Sunday, 08 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. Maghrib Ka Makrooh Chehra Aur Jeffrey Epstein

Maghrib Ka Makrooh Chehra Aur Jeffrey Epstein

مغرب کا مکروہ چہرہ اور جیفرے ایپسٹین

آجکل دنیا کے ہر اخبار، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا اور ڈرائنگ رومز میں ایپسٹین فائلز کے بڑے چرچے ہیں تو آئیے ھم بھی چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ جو ہماری نسلیں مغربی معاشروں کے بارے میں اکثر خواب دیکھتی ہیں۔ فلمیں، میوزک، فیشن اور سوشل میڈیا ہمارے ذہنوں میں ایک روشن اور آزاد دنیا کی تصویر بساتے ہیں، اس دنیا کی گھناؤنی حقیقت کیا ہے اور یہ جنریشن Z کے لئے ایک سبق بھی ہے، کہ مغرب کے اخلاقی دعوے اور انسانی حقوق کی باتیں صرف ایک پردہ ہیں، جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ طاقتور افراد اپنی خواہشات پوری کرنے کے لیے ہر حد سے گزرتے ہیں۔

یہاں اسلام کی تعلیمات ہمیں واضح رہنمائی دیتی ہیں۔ قرآن اور احادیث میں نوجوانوں، بچوں اور خواتین کے حقوق کی حفاظت کو بنیادی فرض قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں کسی بھی کم عمر فرد کے ساتھ جنسی تعلقات، استحصال یا بدسلوکی کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ بچوں کی عزت اور حفاظت سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ اسلام میں یہ بھی واضح ہے کہ رضامندی صرف بالغ اور بالغ فہمی والے افراد کے لیے ممکن ہے۔ کم عمر بچی یا لڑکی کی رضامندی کو کبھی قبول نہیں کیا جاتا۔ اس کی حفاظت والدین، معاشرہ اور قانون کی ذمہ داری ہے۔

اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ معاشرہ صرف قوانین اور ریاستی اداروں سے نہیں بلکہ اخلاق، تربیت اور تعلیم کے ذریعے مضبوط ہوتا ہے۔ والدین کو بچوں کو آسان پیسے، جھوٹے وعدے، یا مشکوک کاموں سے دور رکھنے کے لیے تربیت دینا چاہیے۔ بچوں کو اپنے حقوق، جسمانی حدود اور "نہیں" کہنے کا حق سمجھانا ضروری ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق والدین اور معاشرہ کھلی بات چیت، حفاظت اور رہنمائی کے ذریعے بچوں کو خطرات سے آگاہ کر سکتے ہیں۔

میں پہلے بھی اس قسم کے موضوعات پر انہی صفحات پر کافی کچھ لکھ چکا ہوں اور لکھتا رہوں گا، جیسے روحانی دہشتگردی، جس میں چرچ کے اندر بچوں، نوجوان لڑکیوں اور عام لوگوں کے ساتھ گزشتہ پانچ دہائیوں میں ہونے والی زیادتیوں کا تذکرہ کیا گیا۔ یہ جرائم سالوں تک چھپائے گئے، مگر اب عالمی میڈیا نے ان کے پردے کھول دیے ہیں۔ مغرب کی یہ دوہری پالیسی واضح کرتی ہے کہ وہ صرف اخلاقی اقدار کا علمبردار نہیں، بلکہ طاقتور لوگوں کے جرائم چھپانے میں بھی ماہر ہے۔

اسی طرح طبی دہشتگردی کے عنوان سے انہی صفحات پر سفید کوٹ پہن کر ہونے والے استحصال کا ذکر کیا گیا، جس میں بچوں اور نوجوان لڑکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ محض انفرادی کیسز نہیں، بلکہ ایک منظم نظام کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں طاقت، دولت اور شہرت کی آڑ میں بے بس لوگوں کا استحصال کیا جاتا ہے، اب اس مکروہ حقیقت کی تازہ مثال جیفرے ایپسٹین کیس ہے۔

اس ابلیس نما انسان کا پورا نام جیفرے ایڈورڈ ایپسٹین ہے جو کہ بروکلین نیویارک امریکہ میں جنوری 1953 میں ایک مالی کے گھر پیدا ہوا اور 66 سال کی عمر میں اس کی موت جیل میں واقع ہوئی اور سرکاری موقف کے مطابق اس نے خود کشی کی تھی۔

اب تھوڑا نظر ڈالتے ہیں کہ یہ ایپسٹین فائلز کیا ہیں۔ امریکی محکمۂ انصاف نے تقریباً 3 ملین صفحات (3,000,000) دستاویزات جاری کیے ہیں، جو کیس کی تفتیش، عدالت کے ریکارڈز، خطوط، ای میلز اور دیگر تحریری مواد پر مشتمل ہیں۔

اصل فائلز کُل 6 ملین صفحات تک سمجھے جاتے تھے، لیکن صرف نصف سے زیادہ حصہ اب تک عوامی طور پر جاری ہوا ہے۔

اس تازہ ریلیز میں تقریباً 180,000 تصاویر شامل ہیں، جن میں بعض تصاویر کیس سے متعلق اشیاء، ایپسٹین کے قریبی ریکارڈز اور مشہور شخصیات کے ساتھ تعلقات کی جھلک شامل ہو سکتی ہیں۔

جاری شدہ مواد میں تقریباً 2,000 ویڈیوز بھی شامل ہیں، جن میں کچھ کیس سے براہِ راست تعلق رکھتی ہیں اور کچھ دیگر متفرق ریکارڈز یا حملہ آور ویڈیوز ہو سکتی۔

اب دیکھتے ہیں کہ یہ پورا ڈرامہ کہاں اسٹیج کیا گیا۔ Little Saint James جس کا دوسرا نام ایپسٹین جزیرہ کے نام سے مشھور ہے۔ امریکی ورجن آئی لینڈز (United States Virgin Islands) میں واقع ہے، جو کیریبین سمندر میں ہیں۔ 70 ایکڑ (28 ہیکٹر) کے قریب رقبہ رکھتا ہے۔ جوکہ تقریباََ 40 فٹبال گراؤنڈ کے برابر ہوگا۔

یہ جزیرہ بہت ہی تنہائی والا ہے اور صرف نجی ہیلی کاپٹر یا ذاتی کشتی کے ذریعے پہنچے جا سکتے ہیں، جس کی وجہ سے ایپسٹین اسے اپنے پراسرار اور نجی مقاصد کے لیے استعمال کرتا تھا۔ ان فوٹوز/ویڈیوز میں جن شخصیات کو دکھایا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ھمارے ملک کے نوجوان آ ئیڈیل اور ھیرو سمجھتے ہیں۔ آپ کی معلومات کے لئے مندرجہ ذیل نام آئے ہیں۔

بل کلنٹن سابق امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ موجودہ امریکی صدر، ایلون مسک، بل گیٹس (Bill Gates)، ایہود باراک (Ehud Barak) سابق اسرائیلی وزیر اعظم، لارے سمرز سابق امریکی خزانہ سیکرٹری / ماہر اقتصادیات، پرنس اینڈریو (Prince Andrew) برطانیہ کے شاہی خاندان کا فرد۔

سارہ فرگوسن Duchess of York، شاہی خاندان سے تعلقات، مائیکل جیکسن عالمی مشہور گلوکار، مک جیگر Rolling Stones کے رہنما، ناؤمی کیمپبل سپرماڈل، کرس ٹکر اداکار/کامیڈین، ڈیوڈ کاپر فیلڈ (David Copperfield) جادوگر/انٹرٹینر، ریڈ ہافمی LinkedIn کے شریک بانی۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کو ھمارے ملک کے نوجوان آئیڈیل اور ہیرو سمجھتے ہیں۔ لیکن امید ہے کہ یہ کالم پڑھ کر آپ کے ھوش ٹھکانے آگئے ہونگیں۔ یہ سب اپنے وقت کے طاقتور ترین لوگ ہیں اور تھے لیکن مغرب کا قانون جن کے ھم گن گاتے ہیں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔

لیکن ان کا گھناؤنا اور غلیظ چہرہ اس میں آشکار ہوا ہے۔ شاید اسی لئے ہمارے علمائے کرام ہمیں یہ درس وقتاً فوقتاً دیتے رہتے ہیں کہ اگر آپ کو ھیرو اور آئیڈیل بنانا ہے تو صحابہ کرامؓ کو بنائیں جن کا ماضی، حال اور مستقبل ھمارے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے، ان جیسے مصنوعی ھیروز، مائیکل جیکسن، سپر مین، اسپائیڈر مین وغیرہ جیسے تصوراتی ھیروز کی زندگی کے پیچھے جانا چھوڑ دو۔

اس شیطانی جزیرے میں جو طریقہ واردات اختیار کیا گیا وہ یہ تھا کہ شروع میں 13 سے 17 سال کی بچیوں کو ابتدا میں مساج کے جھانسے میں بلایا گیا اور پھر آہستہ آہستہ انہیں ایک منظم جنسی استحصال اور پروسٹیٹیوشن کے نیٹ ورک کا حصہ بنایا گیا۔ اس نیٹ ورک میں بڑے شاہی خاندان کے افراد، عالمی بزنس ٹائیکون اور دیگر بااثر شخصیات شامل تھے۔ یہ کیس مغرب کی اخلاقی دھوکہ دہی کا ایک خوفناک اور عملی ثبوت ہے۔

مغربی میڈیا جسے ہم آزادیٔ اظہار اور شفافیت کی علامت سمجھتے ہیں، اکثر دوہرا معیار اختیار کرتا ہے۔ جہاں وہ چھوٹے ملکوں، کمزور طبقوں یا غیر مسلم معاشروں میں کسی بھی خلاف ورزی کو فوری اجاگر کرتا ہے، وہاں اپنی طاقتور شخصیات، امیر اور سیاسی حلقوں کے جرائم کو چھپانے یا کم کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔ جیفرے ایپسٹین کیس اس منافقت کی واضح مثال ہے: ایک طرف میڈیا نے متاثرہ لڑکیوں کی داستان کو کچھ حد تک دکھایا، مگر طاقتور شخصیات کے نام، کردار اور جزائر کی حقیقت کو چھپانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کو چھپانا یا طاقتور کے لیے رعایت کرنا ظلم ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور انصاف کرو، خواہ وہ تمہارے نزدیک رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں"۔ (سورۃ النساء، 4: 135)

یعنی کسی کی طاقت، دولت یا شہرت کی وجہ سے انصاف سے انحراف کرنا، چاہے وہ میڈیا کے ذریعے ہو، اسلامی تعلیمات کے مطابق بالکل ناقابل قبول ہے۔

Check Also

Muaqaf Apni Jagha Tijarat Apni Jagha

By Wusat Ullah Khan