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ لاہور میں کھلاڑیوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے نہ صرف کھلاڑیوں کے آنسو پونچھے بلکہ ہر کھلاڑی کو دس دس لاکھ روپے کے چیک بھی دیے۔ یہ اقدام کھلاڑیوں کے مورال اور مستقبل کے لیے ایک مضبوط اشارہ ہے۔

محسن نقوی نے حال ہی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو بھی دباؤ میں لا کر فیصلہ کروا دیا، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پڑوسی اسلامی ملک بنگلادیش کو بھی فائدہ پہنچا۔ انہوں نے اپنی چالاکی اور سیاسی بصیرت سے خود کو شطرنج کا ماھر کھلاڑی ثابت کیا اور بھارت جیسے پڑوسی ملک کو حیرت میں ڈال دیا۔

پاکستانی ہاکی کے لیے یہ ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ اگر محسن نقوی جیسے بازیگر کھلاڑیوں اور کھیل کے مستقبل کے لیے سنجیدہ ہیں تو یہ وہ وقت ہے جب پاکستان ہاکی دوبارہ اپنے عروج پر پہنچ سکتی ہے۔ ہاکی کی تاریخ ہمارے قومی وقار کی عکاسی کرتی ہے اور اب یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اسے دوبارہ دنیا کے نقشے پر فخر کے ساتھ لے کر آئیں۔

Check Also

Hospital Ki Dehleez Par Tawajo Ki Dastak

By Javed Ayaz Khan